پہلی ترجیح بیروزگاری کا فروغ
آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہر نیک کام کے کچھ دشمن بھی پیدا ہوجاتے ہیں جن کو میلی آنکھ والے کہا جاتا ہے۔
barq@email.com
حضرت مدظلہ العالی ایم ایم اے کے دوبارہ پیدا ہونے یعنی '' پنر جنم '' لینے پر اچھے خاصے مسرور دکھائی دیتے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہایم ایم اے کا نام ہی میٹھا میٹھا مرغن مرغن اور مجرب مجرب سا ہے۔ پشتو میں بچوں کی ایک مخصوص زبان ہوتی ہے دوسری زبانوں میں بھی ہوتی ہوگی لیکن پشتو میں یہ ایک ہی اصول کی پابند ہوتی ہے ایک ہی حرف کو دوبار دہرایا جاتا ہے چنانچہ کھانے کی ہر چیز یا میٹھی چیز کو '' مم'' کہا جاتا ہے، کھانے یا روٹی کو کو کو ، ہاتھ کو چاچئی ، پاؤں کو پاپئی، کرتے کو پے پے ، پانی کو بوبو ، لیٹنے کو لولو، ٹوپی پاپا،جوتے کو پاپو، ماں کو بے بے ، باپ کو پاپا، چاند کو تتئی، منہ کو کوکئی ، موسیقی کو نانا ، پرندے کو آآ ، بھیڑ بکری کو چے چے ، مرغی کو تیتی ، کتے کو بب ، خوبصورت کو واویٔ ، گندی کو کئی ، آگ کو پو کہتے ہیں ۔لیکن سب میں '' مم '' بہت زیادہ کثیر الاستعمال لفظ ہے کہ بچے کا پہلا پسندیدہ اور فیورٹ ذریعہ خوراک '' مے مے '' ہوتا ہے اس لیے جو بھی دل پسند چیز ہو اسے مم مے مے ، مام کہتا ہے۔اس لحاظ سے ہم اپنے مدظلہ العالی کو بھی بچوں کی طرح '' معصوم '' سمجھتے ہیں، اس لیے ان کا پسندیدہ لفظ بھی '' مم '' ہی ہوتا ہے جس کے پیچھے ایک بار چکھا ہے اور دوسری بار بلکہ بار بار چکھنے کی ہوس ہے۔
اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ وہ ایک بار پھر '' مم '' کو پانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اس لیے زبان حال سے گویا ہیں کہ
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ مرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
یا اب دیکھئے انداز گل افشانیٔ گفتار ...اور اس میں تو ''خرما '' یا مما کے ساتھ ساتھ ثواب کا دوسرا پہلو بھی ہے کیونکہ آپ تو جانتے ہیں بلکہ دنیا جانتی ہے، ملک کا پتا پتا بوٹا بوٹا اور بچہ بچہ بوڑھا بوڑھا تک جانتا ہے کہ حضرت نے اپنی زندگی ''خدمت ''کے لیے وقف کر رکھی ہے اس لیے دین کی سربلندی کا کام بھی ہو جائے گا اس سلسلے میں وہ اکیلے ہیں بھی نہیں، کچھ اور اللہ کے بندے بھی دین اسلام کا جھنڈا بلند کیے ہوئے ہیں اور یہ ان ہی چند ہستیوںاور پارٹیوں کی برکت ہے کہ آج دنیا میں اسلام کا نام باقی ہے ورنہ نا جانے ہنود و یہود کیا کر ڈالتے، یہ ان ہی چند اللہ والے صالحین عابدین، مجاہدین اور صابرین، شاکرین کی جدوجہد ، قربانیوں اور سیاست کا نتیجہ ہے کہ آج اس ملک میں اسلام ہی اسلام ہے ۔اور پھر ان میں کتنا زبردست جذبہ ایمانی ہے کہ جب بھی موقع آتا ہے آپس میں مل کر مم بنا لیتے ہیں اور دین کو کفر سے بچا لیتے، چنانچہ ان سب کا دینی جذبہ ایک مرتبہ پھر جوش میں آیا اور حضرت مدظلہ العالی کے دست حق پرست پر ایک مرتبہ پھر '' مشرف بہ مم '' ہو گئے ۔
جب تیرے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
بندے و صاحب و ممتاز و غنی ایک ہوئے
اور اس مرتبہ '' اٹھان '' پہلے سے بھی کچھ زیادہ بھرپور ہے چنانچہ اس دن حضرت نے فرمایا کہ مدارس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی ایسی تیسی کر دی جائے گی ۔
اب آپ '' مدارس ''کے بارے میں پوچھیں گے کہ کونسے مدارس ؟ تو ظاہر ہے کہ ہمیں وہ کچھ بھی بتانا پڑے گا کہ '' مدارس '' کیا ہوتے ہیں۔مدارس کا لفظ درس سے بنا ہے یعنی جہاں درس دیے جاتے ہیں، اس لحاظ سے تو یہ ساری دنیا ہی ایک درسگاہ ہے کہ یہاں ہر چیز میں درس ہی درس موجود ہیں یہاں تک کہ بے جان چیزیں بھی درس پر درس دیے جا رہی ہیں کہ
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی
گھڑیال تو پھر بھی کچھ نہ کچھ بجا کر درس دیتا ہے کچھ چیزیں تو کچھ بھی نہ بجا کر اور نہ کہہ کر درس دیتی ہیں جیسا کہ غالب نے کہاں ہے کہ ۔
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نبوش ہے
گویا درس دینے والے تو ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں اور جو بالکل ہی مفت درس دینے کو تیار ہوتے ہیں اس لحاظ سے '' درس '' دولت کا بالکل الٹ ہے۔ دولت لینے کے لیے ہر کوئی پھیلائے رہتا ہے لیکن دینے والا کوئی نہیں ہوتا جب کہ درس دینے والے بہت ہوتے ہیں لیکن لینے والوں کی جھولی میں سو چھید ہوتے ہیں بلکہ رحمان بابا نے تو درس کو اور بھی سہل بنایا ہوا ہے کہتے ہیں کہ
ہر زندہ چہ د مردہ پہ قبر ورشی
دومرہ بس دے نصیحت پہ دا دنیا
یعنی اگر کوئی زندہ کسی مردے کی قبر سے گزرجائے تو یہی ایک سبق اس دنیا کا سب سے بڑا سبق ہے کہ آج جو مردہ ہے وہ کبھی زندہ بھی تھا اور جو زندہ ہے وہ اس کی طرح قبر کی صورت میں ہوگا ۔چنانچہ درس کی اس مم گیری نے تو درس کو بہت ہی عام کیا ہوا ہے لیکن پھر بھی درس کے کچھ خاص خاص مقامات بھی قائم ہو جاتے ہیں جیسے غنڈوں بدمعاشوں کے لیے اور نیچے والے ہاتھ کی بڑھوتری کے لیے سرکاری طور پر محکمہ تعلیم نے درس گاہیں بنائی ہوئی ہیں اوپر والے ہاتھ اور لات کے لیے انگلش میڈیم اسکول بطور فیکٹری کے کام کرتے ہیں اسی طرح دینی مدارس بھی بیروز گاروں میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں مصروف ہے ۔
ویسے اصل میں یہ تینوں اقسام کی درسگاہیں ایک ہی نقطے پر متفق ہیں اور وہ ہے ملک کو بیروز گاری میں خود کفیل کرنا اور کام کی حتی الوسع حوصلہ شکنی کرنا لیکن پھر بھی ان کے درمیان تھوڑا بہت فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ باقی کے دو اقسام کے مدارس یا درسگاہیں تو ''مزے '' بیروزگار پیدا کرتے ہیں جب کہ یہ ایک قسم کے مدارس جو مال تیار کرتے ہیں یہ کچھ الگ قسم کا یعنی اعلیٰ درجے کا مال ہوتا ہے ان کا کم از کم اگلے پڑاؤ کا مستقبل تو بالکل محفوظ ہوتا ہے لیکن باقی کی دو اقسام کی درس گاہیں جتنے بھی ہوں جیسے بھی ہوں کی بنیاد پر مال تیار کرتی ہیں جو دساور بھی بھیجا جاتا ہے جن کی وہاں ریگستانوں ، مستانوں کارخانوں وغیرہ میں اچھی خاص کھپت ہو جاتی ہے اگرچہ تھوڑے بہت کنٹینروں میں لانچوں میں یا جیلوں میں ضایع بھی ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی اتنے بچ جاتے ہیں جو اپنے ملک کے درس اور نام کو روشن کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں ۔
آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہر نیک کام کے کچھ دشمن بھی پیدا ہوجاتے ہیں جن کو میلی آنکھ والے کہا جاتا ہے اور جن کا حضرت نے ذکر بھی کیا ہے کہ ان کے مدارس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال کر بچوں کو گوٹیاں دینے کے لیے دی جائیں گی ۔ اس طرح سے کم از کم ان مدارس کے لیے تو کوئی خطرہ نہیں رہا ہے ۔ جن کی طر ف حضرت مدظلہ العالی کا اشارہ ہے لیکن باقی دو اقسام کے مدارس یا درسگاہوں کو شدید خطرہ ہے کہ ان کی ایک خاص قسم کاطبقہ موجود ہے جو بچوں کو چائیلڈ لیبر کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ نہیں کر پارہے تھے اور بہت سارے بچے چائیلڈ لیبر کا شکار ہو کر مستری ، گلوکار ٹھیکیدار اور نہ جانے کیا کیا بن جاتے تھے ۔سو اس سلسلے میں ان این جی اوز کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
جنہوں نے چائیلڈ لیبر کے خلاف آواز بلکہ زوردار آوازیں اٹھانا شروع کیں اور دن رات ایک کرکے خاصی کامیابی حاصل کرلی ہے، اب بہت کم لوگ چائیلڈ لیبر کی طرف جاکر '' روزگار '' کی لعنت میں گرفتار نہیں ہو رہے ہیں اوران درسگاہوں سے درس لے کر نہ صرف فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں بلکہ فارغ الروزگار ، فارغ البال، فارغ الخیال اور فارغ آلآں اینڈ آل ہوکر بیروز گاری کا بول بالا کررہے ہیں، بہر حال مصنوعی طور پر ہر صورت حال آہستہ آہستہ قابو میں آرہی ہے اور ان درس گاہوں سے ایک بڑی تعداد بیروزگاروں کی نکل کر ملک کا بول بالا کر رہی ہیں ۔
اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ وہ ایک بار پھر '' مم '' کو پانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اس لیے زبان حال سے گویا ہیں کہ
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ مرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
یا اب دیکھئے انداز گل افشانیٔ گفتار ...اور اس میں تو ''خرما '' یا مما کے ساتھ ساتھ ثواب کا دوسرا پہلو بھی ہے کیونکہ آپ تو جانتے ہیں بلکہ دنیا جانتی ہے، ملک کا پتا پتا بوٹا بوٹا اور بچہ بچہ بوڑھا بوڑھا تک جانتا ہے کہ حضرت نے اپنی زندگی ''خدمت ''کے لیے وقف کر رکھی ہے اس لیے دین کی سربلندی کا کام بھی ہو جائے گا اس سلسلے میں وہ اکیلے ہیں بھی نہیں، کچھ اور اللہ کے بندے بھی دین اسلام کا جھنڈا بلند کیے ہوئے ہیں اور یہ ان ہی چند ہستیوںاور پارٹیوں کی برکت ہے کہ آج دنیا میں اسلام کا نام باقی ہے ورنہ نا جانے ہنود و یہود کیا کر ڈالتے، یہ ان ہی چند اللہ والے صالحین عابدین، مجاہدین اور صابرین، شاکرین کی جدوجہد ، قربانیوں اور سیاست کا نتیجہ ہے کہ آج اس ملک میں اسلام ہی اسلام ہے ۔اور پھر ان میں کتنا زبردست جذبہ ایمانی ہے کہ جب بھی موقع آتا ہے آپس میں مل کر مم بنا لیتے ہیں اور دین کو کفر سے بچا لیتے، چنانچہ ان سب کا دینی جذبہ ایک مرتبہ پھر جوش میں آیا اور حضرت مدظلہ العالی کے دست حق پرست پر ایک مرتبہ پھر '' مشرف بہ مم '' ہو گئے ۔
جب تیرے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
بندے و صاحب و ممتاز و غنی ایک ہوئے
اور اس مرتبہ '' اٹھان '' پہلے سے بھی کچھ زیادہ بھرپور ہے چنانچہ اس دن حضرت نے فرمایا کہ مدارس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی ایسی تیسی کر دی جائے گی ۔
اب آپ '' مدارس ''کے بارے میں پوچھیں گے کہ کونسے مدارس ؟ تو ظاہر ہے کہ ہمیں وہ کچھ بھی بتانا پڑے گا کہ '' مدارس '' کیا ہوتے ہیں۔مدارس کا لفظ درس سے بنا ہے یعنی جہاں درس دیے جاتے ہیں، اس لحاظ سے تو یہ ساری دنیا ہی ایک درسگاہ ہے کہ یہاں ہر چیز میں درس ہی درس موجود ہیں یہاں تک کہ بے جان چیزیں بھی درس پر درس دیے جا رہی ہیں کہ
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی
گھڑیال تو پھر بھی کچھ نہ کچھ بجا کر درس دیتا ہے کچھ چیزیں تو کچھ بھی نہ بجا کر اور نہ کہہ کر درس دیتی ہیں جیسا کہ غالب نے کہاں ہے کہ ۔
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نبوش ہے
گویا درس دینے والے تو ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں اور جو بالکل ہی مفت درس دینے کو تیار ہوتے ہیں اس لحاظ سے '' درس '' دولت کا بالکل الٹ ہے۔ دولت لینے کے لیے ہر کوئی پھیلائے رہتا ہے لیکن دینے والا کوئی نہیں ہوتا جب کہ درس دینے والے بہت ہوتے ہیں لیکن لینے والوں کی جھولی میں سو چھید ہوتے ہیں بلکہ رحمان بابا نے تو درس کو اور بھی سہل بنایا ہوا ہے کہتے ہیں کہ
ہر زندہ چہ د مردہ پہ قبر ورشی
دومرہ بس دے نصیحت پہ دا دنیا
یعنی اگر کوئی زندہ کسی مردے کی قبر سے گزرجائے تو یہی ایک سبق اس دنیا کا سب سے بڑا سبق ہے کہ آج جو مردہ ہے وہ کبھی زندہ بھی تھا اور جو زندہ ہے وہ اس کی طرح قبر کی صورت میں ہوگا ۔چنانچہ درس کی اس مم گیری نے تو درس کو بہت ہی عام کیا ہوا ہے لیکن پھر بھی درس کے کچھ خاص خاص مقامات بھی قائم ہو جاتے ہیں جیسے غنڈوں بدمعاشوں کے لیے اور نیچے والے ہاتھ کی بڑھوتری کے لیے سرکاری طور پر محکمہ تعلیم نے درس گاہیں بنائی ہوئی ہیں اوپر والے ہاتھ اور لات کے لیے انگلش میڈیم اسکول بطور فیکٹری کے کام کرتے ہیں اسی طرح دینی مدارس بھی بیروز گاروں میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں مصروف ہے ۔
ویسے اصل میں یہ تینوں اقسام کی درسگاہیں ایک ہی نقطے پر متفق ہیں اور وہ ہے ملک کو بیروز گاری میں خود کفیل کرنا اور کام کی حتی الوسع حوصلہ شکنی کرنا لیکن پھر بھی ان کے درمیان تھوڑا بہت فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ باقی کے دو اقسام کے مدارس یا درسگاہیں تو ''مزے '' بیروزگار پیدا کرتے ہیں جب کہ یہ ایک قسم کے مدارس جو مال تیار کرتے ہیں یہ کچھ الگ قسم کا یعنی اعلیٰ درجے کا مال ہوتا ہے ان کا کم از کم اگلے پڑاؤ کا مستقبل تو بالکل محفوظ ہوتا ہے لیکن باقی کی دو اقسام کی درس گاہیں جتنے بھی ہوں جیسے بھی ہوں کی بنیاد پر مال تیار کرتی ہیں جو دساور بھی بھیجا جاتا ہے جن کی وہاں ریگستانوں ، مستانوں کارخانوں وغیرہ میں اچھی خاص کھپت ہو جاتی ہے اگرچہ تھوڑے بہت کنٹینروں میں لانچوں میں یا جیلوں میں ضایع بھی ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی اتنے بچ جاتے ہیں جو اپنے ملک کے درس اور نام کو روشن کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں ۔
آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہر نیک کام کے کچھ دشمن بھی پیدا ہوجاتے ہیں جن کو میلی آنکھ والے کہا جاتا ہے اور جن کا حضرت نے ذکر بھی کیا ہے کہ ان کے مدارس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال کر بچوں کو گوٹیاں دینے کے لیے دی جائیں گی ۔ اس طرح سے کم از کم ان مدارس کے لیے تو کوئی خطرہ نہیں رہا ہے ۔ جن کی طر ف حضرت مدظلہ العالی کا اشارہ ہے لیکن باقی دو اقسام کے مدارس یا درسگاہوں کو شدید خطرہ ہے کہ ان کی ایک خاص قسم کاطبقہ موجود ہے جو بچوں کو چائیلڈ لیبر کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ نہیں کر پارہے تھے اور بہت سارے بچے چائیلڈ لیبر کا شکار ہو کر مستری ، گلوکار ٹھیکیدار اور نہ جانے کیا کیا بن جاتے تھے ۔سو اس سلسلے میں ان این جی اوز کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
جنہوں نے چائیلڈ لیبر کے خلاف آواز بلکہ زوردار آوازیں اٹھانا شروع کیں اور دن رات ایک کرکے خاصی کامیابی حاصل کرلی ہے، اب بہت کم لوگ چائیلڈ لیبر کی طرف جاکر '' روزگار '' کی لعنت میں گرفتار نہیں ہو رہے ہیں اوران درسگاہوں سے درس لے کر نہ صرف فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں بلکہ فارغ الروزگار ، فارغ البال، فارغ الخیال اور فارغ آلآں اینڈ آل ہوکر بیروز گاری کا بول بالا کررہے ہیں، بہر حال مصنوعی طور پر ہر صورت حال آہستہ آہستہ قابو میں آرہی ہے اور ان درس گاہوں سے ایک بڑی تعداد بیروزگاروں کی نکل کر ملک کا بول بالا کر رہی ہیں ۔