کوئٹہ میں کوئلے کی کانوں میں حادثات
کانوں میں حادثات پوری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن وہاں کان کنوں کی حفاظت کے لیے بھرپور انتظامات کیے جاتے ہیں۔
کانوں میں حادثات پوری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن وہاں کان کنوں کی حفاظت کے لیے بھرپور انتظامات کیے جاتے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی 2 کانیں بیٹھ جانے سے 18کان کن جاں بحق اور 9زخمی ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقوں شانگلہ اور سوات سے بتایا گیا ہے' اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے مارواڑ میں کان میتھین گیس بھر جانے سے دھماکے سے بیٹھی جب کہ پی ایم ڈی سی کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے حادثہ پیش آیا۔
سرکاری سطح پر اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ کوئلے کی کانوں میں ایسا افسوسناک حادثہ پہلی بار نہیں ہوا، اس سے پیشتر بھی متعدد حادثات رونما ہو چکے جن میں درجنوں کان کن اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔دنیا بھر میں ان حادثات کے باعث کان کنی ایک خطرناک کام تصور کیا جاتا جہاں کسی بھی وقت انسانی جانیں جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
کانوں میں حادثات پوری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن وہاں کان کنوں کی حفاظت کے لیے بھرپور انتظامات کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بھی انتظامات بہترین ہوتے ہیں اور ان حادثات کی وجوہات تلاش کرنے کے بعد ان کے انسداد کے لیے خلوص نیت سے اقدامات کیے جاتے ہیں جس کے باعث وہاں حادثات میں نمایاں کمی آ جاتی اور انسانی جانیں قدرے محفوظ ہو جاتی ہیں۔
اس حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جارہا ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں ایک حادثے کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا رونما ہوتا چلا جاتا ہے لیکن انسانی جانوں کو بچانے کے لیے روایتی لاپروائی اور تساہل سے کام لیا جاتا ہے' حکام وقتی طور پر جذباتی بیانات اور حادثے کے متاثرین کو معمولی معاوضہ دے کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انھوں نے اپنی ذمے داری پوری کر لی جب کہ اصل کام حادثات کا مناسب اور بروقت انسداد ہے مگر اسے درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔
سائنس اور ٹیکنالوجی پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں شاید سب سے سستی عام آدمی کی زندگی ہے جس کی بقا کے لیے اقدامات کرنا حکام کی نظر میں ایک بے معنی اور فضول امر ہے۔ اعدادوشمار دیکھے جائیں تو ہمارے ہاں ٹریفک حادثات اور دیگر واقعات میں جتنے افراد ہلاک ہوتے ہیں اتنے فطری موت نہیں مرتے۔ٹریفک حادثات کی خبریں روز شائع ہوتی ہیں مگر حکومت اسے معمول کی کارروائی سمجھتے ہوئے اس سے صرف نظر کر جاتی ہے۔
بلوچستان میں جو حادثہ ہوا، اس کی تحقیقاتی ہونی چاہیے اور اس کی روشنی میں ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثوں سے بچا جا سکے، جہاں مزدوروں کے معاوضے میں اضافے کے علاوہ انھیں بہتر سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے وہاں کانوں میں ہونے والے حادثات کے انسداد کے لیے بھی جدید ترین اقدامات کرنا وقت کا تقاضا ہے۔
سرکاری سطح پر اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ کوئلے کی کانوں میں ایسا افسوسناک حادثہ پہلی بار نہیں ہوا، اس سے پیشتر بھی متعدد حادثات رونما ہو چکے جن میں درجنوں کان کن اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔دنیا بھر میں ان حادثات کے باعث کان کنی ایک خطرناک کام تصور کیا جاتا جہاں کسی بھی وقت انسانی جانیں جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
کانوں میں حادثات پوری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن وہاں کان کنوں کی حفاظت کے لیے بھرپور انتظامات کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بھی انتظامات بہترین ہوتے ہیں اور ان حادثات کی وجوہات تلاش کرنے کے بعد ان کے انسداد کے لیے خلوص نیت سے اقدامات کیے جاتے ہیں جس کے باعث وہاں حادثات میں نمایاں کمی آ جاتی اور انسانی جانیں قدرے محفوظ ہو جاتی ہیں۔
اس حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جارہا ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں ایک حادثے کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا رونما ہوتا چلا جاتا ہے لیکن انسانی جانوں کو بچانے کے لیے روایتی لاپروائی اور تساہل سے کام لیا جاتا ہے' حکام وقتی طور پر جذباتی بیانات اور حادثے کے متاثرین کو معمولی معاوضہ دے کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انھوں نے اپنی ذمے داری پوری کر لی جب کہ اصل کام حادثات کا مناسب اور بروقت انسداد ہے مگر اسے درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔
سائنس اور ٹیکنالوجی پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں شاید سب سے سستی عام آدمی کی زندگی ہے جس کی بقا کے لیے اقدامات کرنا حکام کی نظر میں ایک بے معنی اور فضول امر ہے۔ اعدادوشمار دیکھے جائیں تو ہمارے ہاں ٹریفک حادثات اور دیگر واقعات میں جتنے افراد ہلاک ہوتے ہیں اتنے فطری موت نہیں مرتے۔ٹریفک حادثات کی خبریں روز شائع ہوتی ہیں مگر حکومت اسے معمول کی کارروائی سمجھتے ہوئے اس سے صرف نظر کر جاتی ہے۔
بلوچستان میں جو حادثہ ہوا، اس کی تحقیقاتی ہونی چاہیے اور اس کی روشنی میں ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثوں سے بچا جا سکے، جہاں مزدوروں کے معاوضے میں اضافے کے علاوہ انھیں بہتر سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے وہاں کانوں میں ہونے والے حادثات کے انسداد کے لیے بھی جدید ترین اقدامات کرنا وقت کا تقاضا ہے۔