شمالی امریکا کے پراسرار خمیدہ درخت
ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے ہزاروں خمیدہ درخت ریڈ انڈینز اور دیگر قدیم باشندوں نے نشانیوں کے لیے خود بنائے تھے
پورے امریکا میں پراسرار انداز میں خمیدہ درخت دیکھے جاسکتے ہیں جو انسانوں کی وجہ سے بنے ہیں (فوٹو: فائل )
RAWALPINDI:
شمالی امریکا میں ایسے ہزاروں درخت دیکھے جاسکتے ہیں جو حیرت انگیز طور پر خمیدہ ہیں اور ماہرین اب تک ان کی وجہ جاننے سے قاصر ہیں۔
پہلی نظر میں گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ درخت کسی بیماری کے شکار ہیں یا قدرت نے انہیں ایسا ہی پیدا کیا ہے کیونکہ بعض درخت اوپر بلند ہونے کی بجائے فرش کے متوازی آگے بڑھتے ہیں اور گویا ایسا لگتا ہے کہ بہت عرصہ قبل شعوری طور پر ان درختوں کا رخ موڑا گیا ہے۔
امریکا میں ایسے درختوں کو 'ٹریل درخت' کہا جاتا ہے جن کے تنے زاویہ قائمہ پر مڑے ہوتے ہیں، شکستہ ہوتے ہیں یا پھر کسی تبدیلی سے گزرے ہوتے ہیں۔عموماً ایک درخت کا تنا چار سے پانچ فٹ سیدھا ہوتا ہےاور اس کے بعد وہ 90 درجے پر مڑ جاتا ہے اور کئی فٹ زمین کے متوازی بڑھتے ہوئے دوبارہ سیدھا ہوجاتا ہے۔ تاہم خمیدہ حصوں پر کوئی نشان موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ درخت کی شاخوں کو زبردستی موڑا گیا ہے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ درخت قدیم شکاریوں اور چرواہوں نے تبدیل کیے ہیں تاکہ وہ اتنے بڑے جنگل میں بھٹکنے کی بجائے اپنی منزل تک آسانی سے پہنچ سکیں۔
ایک مصور ڈینس ڈونس نے دیکھا کہ مڑے ہوئے درخت برف باری میں بھی بہت دور سے دیکھے جاسکتے ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے اس پر تحقیق کی ہے تو معلوم ہوا کہ ریمنڈ جینسن نامی ایک ارضیات داں نے 70 برس قبل امریکا کی 13 ریاستوں میں گھوم کر ان درختوں پر تحقیق کی تھی۔ اس نے ان درختوں کو انسانی مداخلت قرار دیا تھا۔
https://www.youtube.com/watch?time_continue=2&v=4Y7BrVhL6aE
ریمنڈ کے مطابق امریکا کے قدیم باشندوں ریڈ انڈینز نے شعوری طور پر درختوں کی اشکال کو موڑا تھا جس کا احوال اس نے اپنے چار مضامین میں پیش کیا ہے۔ تاہم بعض درخت، جانور، برفباری، ہوا کی قوت اور آسمانی بجلی سے بھی مڑے ہیں لیکن وہ انسانی کاوشوں سے الگ نظر آتے ہیں کیونکہ ان پر گہرے نشانات اور کھرونچے دیکھے جاسکتے ہیں۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہر درخت انسان نے نہیں موڑا بلکہ کچھ درخت بعض دیگر وجوہ کی بنیاد پر اس طرح کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔
شمالی امریکا میں ایسے ہزاروں درخت دیکھے جاسکتے ہیں جو حیرت انگیز طور پر خمیدہ ہیں اور ماہرین اب تک ان کی وجہ جاننے سے قاصر ہیں۔
پہلی نظر میں گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ درخت کسی بیماری کے شکار ہیں یا قدرت نے انہیں ایسا ہی پیدا کیا ہے کیونکہ بعض درخت اوپر بلند ہونے کی بجائے فرش کے متوازی آگے بڑھتے ہیں اور گویا ایسا لگتا ہے کہ بہت عرصہ قبل شعوری طور پر ان درختوں کا رخ موڑا گیا ہے۔
امریکا میں ایسے درختوں کو 'ٹریل درخت' کہا جاتا ہے جن کے تنے زاویہ قائمہ پر مڑے ہوتے ہیں، شکستہ ہوتے ہیں یا پھر کسی تبدیلی سے گزرے ہوتے ہیں۔عموماً ایک درخت کا تنا چار سے پانچ فٹ سیدھا ہوتا ہےاور اس کے بعد وہ 90 درجے پر مڑ جاتا ہے اور کئی فٹ زمین کے متوازی بڑھتے ہوئے دوبارہ سیدھا ہوجاتا ہے۔ تاہم خمیدہ حصوں پر کوئی نشان موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ درخت کی شاخوں کو زبردستی موڑا گیا ہے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ درخت قدیم شکاریوں اور چرواہوں نے تبدیل کیے ہیں تاکہ وہ اتنے بڑے جنگل میں بھٹکنے کی بجائے اپنی منزل تک آسانی سے پہنچ سکیں۔
ایک مصور ڈینس ڈونس نے دیکھا کہ مڑے ہوئے درخت برف باری میں بھی بہت دور سے دیکھے جاسکتے ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے اس پر تحقیق کی ہے تو معلوم ہوا کہ ریمنڈ جینسن نامی ایک ارضیات داں نے 70 برس قبل امریکا کی 13 ریاستوں میں گھوم کر ان درختوں پر تحقیق کی تھی۔ اس نے ان درختوں کو انسانی مداخلت قرار دیا تھا۔
https://www.youtube.com/watch?time_continue=2&v=4Y7BrVhL6aE
ریمنڈ کے مطابق امریکا کے قدیم باشندوں ریڈ انڈینز نے شعوری طور پر درختوں کی اشکال کو موڑا تھا جس کا احوال اس نے اپنے چار مضامین میں پیش کیا ہے۔ تاہم بعض درخت، جانور، برفباری، ہوا کی قوت اور آسمانی بجلی سے بھی مڑے ہیں لیکن وہ انسانی کاوشوں سے الگ نظر آتے ہیں کیونکہ ان پر گہرے نشانات اور کھرونچے دیکھے جاسکتے ہیں۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہر درخت انسان نے نہیں موڑا بلکہ کچھ درخت بعض دیگر وجوہ کی بنیاد پر اس طرح کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔