جین تھراپی سے معذور چوہا دوبارہ صحت مند ہوگیا
چوہا مکمل طور پر مفلوج تھا لیکن جین تھراپی کے بعد اس نے شکر کا ٹکڑا اپنے ہاتھوں سے اٹھایا اور اسے کھانے لگا
کنگز کالج لندن میں ایک اپاہج چوہے کو جین تھراپی کے ذریعے دوبارہ صحت یاب کرنے کا کامیاب تجربہ (فوٹو: فائل)
مکمل طور پر فالج کے شکار ایک چوہے کو جین تھراپی کے بعد دوبارہ صحت یاب کرنے کی ایک غیرمعمولی پیش رفت ہوئی ہے جس سے انسانوں میں اس مرض کو ختم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
کنگز کالج لندن میں ماہرین کی ایک ٹیم نے جین تھراپی کے ذریعے ایک چوہے کے حرام مغز(اسپائنل کورڈ) کو کامیابی سے درست کیا ہے، تجربے میں استعمال ہونے والا چوہا مکمل طور پر مفلوج تھا لیکن جین تھراپی کے بعد اس نے شکر کا ٹکڑا اپنے ہاتھوں سے اٹھایا اور اسے کھانے لگا۔
اگرچہ یہ ابتدائی درجے کی تحقیق ہے لیکن اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ایک روز اپنے ہاتھوں سے اپاہج ہونے والے فالج زدہ افراد دوبارہ صحت یاب ہوسکیں گے۔ ہمارے دماغ سے رگوں کا ایک گچھا بقیہ جسم تک ہدایات روانہ کرتا ہے جسے حرام مغز یا اسپائنل کورڈ کہا جاتا ہے۔
تجربے میں چوہے کی جین تھراپی کے بعد حرام مغز کے سگنل بقیہ جسم تک جانے لگے تاہم ایک زخمی ٹشو اعصاب کے درمیان رکاوٹ بنا رہا تھا۔ اس کے لیے ماہرین نے جین تھراپی کا سہارا لیا اور متاثرہ ٹشو کو درست کرنے کے لیے کئی جین جسم میں داخل کیے۔
یہ جینیاتی ہدایات ایک بے ضرر وائرس کے ذریعے چوہوں میں داخل کی گئی اور ایک خاص ائنزائم کونڈر وئٹائنیز سے بھی مدد لی گئی تھی۔ آخری مرحلے میں جینیاتی ہدایات کو کھولنے کے لیے ایک دوا دی گئی تھی۔ دو ماہ کے علاج کے بعد چوہے نے اپنے اگلے دونوں پیر استعمال کرنا شروع کردیئے۔
اس اہم کام کی نگراں ڈاکٹر ایملی برنسائیڈ نے کہا کہ جین تھراپی کے بعد چوہا درست انداز میں شکر کے ٹکڑے تک گیا اور اسے گرفت میں لیا جو اس سے قبل مفلوج چوہے کی دسترس میں نہ تھا۔ اس کے علاوہ چوہے کے حرام مغز میں ڈرامائی سرگرمیاں دیکھی گئیں جو اس میں نئے عصبی رابطوں کو ظاہر کررہی تھیں۔
توقع ہے کہ اس طریقے کو انسانوں پر آزما کر حادثات اور دیگر واقعات میں زخمی ہوکر معذور ہوجانے والے افراد کی زندگی میں ایک انقلاب آجائے گا۔
کنگز کالج لندن میں ماہرین کی ایک ٹیم نے جین تھراپی کے ذریعے ایک چوہے کے حرام مغز(اسپائنل کورڈ) کو کامیابی سے درست کیا ہے، تجربے میں استعمال ہونے والا چوہا مکمل طور پر مفلوج تھا لیکن جین تھراپی کے بعد اس نے شکر کا ٹکڑا اپنے ہاتھوں سے اٹھایا اور اسے کھانے لگا۔
اگرچہ یہ ابتدائی درجے کی تحقیق ہے لیکن اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ایک روز اپنے ہاتھوں سے اپاہج ہونے والے فالج زدہ افراد دوبارہ صحت یاب ہوسکیں گے۔ ہمارے دماغ سے رگوں کا ایک گچھا بقیہ جسم تک ہدایات روانہ کرتا ہے جسے حرام مغز یا اسپائنل کورڈ کہا جاتا ہے۔
تجربے میں چوہے کی جین تھراپی کے بعد حرام مغز کے سگنل بقیہ جسم تک جانے لگے تاہم ایک زخمی ٹشو اعصاب کے درمیان رکاوٹ بنا رہا تھا۔ اس کے لیے ماہرین نے جین تھراپی کا سہارا لیا اور متاثرہ ٹشو کو درست کرنے کے لیے کئی جین جسم میں داخل کیے۔
یہ جینیاتی ہدایات ایک بے ضرر وائرس کے ذریعے چوہوں میں داخل کی گئی اور ایک خاص ائنزائم کونڈر وئٹائنیز سے بھی مدد لی گئی تھی۔ آخری مرحلے میں جینیاتی ہدایات کو کھولنے کے لیے ایک دوا دی گئی تھی۔ دو ماہ کے علاج کے بعد چوہے نے اپنے اگلے دونوں پیر استعمال کرنا شروع کردیئے۔
اس اہم کام کی نگراں ڈاکٹر ایملی برنسائیڈ نے کہا کہ جین تھراپی کے بعد چوہا درست انداز میں شکر کے ٹکڑے تک گیا اور اسے گرفت میں لیا جو اس سے قبل مفلوج چوہے کی دسترس میں نہ تھا۔ اس کے علاوہ چوہے کے حرام مغز میں ڈرامائی سرگرمیاں دیکھی گئیں جو اس میں نئے عصبی رابطوں کو ظاہر کررہی تھیں۔
توقع ہے کہ اس طریقے کو انسانوں پر آزما کر حادثات اور دیگر واقعات میں زخمی ہوکر معذور ہوجانے والے افراد کی زندگی میں ایک انقلاب آجائے گا۔