111 درآمدی اشیا کی انڈرانوائسنگ کا انکشاف

آٹوپارٹس،کیمرے،فون،گھڑیاں ودیگراشیاکی کم ویلیوایسسمنٹ،ریونیو کا بھاری نقصان.

محکمہ کسٹمزویلیوایشن نے حکام کوانڈرانوائسنگ پرقابو پانے کی ہدایت کر دی،ذرائع. فوٹو فائل

MIRPUR:
پاکستان میں چین، کوریا، تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی 111 اشیا کا وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم میں اندراج نہ ہونے کے باعث ان اشیا کی وسیع پیمانے پر انڈرانوائسنگ کا انکشاف ہوا ہے،ان اشیا کی مستقل انڈرانوائسنگ سے کسٹم سمیت دیگر ٹیکسوں کی مد میں ماہانہ اربوں روپے مالیت کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

محکمہ کسٹمز کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان میں مختلف ممالک سے درآمد ہونے والے آٹو پارٹس، موٹر سائیکل چین کٹ، سی سی ٹی وی کیمرے، فون، گاڑیوں کے پرزہ جات،گھڑیاں، ہیئر ایسسریز، ایل ای ڈی لائٹس، لینسس، ویلڈنگ وائر، کاٹن بیڈشیٹ، سافٹ ڈرنکس، سیاہ وسبزچائے، آربی ڈی پام آئل سمیت 111 اشیا کی قانونی انداز میں اگرچہ درآمدات ہورہی ہیں لیکن ان اشیا کے لیے پاکستان کسٹمز ٹیرف (پی سی ٹی)کا درست اندراج نہیں کیا جارہا، وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم میں پی سی ٹی کا اندراج نہ ہونے کا فائدہ متعلقہ درآمدکنندگان اٹھا رہے ہیں۔




ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ 111 اشیا کے درآمدکنندگان گڈزڈیکلریشن میں اپنی مرضی کا 'پی سی ٹی نمبر' ظاہر کرکے من پسند ویلیو ایسسمنٹ اور کم مالیت کی ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگیاں کرتے ہوئے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس باآسانی حاصل کررہے ہیں، اس طرح سے انڈرانوئسنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے قومی خزانہ کوریونیو کی مد میں ماہانہ اربوں روپے کا خسارہ پہنچایا جا رہاہے، ایف بی آر کے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے مذکورہ 111 اشیا کی درآمدات کی جانچ پڑتال سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز کے ڈائریکریٹ جنرل کسٹمز ویلیوایشن کی جانب سے بھی تمام کسٹمز کلکٹریٹ کو بھیجے گئے ایک خط میںمذکورہ111 اشیا کی درآمدات میں انڈرانوائسنگ کی نشاندہی کی ہے۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ متعلقہ کسٹمز حکام ان 111 اشیا کی انڈرانوائسنگ پر قابو پانے کے لیے وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم میں ان کی پی سی ٹی کے اندراج کو یقینی بنائیں۔
Load Next Story