نیب کی کارروائی 75 ارب کی 10ہزار ایکڑ اراضی واگزار
محکمہ ریونیو نے مذکورہ اراضی کی خرید و فروخت کاسرٹیفکیٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی
تھانہ بولاخان میں اراضی جعلسازی سے سپر ہائی وے پر ہاؤسنگ اسکیمز کو الاٹ کی گئی تھی۔ فوٹو: سوشل میڈیا
KANPUR:
نیب نے75 ارب روپے مالیت کی 10ہزار ایکڑ سرکاری زمین لینڈ مافیا سے واگزار کرا کے سندھ حکومت کے حوالے کر دی ہے جب کہ محکمہ ریونیو نے مذکورہ اراضی کی خرید و فروخت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
قومی احتساب بیورو نے ایک کاروائی کے دوران ضلع جام شورو کی تحصیل تھانہ بولاخان میں واقع10ہزار ایکڑ سرکاری زمین قبضہ مافیا سے آزاد کراکے سندھ حکومت کو واپس دلوادی، نیب ترجمان کے مطابق مذکورہ سرکاری زمین کی731 ایکڑ اراضی تھانہ بولا خان کی دیہہ بابر بند میں واقع ہے جب کہ باقی زمین دیگر دیہہ میں واقع ہے۔
نیب حکام نے17 اپریل 2018 کو محکمہ ریونیو کے3 ملازمین کو گرفتار کیا تھا جنھوں نے دوران تفتیش ریونیو ریکارڈ میں جعلی اندراج کر کے سرکاری زمین پر قبضہ کرانے کا بھی اعتراف کیا تھا جس کے بعد قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی گئی۔
نیب ترجمان کے مطابق گرفتار افراد سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کے تحت مذکورہ سرکاری زمین کو غیرسرکاری ظاہر کرکے قبضہ مافیا کو فروخت کرنے میں ملوث تھے جب کہ اس ضمن میں نیب حکام نے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کی جس سے سپرہائی وے اور اردگرد میں واقع مذکورہ10ہزار ایکڑ سرکاری زمین جس کی مالیت 75 ارب ہے۔ جعلسازی کے ذریعے سپر ہائی وے پر واقع مختلف ہاؤسنگ اسکیمزکو الاٹ کی گئی تھی جو جام شورو کے ریونیو حکام سے مسترد کرا کے دوبارہ سندھ حکومت کو واپس دلوادی ہے۔
دوسری جانب ریونیو حکام نے نیب کراچی کی کارروائی کے بعد مذکورہ سرکاری زمین پر خرید و فروخت کاسرٹیفکیٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔؎
نیب نے75 ارب روپے مالیت کی 10ہزار ایکڑ سرکاری زمین لینڈ مافیا سے واگزار کرا کے سندھ حکومت کے حوالے کر دی ہے جب کہ محکمہ ریونیو نے مذکورہ اراضی کی خرید و فروخت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
قومی احتساب بیورو نے ایک کاروائی کے دوران ضلع جام شورو کی تحصیل تھانہ بولاخان میں واقع10ہزار ایکڑ سرکاری زمین قبضہ مافیا سے آزاد کراکے سندھ حکومت کو واپس دلوادی، نیب ترجمان کے مطابق مذکورہ سرکاری زمین کی731 ایکڑ اراضی تھانہ بولا خان کی دیہہ بابر بند میں واقع ہے جب کہ باقی زمین دیگر دیہہ میں واقع ہے۔
نیب حکام نے17 اپریل 2018 کو محکمہ ریونیو کے3 ملازمین کو گرفتار کیا تھا جنھوں نے دوران تفتیش ریونیو ریکارڈ میں جعلی اندراج کر کے سرکاری زمین پر قبضہ کرانے کا بھی اعتراف کیا تھا جس کے بعد قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی گئی۔
نیب ترجمان کے مطابق گرفتار افراد سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کے تحت مذکورہ سرکاری زمین کو غیرسرکاری ظاہر کرکے قبضہ مافیا کو فروخت کرنے میں ملوث تھے جب کہ اس ضمن میں نیب حکام نے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کی جس سے سپرہائی وے اور اردگرد میں واقع مذکورہ10ہزار ایکڑ سرکاری زمین جس کی مالیت 75 ارب ہے۔ جعلسازی کے ذریعے سپر ہائی وے پر واقع مختلف ہاؤسنگ اسکیمزکو الاٹ کی گئی تھی جو جام شورو کے ریونیو حکام سے مسترد کرا کے دوبارہ سندھ حکومت کو واپس دلوادی ہے۔
دوسری جانب ریونیو حکام نے نیب کراچی کی کارروائی کے بعد مذکورہ سرکاری زمین پر خرید و فروخت کاسرٹیفکیٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔؎