قلت آب سے نمٹنے کیلئے 125 سالہ قدیم کنوئوں کی بحالی کا فیصلہ
ملیراورسکھن ندی سے ریتی وبجری کی چوری سے کنوئوں میں پانی کی سطح...
شاہراہ لیاقت کے اطراف کی آبادی کے رہائشی نونہال سرکاری برمے سے پانی لے رہے ہیں۔ فوٹو ایکسپریس
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے شہر میں پانی کے بحران سے نمٹنے کیلیے125سا لہ قدیم کنوئوں کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے ،ڈملو ٹی کے مقام پر متعدد کنوئیں طویل عرصے سے ناکارہ پڑ ے ہیں، واٹر بورڈ نے ان کنوئوںکودوبارہ بحال کرکے یومیہ15ملین گیلن پانی حا صل کر نے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جس پر بہت جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
کنوئوںکی بحالی سے کراچی میں پانی کے بحران پر قا بو پانے میں مدد ملے گی ،اس ضمن میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈکے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید نے واٹر بورڈ کے افسران کے ساتھ اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا جس میں ان کنوئوں کی دوبارہ بحالی کے سلسلے میں اقدامات کا جائزہ لیا گیا،اجلاس کے دوران ایم ڈی واٹر بورڈ کی ہدایت پر ایک سروے رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ 125سال قبل کراچی کو ڈملوٹی کے مقام سے کنوئوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا تھا۔
بعد ازاںملیر اور سکھن ندی سے ریتی و بجری کی مسلسل چوری کے سبب پانی کی سطح بہت زیادہ نیچی ہوتی چلی گئی پانی مزید زیر زمین جانے کی وجہ سے125 سال قبل کھو دے جانے والے کنو ئوں اور ان کی گیلریز میں پانی آنے کا عمل رک گیا، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اور زیادہ زیر زمین جانے سے دوبارہ ان کنوئوں سے 12 تا 15 ملین گیلن یو میہ پانی کی دستیابی ممکن ہو سکے گی، سینئر افسران اور کنسٹلنٹ سے مشاورت کے بعد ایم ڈی واٹر بورڈ نے ہدایت کی کہ ان کنوئوں کی بحالی کیلیے فوری اقدامات کیے جائیں یہاں سے پانی حاصل کرنے کیلیے دو چیزوں کو یقینی بنانا ہوگا اول یہ کہ ملیر ندی سے جو ریت نکالی جارہی ہے اس کو فوری طور پر روکا جائے۔
کنوئوںکی بحالی سے کراچی میں پانی کے بحران پر قا بو پانے میں مدد ملے گی ،اس ضمن میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈکے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید نے واٹر بورڈ کے افسران کے ساتھ اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا جس میں ان کنوئوں کی دوبارہ بحالی کے سلسلے میں اقدامات کا جائزہ لیا گیا،اجلاس کے دوران ایم ڈی واٹر بورڈ کی ہدایت پر ایک سروے رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ 125سال قبل کراچی کو ڈملوٹی کے مقام سے کنوئوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا تھا۔
بعد ازاںملیر اور سکھن ندی سے ریتی و بجری کی مسلسل چوری کے سبب پانی کی سطح بہت زیادہ نیچی ہوتی چلی گئی پانی مزید زیر زمین جانے کی وجہ سے125 سال قبل کھو دے جانے والے کنو ئوں اور ان کی گیلریز میں پانی آنے کا عمل رک گیا، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اور زیادہ زیر زمین جانے سے دوبارہ ان کنوئوں سے 12 تا 15 ملین گیلن یو میہ پانی کی دستیابی ممکن ہو سکے گی، سینئر افسران اور کنسٹلنٹ سے مشاورت کے بعد ایم ڈی واٹر بورڈ نے ہدایت کی کہ ان کنوئوں کی بحالی کیلیے فوری اقدامات کیے جائیں یہاں سے پانی حاصل کرنے کیلیے دو چیزوں کو یقینی بنانا ہوگا اول یہ کہ ملیر ندی سے جو ریت نکالی جارہی ہے اس کو فوری طور پر روکا جائے۔