ہزارہ برادری کا دھرنا ختم

ہزارہ برادری کے غیر معمولی احتجاج کا بروقت نوٹس لے کر عسکری اور سیاسی قیادت نے صائب پیش رفت کی ہے۔

ہزارہ برادری کے غیر معمولی احتجاج کا بروقت نوٹس لے کر عسکری اور سیاسی قیادت نے صائب پیش رفت کی ہے۔ فوٹو: فائل

ہزارہ برادری نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے، آرمی چیف منگل کی رات کوئٹہ پہنچے تھے جہاں ہزارہ برادری کے عمائدین نے ان سے ملاقات کی، جس میں صوبائی وزیر سید آغا رضا، علامہ جمعہ اسدی، حاجی قیوم نذر چنگیزی، احمد علی کوہزاد، سابق رکن قومی اسمبلی آغا ناصر عباس شاہ اور دیگر شامل تھے۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم احمد انجم، آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری اور دیگر بھی موجود تھے۔

ہزارہ برادری کے غیر معمولی احتجاج کا بروقت نوٹس لے کر عسکری اور سیاسی قیادت نے صائب پیش رفت کی ہے۔ اس بلاتاخیر اقدام سے یقیناً ان بداندیش عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے میں مدد ملے گی جو بلوچستان کی نئی حکومت اور سیاسی استحکام و امن کو سنگین بحران میں ڈالنے کی سازش میں غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر سرگرم ہیں۔

یہ الم ناک حقیقت ہے کہ دہشتگرد، انتہاپسند اور مذہبی و فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی مکروہ سازشوں کی آڑ میں پرامن ہزارہ برادری کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، مگر بنیادی سوالات صوبہ کی سیکیورٹی اور امن و امان کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال کو بدامنی کی نذر کرنے والوں کی کھلی چھوٹ سے ابھرتے ہیں ۔

جس کی نشاندہی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بدھ کو لیے گئے از خود نوٹس میں کی ہے، چیف جسٹس نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا ازخود نوٹس ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران لیا، اور آئی جی بلوچستان معظم جاہ سمیت پولیس، لیویز اور سیکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کی، چیف جسٹس نے ہدایت کی ہے کہ 11 مئی کو مذکورہ تمام حکام عدالت کے روبرو اپنی رپورٹ کے ساتھ پیش ہوں۔


سوچنے کا مقام ہے کہ پاکستان کتنے درد انگیز داخلی خطرات سے دوچار ہے جہاں قدرتی معدنیات سے مالامال صوبہ کو سیکیورٹی کے حوالہ سے ہولناک چیلنجوں کا سامنا ہے، شورش اور دہشتگردی کے دو طرفہ عفریت نے نئی حکومت کو محاصرہ میں لے لیا ہے، ارباب اختیار اور سیکیورٹی اداروں کو بلوچستان میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خطرات کا جلد سدباب کرنا چاہیے، جس میں ہزارہ برادری کی نسل کشی کے غیر انسانی محرکات اور وارداتوں کے سدباب کے لیے ایک آل آؤٹ وار کی سخت ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہزارہ برادری کے قتل عام میں ملوث افراد کھلے عام جلسے کررہے ہیں۔

کیا ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نہیں، ان کے بچے اسکول اور کالج نہیں جاسکتے، حکام کو چیف جسٹس کے اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ امن وامان برقرار رکھنا کس کی ذمے داری ہے، کیا سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کا کام نہیں۔ یہ عدالتی انتباہ اس لیے چشم کشا ہے کہ بدھ کی صبح بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے ایک برہم شخص نے شدید فائرنگ کی جسے پولیس نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، ایسے ہی عناصر دیدہ دلیری کی اندوہناک وارداتیں کرتے ہوئے ہزارہ برادری کو مسلسل نشانہ بنائے ہوئے ہیں، ان کی مکمل بیخ کنی اب ناگزیر ہے، اس سنگین صورتحال کا تدارک سیکیورٹی میکنزم کی بار بار ناکامی سے ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔

اگلے روز آئی جی بلوچستان نے ایک نجی ٹی وی چینل پر اپنی پولیس فورس کی لاچاری اور لازمی سہولتوں کے فقدان پر جو کچھ کہا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان عالمی قوتوں کے بھی ٹارگٹ پر ہے ، لہٰذا ملک دشمن عناصر امن کو نقصان پہنچانے کی تاک میں لگے ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف اور ہزارہ کمیونٹی کے معتبرین کے درمیان ملاقات رات گئے تک جاری رہی، جس میں سیکیورٹی معاملات، ہزارہ برادری کے تحفظات پر فوری ایکشن کے بعد ہزارہ برادری نے دھرنا ختم کرنے کا صائب اعلان کر دیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے متعدد واقعات ہوئے، جن میں ہزارہ برادری کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، ادھر پاراچنارکی سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے مشترکہ طور پر کوئٹہ میں ہزارہ نسل کشی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، حکومت سے دہشتگردی روکنے اور ہزارہ برادری کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے اور تحفظ نہ ملنے کی صورت میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حکمران یکطرفہ حکومت چلارہے ہیں، دریں اثنا مذہبی رہنماؤں نے اپنے بیانات میں کوئٹہ شہر میں جاری دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ شہر کا امن تباہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔ اس بات سے کسی کو شاید ہی انکار ہو کہ بلوچستان کثیر جہتی مسائل اور مصائب کا شکار ہے، سٹیبلشمنٹ مسئلہ کا جو حل نکالنا چاہتی ہے اسے بلوچ قوم پرستانہ تحریک اور مین اسٹریم سیاست دانوں کا ہمہ جہتی اعتماد حاصل ہونا چاہیے، اگر وسیع تر پولیٹیکل مکالمہ کا در کھلا رہے تو شدت پسندی کا ہر در بند ہوسکتا ہے۔ یہ تجربہ کرکے بھی دیکھ لیں۔
Load Next Story