پولیس انسداد دہشت گردی کے بنیادی قوانین سے لا علم نکلی

مبینہ ٹاؤن پولیس نے موسمیات چوک کے قریب دھماکے کا مقدمہ بارودی مواد کی برآمدگی کی دفعہ کے تحت درج کر لیا

پولیس کہنا ہے کہ بم دھماکے میں 30 گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیرنگ اور کیلیں بھی شامل تھیں۔ فوٹو:فائل

دہشت گردی کا شکار شہر کراچی کی پولیس انسداد دہشت گردی کے بنیادی قوانین سے لا علم نکلی، مبینہ ٹاؤن پولیس نے موسمیات چوک کے قریب کیے جانے والے بم دھماکے کا مقدمہ بارودی مواد کی برآمدگی کی دفعہ کے تحت درج کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چوک کے قریب بجلی کے ہائی ٹینشن پول کے ساتھ نصب بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کی آواز سے قریبی رہائشی فلیٹوں میں سوئے ہوئے افرادمیں خوف وہراس پھیل گیا، دھماکے کی وجہ سے مذکورہ علاقے میں بجلی کی سپلائی بھی معطل ہو گئی تھی۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا تھا ، دھماکے کے نتیجے موسمیات کے قریب پھل فروخت کرنے والا محمد انور ولد قیوم اور مالشیا محمد حنیف ولد سر دار احمد زخمی ہوئے جنھیں قریبی نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔


پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا ہائی ٹینشن کے پول کے ساتھ پلانٹڈ ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا ہے اور دھماکے سے ہائی ٹینشن پول میں 6 سے8 انچ کا سوراخ ہوگیا، پولیس کہنا ہے کہ بم دھماکے میں 30 گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیرنگ اور کیلیں بھی شامل تھیں۔



ادھر مبینہ ٹاؤن پولیس انسداد دہشت گردی کے بنیادی قوانین سے لا علم نکلی مبینہ ٹاؤن پولیس نے موسمیات چوک پر ہائی ٹینشن پول کے قریب کیے جانے والے بم دھماکے کا مقدمہ الزام نمبر147/2013 ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت درج کرنے کے بجائے بارودی مواد کی برآمدگی کی ایکٹ 4/5 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

مبینہ ٹاؤن پولیس سے جب غلط دفعہ کے تحت مقدمہ کرنے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کیں تو مبینہ ٹاؤن پولیس پہلے تو اپنی غلطی کو چھپانے کی کوشش شروع کردی بعد ازاں غلطی کا احساس ہونے پر مبینہ ٹاؤن پولیس کے افسران ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرانا شروع کردیا جبکہ ایس ایچ او تھانہ مبینہ ٹاؤن جمال خال لغاری کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 7ATA بھی شامل ہے۔
Load Next Story