اندرون سندھ گیسٹرو کے باعث بچوں سمیت 100سے زائد افراد اسپتالوں میں داخل

پانی ابال کر استعال کرنے اور صاف ستھری چیزیں کھانے سے گیسٹرو کی بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے،ڈاکٹر حضور بخش

سکھر کے سرکاری اسپتال ميں داخل مریضوں کی بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے ، فوٹو:فائل

لاہور:
سکھر سمیت اندرون سندھ میں گیسٹرو کی بیماری تیزی سے پھیلنے کے باعث 100 سے زائد متاثرہ افراد کو اسپتالوں ميں داخل کرادیا گیا ہے جن ميں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔


ڈاکٹرز کے مطابق آلودہ پانی کی فراہمی اور غیرمعیاری اشیاکے استعمال سے گیسٹرو کا مرض بڑھنے لگا ہے ، 24 گھنٹے کے دوران سکھر، گھوٹکی، خیرپور، لاڑکانہ سمیت اندرون سندھ کے کئی علاقوں ميں گیسٹروکے100 سے زائدمریضوں کو سرکاری اور نجی اسپتالوں ميں داخل کرایا گیا ہے جبکہ 30 سے زائد مریضوں کو علاج کے بعد فارغ کردیا گیا ہے۔

سکھر کے سرکاری اسپتال ميں داخل مریضوں کی بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے ، سول اسپتال کے آر ایم او ڈاکٹر حضور بخش کا کہنا ہے کہ پانی ابال کر استعال کرنے اور صاف ستھری چیزیں کھانے سے گیسٹرو کی بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
Load Next Story