این ایل سی بھی 24 کروڑ 50 لاکھ روپے کا ٹیکس نادہندہ نکلا
این ایل سی نے حبیب کنسٹرکشن سے 245 ملین ٹیکس جمع کیا مگر قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا، چیئرمین ایف بی آر
این ایل سی نے حبیب کنسٹرکشن سے 245 ملین ٹیکس جمع کیا مگر قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا، ایف بی آر فوٹو:فائل
MULTAN:
قومی ادارہ نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے 245 ملین روپے کے ٹیکس نادہندہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں خورشید شاہ کی زیرِصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ایف بی آر کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ این ایل سی نے حبیب کنسٹرکشن سے 245 ملین ( 24 کروڑ 50 لاکھ) روپے ٹیکس جمع کیا مگر قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ این ایل سی سے مختلف منصوبوں کے جمع کرائے گئے ٹیکسز کی تفصیلات مانگی ہیں، لیکن این ایل سی کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا اب تیسرا اور آخری نوٹس دے دیا ہے، ہماری طرف سے این ایل سی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: این ایل سی اسکینڈل؛ 2 ریٹائرڈ فوجی افسران کو سزا سنا دی گئی
پی اے سی کے رکن اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ کیا این ایل سی اتنا بڑا جن ہے کہ جواب نہیں دے رہا، دو سال سے اس معاملے پر کوئی پیشرفت کیوں نہیں ہوئی، این ایل سی سمیت کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں۔
قومی ادارہ نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے 245 ملین روپے کے ٹیکس نادہندہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں خورشید شاہ کی زیرِصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ایف بی آر کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ این ایل سی نے حبیب کنسٹرکشن سے 245 ملین ( 24 کروڑ 50 لاکھ) روپے ٹیکس جمع کیا مگر قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ این ایل سی سے مختلف منصوبوں کے جمع کرائے گئے ٹیکسز کی تفصیلات مانگی ہیں، لیکن این ایل سی کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا اب تیسرا اور آخری نوٹس دے دیا ہے، ہماری طرف سے این ایل سی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: این ایل سی اسکینڈل؛ 2 ریٹائرڈ فوجی افسران کو سزا سنا دی گئی
پی اے سی کے رکن اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ کیا این ایل سی اتنا بڑا جن ہے کہ جواب نہیں دے رہا، دو سال سے اس معاملے پر کوئی پیشرفت کیوں نہیں ہوئی، این ایل سی سمیت کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں۔