شہرِقائد میں فیشن کی بہار

قیصر افتخار  منگل 17 اپريل 2018
دو روزہ فیشن پاکستان ویک میں معروف فنکاروں اور ماڈلزکی کیٹ واک۔ فوٹو: فائل

دو روزہ فیشن پاکستان ویک میں معروف فنکاروں اور ماڈلزکی کیٹ واک۔ فوٹو: فائل

دیکھا جائے تو ملک بھر میں فنون لطیفہ کی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن شہر قائد میں اس وقت ہونے والی شوبزسرگرمیاں اپنے عروج پرہیں۔

میوزک کنسرٹس کے ساتھ فلموں کی افتتاحی تقریبات کے علاوہ دیگرپروگرام شائقین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلہ میں کراچی میں ’ فیشن پاکستان کونسل ‘ کے زیر اہتمام فیشن پاکستان ویک 2018ء کا انعقاد کیا گیا۔

دوروزہ فیشن ویک میں جہاں فیشن ڈیزائنرز نے موسم کی مناسبت سے تیارکردہ جدید ملبوسات کی کولیکشن متعارف کروائیں، وہیں فلم، ٹی وی، میوزک اورفیشن کی صنعت سے تعلق رکھنے والے ستاروں کی بھرپورشرکت نے ایونٹ کو چار چاند لگا دیئے۔ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سیزن کا فیشن ویک بھی رنگارنگ اور جلوہ انگیز ثابت ہوا ۔ پہلے دن ملک کے 15بہترین فیشن ڈیزائنرز نے اپنے جدت سے مزین ملبوسات پیش کئے۔

تقریب کا آغاز ماہین خان نے کیا جنہوں نے اپنے برانڈ گلابو کے جدید ٹرینڈ متعارف کرائے جس کے بعد ہما عدنان نے فنک ایشیا، چینا چھاپڑا، حسن ریاض، یاسمین جیوا، دی پنک ٹری کمپنی، عامر عدنان اور فرح طالب عزیز نے اپنے کولیکشن ریمپ پرپیش کی جبکہ فیشن پاکستان ویک کے دوسرے روز دیپک پروانی نے ایونٹ کا باضابطہ آغاز کیا جس میں سائرہ شاکرہ، روزینہ منیب، کنول کی جانب سے پیش کردہ بوہیمی، نعمان عارفین، نتاشہ کمال اورعائشہ فاروق ہاشوانی نے سال کے جدید ٹرینڈز متعارف کروائے۔ ہر ڈیزائنر نے جدت اور کمال مہارت سے ملبوسات تیار کیے تھے جن کو بھرپور پذیرائی ملی۔

یہی نہیں پاکستان کی صف اول کی ماڈلز نے ریمپ پر واک کرتے ہوئے جہاں شائقین کو محظوظ کیا، وہیں معروف فنکاروں جن میں اداکارہ نیلم منیر، ثروت گیلانی، عائشہ طور، ژالے سرحدی، نورخان، زارا اسد صدیقی، نمرہ خان، علی خان، سائرہ شہروز، سفینہ بہروز، زوی وکاجی، حرا حُسین، حرا ترین، نادیہ حسین اور شرمیلہ فاروقی سمیت دیگر کی ریمپ پر آمد نے ایونٹ کو شرکاء کیلئے بہت یادگاربنا دیا۔

فیشن پاکستان ویک کے دونوں روزبہت سے ڈیزائنرز کا کام پیش کیا گیا لیکن کچھ ڈیزائنرکا کام ان کے تھیم کی وجہ سے منفرد رہااورتوجہ کامرکز بنارہا جن میں چینا چھاپڑا کا شو کئی زاویوں سے مختلف رہا جس میں بزرگ خواتین سمیت امید سے خواتین نے ریمپ پر چل کر پاکستان میں ایک نئی مثال قائم کی۔

یہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا جس میں خواتین نے اپنی عمر کو بجائے کمزوری سمجھنے کے اپنی طاقت بناکر پیش کیا۔ اپنے فیشن کے فلسفے کے عین مطابق ہر طبقے کی خاتون کیلئے دیدہ زیب ملبوسات متعارف کروائے۔ حسن ریاض کی جانب سے پیش کردہ پیراڈائز میراج کولیکشن اخلاقی روح کی بصری کہانی ہے۔

اس کولیکشن کی تھیم معصوم بچوں کا استحصال اور جبری مشقت کے خلاف سماج کی آواز تھی۔ یہ ہمارے سماج کا افسوسناک پہلو ہے جہاں بچوں کو فقط مزدور سمجھا جاتا ہے۔ شوخ رنگوں سے مزین ملبوسات نے جہاں بچوں کی فطری کھلکھلاہٹ کا عکس دیا، وہیں لیدرسلک اور اورگینزا کے استعمال نے ان میں چار چاند لگادیے۔

سائرہ شاکرہ نے گرمیوں کی مناسبت سے کپڑے تخلیق کئے جن میں پتھروں، پرلز، ڈوری کا کام اور تھری ڈی دستکاری کی گئی تھی۔ نفاست سے کیا گیا باریک کام لوگوں کو بہت پسند آیا جنہوں نے داد دے کر اپنی پسند کا اظہار کیا۔ روزینہ منیب نے گلیمورامہ میں ہاتھ سے بنے کپڑے اور کڑھائی کی رونمائی کی ۔

اس میں استعمال ہونے والی ڈیزائننگ ہاتھ سے کی گئی جیسے کہ تھری ڈی فلاور، میٹل کی اسٹرپس، شیشے کا کام، کرسٹل، پرلز اور دیگر کو بہت عمدگی سے ملبوسات میں پرویا گیا۔ کنول کی کولیکشن کا مرکزی خیال کٹھ پتلی سے لیا گیاجو وہ بچپن میں دیکھا کرتی تھیں۔ ماڈلز نے ریمپ پر ہاتھ سے بنی دستکاری سے مزین لباسوں کی تشہیر کی۔

ہر لباس لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہا۔ نتاشہ کے ڈیزائن ماربلنگ کو پیش کرتے ہیں، ملبوسات پر بنے ٹیکسچر کو متنوع طریقے سے تخلیق کیا گیا۔ نتاشہ کی رینج کو بہت پسند کیا گیا۔ عائشہ فاروق کی کولیکشن سلک، ساٹن، شیفون اور ماضی رفتہ کے ڈیزائنوں کا ازسر نو احیاء تھا۔ ہر لباس منفردتھا جو بہترین فیبرک کے استعمال پر تیار کیا گیا۔

’’ ایکسپریس ‘‘ سے گفتگوکرتے ہوئے فیشن پاکستان کونسل کے چیئرمین اور پاکستان کے نامور ڈیزائنر دیپک پروانی نے کہا کہ اس موقع پر اپنی پوری ٹیم کو ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے بیک اسٹیج اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کیا ہے، میں اُن کا تہہ دل سے مشکور ہوںکیونکہ اُن کی ہی دن و شب کی محنت سے فیشن پاکستان ویک 2018ء کا انعقاد ممکن ہوسکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس بار پاکستان بھر سے نئے ڈیزائنرز کوبھی موقع دیا تاکہ وہ اپنے ڈیزائنز کو عوام الناس کے سامنے پیش کریں۔

فیشن ڈیزائنرماہین خان نے کہا کہ لبریشن کے عنوان سے تیارکردہ کولیکشن نرم و ملائم کپڑے سے موسم کی مناسبت پر تیارکئے گئے ہیں جن کے ڈیزائن نہایت ہی دیدہ زیب اور قابل توجہ ہیں۔ ہما عدنان نے کہا کہ اپنے کلیکشن کو سماجی انصاف کے پیراہے میں عوام الناس کے سامنے پیش کیا۔

پیگا فارسی کا لفظ ہے جس کا مطلب صبح کی پہلی کرن یعنی ایسے مہاجروں کے ساتھ ہمدردی کرنا جو پاکستان میں سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر ہماعدنان نے پناہ گزین خواتین کے ہاتھ سے بنے زیورات اور دستکاری کو اپنی کلیکشن کا حصہ بنایا تاکہ ایسی خواتین کو بااختیار بنایا جاسکے۔

یاسمین جیوا نے کہا کہ میری کولیکشن سلور گرے، ونڈی بلیواور سلور مسٹ رنگوں سے تیار کردہ ہے، جن میں سٹرس اور شوخ سرخ رنگ کا کام بہت ہی منفردیت کا حامل تھا۔ اس میں استعمال ہونے والی کڑھائی جس میں ثقافتی شیشے اور متفرق رنگ کے دھاگوں کا استعمال اور فیتوں کی نمود نے ریمپ پر واک کرتی ماڈلز بہترین رسپانس دلوانے میں مدد کی۔

عامر عدنان نے کہا کہ فیشن پاکستان ویک میں تاریخ رقم کی جب انہوں نے سماعت سے محروم ماڈلز کو ریمپ پر واک کروا کے انہیں بھرپور خود اعتمادی عطا کی۔ عامر کی کولیکشن روایتی انداز سے مزین ماحولیات کا احساس لئے ڈیزائن کی گئی تھی۔ جس میں قدیم طرز کی شیروانیاںاور موجود ہ میٹریل کے استعمال سے کچھ ایسے دلکش ڈیزائن ترتیب دیئے کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ گئے۔

اس موقع پر حاضرین کی بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ اس طرح کے خوبصورت ایونٹس کا انعقاد ملک بھر میں ہونا چاہئے۔ فنون لطیفہ کے تمام شعبے جہاں ہمیں دنیا کے خوبصورت رنگوں سے متعارف کرواتے ہیں، وہیں ان کے انعقاد سے پاکستان کا سافٹ امیج پوری دنیا تک پہنچتاہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔