آسٹریلوی گالفر ایڈم اسکاٹ نے نئی تاریخ رقم کردی
آگسٹا ماسٹرز میں کامیابی نے ’ گرین جیکٹ‘ زیب تن کرنے کا موقع فراہم کر دیا
آگسٹا ماسٹرز میں کامیابی نے ’ گرین جیکٹ‘ زیب تن کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ فوٹو: فائل
ایڈم اسکاٹ نے جارجیا میں منعقدہ آگسٹا ماسٹرز گالف ٹورنامنٹ جیت کر نئی تاریخ رقم کردی۔
وہ پلے آف میں ارجنٹائن کے اینجل کیبریرا سے آگے نکل کر' گرین جیکٹ' زیب تن کرنے والے پہلے آسٹریلوی گالفر بنے، اس کامیابی نے ان کی برٹش اوپن میں شکست کا غم بھی کچھ کم کردیا، اسکاٹ سے قبل آسٹریلیا کے گریگ نورمن1996 میں آگسٹا ماسٹرز جیتنے کے قریب پہنچے لیکن انھیں فائنل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، 32 سالہ گالفرکو اس بے مثال کامیابی پر آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے بھی مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے، انھوں نے ایڈم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ''آپ کا گالف ایونٹ جیتنا آسٹریلیا کے تاریخی اسپورٹس لمحات میں سے ایک ہے۔
1934 سے جاری ایونٹ میں آپ سے قبل کوئی بھی آسٹریلوی گالفر ٹائٹل نہیں جیت پایا تھا لیکن آپ نے 'گرین جیکٹ' پاکر ملکی وقار میں اضافہ کردیا، آپ کی اس غیرمعمولی کامیابی پر پورے ملک کو فخر ہے''۔ یاد رہے کہ گالف ماسٹرز ایونٹ میں آسٹریلیا کے کھلاڑی اب تک 8 مرتبہ رنر اپ بنتے رہے لیکن ایڈم کی تاریخی فتح نے ٹائٹل نہ جیتنے کے جمود کو ختم کر دیا،آسٹریلوی وزیر کھیل کیٹ لاؤنڈے کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایڈم کے لیے ہی شاندار خبر نہیں بلکہ ان سے قبل آگسٹا میں کھیلنے والے اور نوجوان آسٹریلوی گالفرز کے لیے قابل تقلید مثال ہے، گالف کو ریو 2016 کے اولمپکس کا بھی حصہ بنالیاگیا ہے۔
ایڈم کی فتح کے بعد یقینی طور پر آسٹریلوی کی نئے گالفرز کو بھی اس کھیل میں مزید کارہائے نمایاں انجام دینے کیلیے ترغیب ملے گی،ایڈم سے قبل آسٹریلیا کے دیگر گالفرز آگسٹا کے سوا دیگر بڑے ایونٹس جیت چکے ہیں،اس جیت پر انھیں سابق پلیئرز نے بھی خراج تحسین ادا کیا، آسٹریلوی کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف پال مارش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ ہم نے گذشتہ 30 برس سے زائد عرصے میں ماسٹرز گالف ایونٹس میں اپنے پلیئرز کو کامیابی کے پاس آکر اس سے محروم دیکھا لیکن ایڈم کی فتح درحقیقت جادوئی لمحات ہیں، اولمپک میراتھن رنر روبرٹ ڈی کیسٹیلا اور تین مرتبہ کے ماسٹرز ایونٹ کے رنر اپ گریگ نورمن نے بھی ایڈم کو سیلوٹ کیا۔
وہ پلے آف میں ارجنٹائن کے اینجل کیبریرا سے آگے نکل کر' گرین جیکٹ' زیب تن کرنے والے پہلے آسٹریلوی گالفر بنے، اس کامیابی نے ان کی برٹش اوپن میں شکست کا غم بھی کچھ کم کردیا، اسکاٹ سے قبل آسٹریلیا کے گریگ نورمن1996 میں آگسٹا ماسٹرز جیتنے کے قریب پہنچے لیکن انھیں فائنل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، 32 سالہ گالفرکو اس بے مثال کامیابی پر آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے بھی مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے، انھوں نے ایڈم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ''آپ کا گالف ایونٹ جیتنا آسٹریلیا کے تاریخی اسپورٹس لمحات میں سے ایک ہے۔
1934 سے جاری ایونٹ میں آپ سے قبل کوئی بھی آسٹریلوی گالفر ٹائٹل نہیں جیت پایا تھا لیکن آپ نے 'گرین جیکٹ' پاکر ملکی وقار میں اضافہ کردیا، آپ کی اس غیرمعمولی کامیابی پر پورے ملک کو فخر ہے''۔ یاد رہے کہ گالف ماسٹرز ایونٹ میں آسٹریلیا کے کھلاڑی اب تک 8 مرتبہ رنر اپ بنتے رہے لیکن ایڈم کی تاریخی فتح نے ٹائٹل نہ جیتنے کے جمود کو ختم کر دیا،آسٹریلوی وزیر کھیل کیٹ لاؤنڈے کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایڈم کے لیے ہی شاندار خبر نہیں بلکہ ان سے قبل آگسٹا میں کھیلنے والے اور نوجوان آسٹریلوی گالفرز کے لیے قابل تقلید مثال ہے، گالف کو ریو 2016 کے اولمپکس کا بھی حصہ بنالیاگیا ہے۔
ایڈم کی فتح کے بعد یقینی طور پر آسٹریلوی کی نئے گالفرز کو بھی اس کھیل میں مزید کارہائے نمایاں انجام دینے کیلیے ترغیب ملے گی،ایڈم سے قبل آسٹریلیا کے دیگر گالفرز آگسٹا کے سوا دیگر بڑے ایونٹس جیت چکے ہیں،اس جیت پر انھیں سابق پلیئرز نے بھی خراج تحسین ادا کیا، آسٹریلوی کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف پال مارش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ ہم نے گذشتہ 30 برس سے زائد عرصے میں ماسٹرز گالف ایونٹس میں اپنے پلیئرز کو کامیابی کے پاس آکر اس سے محروم دیکھا لیکن ایڈم کی فتح درحقیقت جادوئی لمحات ہیں، اولمپک میراتھن رنر روبرٹ ڈی کیسٹیلا اور تین مرتبہ کے ماسٹرز ایونٹ کے رنر اپ گریگ نورمن نے بھی ایڈم کو سیلوٹ کیا۔