گورنمنٹ کالج گلشن اقبال انٹر کی امتحانی کاپیاں ’’سینٹر‘‘ سے باہر لے جا کر حل کرنے کا انکشاف

امتحانی مرکزکے اندرعلیحدہ کمرہ مختص کرکے پولیس افسرکے بیٹے سمیت دیگرامیدواروں کوکھلے عام نقل کرائی جانے کی بھی اطلاعات

بورڈشفاف امتحان کرانے میں ناکام،نقل کے حوالے سے ناظم امتحانات اورکاپیاں باہرحل کرنے کے حوالے سے ڈپٹی کنٹرولرکی تصدیق۔ فوٹو: فائل

SYDNEY:
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت جاری انٹرکے سالانہ امتحانات کے دوران گورنمنٹ گلشن اقبال بوائز کالج بلاک 7میں کھلے عام نقل کے ساتھ ساتھ امتحانی کاپیاں ''سینٹر''سے باہرلے جاکرحل کرنے کاانکشاف ہوا ہے۔

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے افسران کی جانب سے متواترکئی روزتک مذکورہ کالج کے اچانک دوروں کے موقع پر اس بات کاانکشاف ہواہے تاہم بورڈانتظامیہ یہ صورتحال سامنے آنے کے باوجود کالج میں شفاف امتحانات کرانے میں مکمل طورپرناکام ہوگئی ہے جبکہ معلوم ہواہے کہ نقل اورکاپیاں امتحانی مرکز سے باہرلے جاکرپرچے حل کرنے کے کیسز سامنے آنے کے باوجود سینٹرسپرنٹنڈنٹ کالج پرنسپل کسی قسم کی رپورٹ بنانے کے لیے تیارنہیں ہے اوربورڈانتظامیہ بھی کالج انتظامیہ کے آگے اس ساری صورتحال پر ہتھیارڈال چکی ہے۔

مزیدبراں دوسری جانب صوبائی محکمہ کالج ایجوکیشن اس ساری صورتحال سے لاتعلق ہے سیکریٹری کالج ایجوکیشن نے امتحان کے پہلے روز اپنے دفترسے قریب ہی واقع گورنمنٹ ڈی جے سائنس کالج کا دورہ کیاجس کے بعد سے تاحال ایک جانب پورے شہرمیں انٹرکے امتحانات جاری ہیں دوسری جانب سیکریٹری کالج اپنے دفترسے بیٹھ کران امتحانات کومانیٹرکرنے کی کوشش کرتے ہیں محکمہ کی جانب سے کوئی ویجلنس ٹیم ہے نہ وہ خود کالجوں کادورہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔


ادھر ''ایکسپریس''کوذرائع نے بتایاکہ گورنمنٹ گلشن اقبال کالج میں جب مسلسل دوروز تک بورڈ کے مختلف افسران نے اس ادارے کادورہ کیاتوپابندی کے باوجود کالج میں امیدوارکے پاس سے موبائل فونزکے ساتھ ساتھ نقل کابے انتہامواد برآمد ہوااور بورڈکی جانب سے تعینات ویجلنس افسر اسسٹنٹ پروفیسرفیصل جبکہ بورڈ کے ڈپٹی کنٹرولرعظیم صدیقی نے نقل اورامتحانی کاپیاں مرکزسے باہرلے جانے کی رپورٹ سینٹرسپریٹنڈنٹ کوپیش کی تووہ اس رپورٹ پر دستخط کے لیے ہی تیارنہیں ہوئیں۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو مزید بتایاکہ بورڈ کے افسران کی موجودگی میں دو امیدواردوران امتحان کالج کے اندرداخل ہوئے جب ان کی چیکنگ کی گئی توان کے پاس سے امتحانی کاپیاں برآمد ہوئیں برآمد کی گئی کاپیاں بھی کالج سپریٹنڈنٹ کے حوالے کی گئی تاہم اس کی رپورٹ بھی انھوں نے بورڈ کونہیں بھجوائی ''ایکسپریس''کے رابطہ کرنے پر قائم مقام ناظم امتحانات محمدجعفرنے کالج میں نقل کی بدترین صورتحال کی تصدیق کی اوربتایاکہ تین کیسز کالج سے رپورٹ ہوئے ہیں کالج کادورہ کرنے والے ڈپٹی کنٹرولرعظیم صدیقی سے جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کالج کے دورے کے موقع پر ویجلنس افسرنے کم از کم دوایسی امتحانی کاپیاں برآمد کی تھیں جنھیں کالج کے باہرسے حل کرکے لایاجارہاتھاجسے باقاعدہ پرنسپل کورپورٹ بھی کیاگیاتاہم انھوں نے مزیدتبصرے سے انکارکردیا۔

علاوہ ازیں اس معاملے پر کالج پرنسپل پروفیسرزبیدہ نسرین سے رابطہ کیاگیاتوان کاکہناتھاکہ ایساکچھ نہیں ہے کچھ بچے نقل کرتے ہیں توانھیں کنٹرول کیاجاتاہے تاہم بورڈ کے افسرآتے ہیں اورپرنسپل واساتذہ سے بدتمیزی کرتے ہیں انھوں نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ عظیم صدیقی سمیت دیگرآئے تھے جوبچے پانی پینے گئے ہوئے تھے ان کی کاپیاں بھی ضبط کرلی موبائل فون ،کاپیاں اورایڈمٹ کارڈ اپنے ہمراہ لے گئے اورواپس نہیں کی انھوں نے کہاکہ وہ مسلح گارڈ کے ساتھ کالج آئے تھے۔

ادھراس سوال پر بورڈ کے افسرعظیم صدیقی کاکہناتھاکہ چیئرمین بورڈ نے انھیں گارڈکے ساتھ بھیجاتھاکیونکہ کالج میں صورتحال اس قدرخراب ہے کہ وہاں سے گارڈکے ساتھ ہی جاناپڑا۔
Load Next Story