راولپنڈی میں پولیس تشدد سے جاں بحق شخص کا مقدمہ اہلکاروں کے خلاف درج

منصور کو گردوں کی جگہ لاتیں ماری گئیں اور اسے پانی بھی نہیں پلایا گیا جس کی وجہ سے موت واقع ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ

منصور کو گردوں کی جگہ لاتیں ماری گئیں اور اسے پانی بھی نہیں پلایا گیا جس کی وجہ سے موت واقع ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ : فوٹو : فائل

تھانہ صدر بیرونی پولیس کی حراست اور مبینہ تشدد سے شہری کی ہلاکت کا مقدمہ پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی میں حراست میں لئے گئے منصور کی ہلاکت کا مقدمہ پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ گزشتہ روز منصور نامی شخص کی تھانے میں ہلاکت ہوگئی تھی، اور لواحقین نے الزام لگایا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے منصور کو 4 روز تک تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کی ہلاکت ہوئی۔


ہلاک ہونے والے منصور کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گردوں کی جگہ لاتیں ماری گئیں جب کہ منصور کو پانی بھی نہیں پلایا گیا جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او راجہ اختر، سب انسپیکٹر بلال اور 2 اہلکاوں کو معطل کرکے ان کے خلاف تھانہ سول لائنز میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب منصور کی نمازِ جنازہ ہارلے اسٹریٹ مٰں ادا کردی گئی ہے جس میں پولیس افسران سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، مقتول منصور کے بھائی حسیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس افسران نے انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم پولیس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔

Load Next Story