کیا عمران خان ہار رہے ہیں
خدارا پارٹی ہائی جیک نہ کروائیے ورنہ نظام جیت جائے گا اور عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد بھی ہارجائے گا
خدارا پارٹی ہائی جیک نہ کروائیے ورنہ نظام جیت جائے گا اور عمران خان وزیراعظم بن کر بھی ہارجائے گا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
تقریباً ڈیڑھ دہائی پاکستانی سیاست کے ایوانوں میں غیر نمایاں رہنے کے بعد 2011 میں لاہور کے دھماکہ دار جلسے کی بدولت عمران خان صاحب ایک مضبوط سیاسی کھلاڑی کے طور پر نمودار ہوئے۔ وہ دن اور آج کا دن، پاکستان تحریکِ انصاف شہرت و مقبولیت کی نئی منزلوں کی جانب گامزن ہے۔ پی ٹی آئی کی اس اٹھان میں پاکستان کے نوجوانوں نے ایک بھرپور کردار ادا کیا جبکہ اس وقت عمران خان صاحب شاید وہ واحد پاکستانی سیاست دان تھے جنہوں نے صرف لفظی جمع خرچ کے علاوہ بھی نوجوانوں کو عملی سیاست میں حصہ لینے پر نہ صرف اکسایا بلکہ بہت سے نووارد نوجوان سیاستدانوں کےلیے اپنی جماعت کے دروازے بھی وا کیے۔
چنانچہ اپریل 2013 میں جب پاکستان تحریکِ انصاف نے الیکشن کےلیے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا تو عمران خان صاحب بڑے فخر سے یہ بتاتے نہیں تھکتے تھے کہ ان کی جماعت نے 35 فیصد ٹکٹ 40 سال سے کم عمر افراد کو جاری کیے اور بقول ان کے پی ٹی آئی کے 600 امیدوار اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ملکی سطح کے کسی الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔
اس وقت جناب خان صاحب یہ بھی سینہ ٹھونک کر فرماتے تھے کہ بہت سارے لوگ ان کے اتنی بڑی تعداد میں ناتجربہ کار نوجوانوں کو ٹکٹ کے اجرا پر خوش نہیں اور اپنے تئیں سمجھانے کی کوشش کرچکے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں روایتی سیاسی گھرانوں کی عدم شمولیت، ذات برادری کی تقسیم، سیاسی اثر و رسوخ اور انتخابی عمل سے واقفیت و تجربے کے بغیر، اپنی مقبولیت کے باوجود، ان کا الیکشن جیتنا ناممکن ہوگا۔ لیکن خان صاحب اپنے مزاج کے عین مطابق سیاسی دانشوروں کو تاریخ رقم کرنے کا بھاشن دیتے ہوئے ملکی سیاست کا رخ و انداز بدلنے کے در پے تھے اور کسی بھی مصلحت پسندی سے عاری دکھائی دیئے۔ نتیجتاً پاکستان تحریکِ انصاف الیکشن میں وہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی جس کی توقع بلکہ یقین عمران خان صاحب کو تھا۔
دھاندلی کا شور تو بہت ہوا مگر یہ حقیقت بدلی نہ جاسکی کہ پی ٹی آئی کو اگلے الیکشن تک انتظار کرنا پڑے گا۔
عمران خان صاحب کی سیاست کا محور ہمیشہ روایتی سیاست کی مخالفت رہا۔ ان کو اپنے اصولوں اور طریقہ کار پر بلا کا اعتماد تھا۔ وہ بڑے خواب دیکھنے کے نہ صرف خود عادی ہیں بلکہ اپنے پیروکاروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ ناممکنات کے حصول کےلیے پہچانے جانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے خیر خواہوں کے مشوروں کے برعکس انٹرا پارٹی الیکشن کروائے، کثیر تعداد میں ناتجربہ کار نوجوانوں کو عملی سیاست کا حصہ بنایا، تعلیم، صحت، پولیس و پٹوار کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا اور ان کے درپردہ اس بوسیدہ نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف لڑنے کا وعدہ کیا۔
خان صاحب الیکشن ہار گئے مگر نوجوانوں ان کے ساتھ جڑا رہا وہی نوجوان، وہی نووارد طبقہ ان کے کندھے سے کندھا ملائے دھرنے دیتا دکھائی دیا، گرفتار ہو کر جیلوں میں بھرا گیا، آنسو گیس اور ڈنڈا بردار حکومتی جبر کا نشانہ بنا مگر آپ سے چمٹا رہا۔ کیوں کہ وہ سمجھتا تھا کہ الیکشن میں ہارے ہیں مگر عمران خان جیت رہا ہے۔ اس کی سوچ جیت رہی ہے، اس کا آئیڈیلزم جیت رہا ہے۔
اس نوجوان کو بہت سمجھایا گیا کہ خان صاحب کو سیاست نہیں آتی، معاملہ فہمی سے عاری ہیں، سیاسی تعلقات کی پرواہ نہیں کرتے اور ناتجربہ کار ہیں۔ لیکن پاکستانی نوجوان خان صاحب کی انہی خامیوں کو ان کی اچھائیاں گردانتا رہا کیونکہ اس کو یقین تھا کہ نظام ہار رہا ہے، سیاسی اشرافیہ خائف ہے اور پرانے نظام میں نئے خون کی آمیزش تبدیلی کی نوید ہے۔
اب نئے الیکشن کی آمد آمد ہے اور کچھ روز پہلے ہی 2018 کے انتخابات کےلیے تحریک انصاف کی جانب سے متوقع امیدواروں کی فہرست جاری ہوئی ہے۔ اس فہرست کا جائزہ لینے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ جماعت کی ترجیحات بہرحال تبدیل ہوئی ہیں اور اس تبدیلی کا تعلق براہِ راست پی ٹی آئی کے نوجوانوں سے ہے۔ جہاں بھاری بھرکم روایتی سیاسی پہلوانوں کو جماعت میں نمائندگی دی گئی ہے وہیں نووارد نوجوان طبقے کا تناسب کم ہوا ہے۔
مثلاً قومی اسمبلی کے مجوزہ 166 میں سے 37 امیدواروں کی عمر چالیس سال سے کم ہے جو اعلان کردہ تعداد کی 22.28 فیصد بنتی ہے؛ جبکہ ایسے امیدوار جن کی عمریں اکتالیس سال سے لے کر ساٹھ سال تک ہیں، ان کی تعداد 83 ہے جس کا تناسب 50 فیصد ہے، یعنی تحریکِ انصاف کے تجویز کردہ نصف امیدوار چالیس سے ساٹھ سال کے پیٹے میں ہیں۔
ایسی ہی صورتحال پنجاب اور سندھ کی صوبائی نشستوں پر بھی درپیش ہے۔ جیسا کہ صوبہ پنجاب میں چالیس سال سے کم عمر 24.32 فیصد اور سندھ میں 19.04 فیصد امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ البتہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں یہ تناسب 30.86 فیصد اور بلوچستان میں سب سے زیادہ یعنی 56.52 فیصد ہے۔ اگر اعلان کردہ قومی و صوبائی امیدواروں کا مجموعی طور پر تجزیہ کیا جائے تو کل 476 میں سے 124 امیدواروں کی عمر چالیس سال سے کم ہے جس کا تناسب 26.05 فیصد ہے جو 2013 کے مقابلے میں خاصا کم ہے۔ اسی تناظر میں 41 امیدوار ایسے بھی ہیں کہ جن کی عمر تیس سال سے کم ہے اور ان کا تناسب 8.61 فیصد بنتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے یہ تجزیہ تحریک انصاف کی ویب سائٹ (insaftv) پر دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور ابھی تقریباً چالیس فیصد امیدواروں کا اعلان ہونا باقی ہے۔
بہرحال، 2013 کے مقابلے میں نوجوانوں کی نمائندگی کے حوالے سے تو صورتحال اتنی مخدوش نظر نہیں آتی جتنی روایتی سیاستدانوں اور بااثر گھرانوں کو ٹکٹ کی فراہمی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں میں ایک بے چینی کی فضا بن رہی ہے۔ علی محمد خان، شہریار آفریدی اور شوکت یوسفزئی جیسے پارٹی قائدین کی بابت بروقت حوصلہ افزا فیصلہ نہ ہونا بھی جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے اور ایسا تاثر ابھر رہا کہ پارٹی الیکٹیبلز کے ہاتھوں یرغمال بننے جارہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست میں روایتی سیاستدانوں کی اپنی ایک اہمیت ہے مگر خان صاحب یہ بھی دھیان رکھیں کہ وزارتوں کی تقسیم میں ان ہی بھاری بھرکم پہلوانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کو جیت کے بعد ناراض کریں گے تو قانون سازی متاثر ہوگی۔ ایک بار جیتے ہوئے کی جگہ دوبارہ کارکن کو ٹکٹ کیسے دیں گے؟ پرانے کارکن ان مضبوط سیاستدانوں کے ہوتے ہوئے حلقوں میں اپنی جگہ کیسے برقرار رکھ پائیں گے؟ اگر دورانِ حکومت کڑا وقت آیا تو ان لوگوں پر تکیہ کرسکیں گے؟ سب سے بڑھ کر خیبر پختونخواہ میں ووٹ اگر کارکردگی کی بنیاد پر ہی پڑنے کا یقینِ واثق ہے تو پھر وہاں الیکٹیبلز کو ٹکٹ دینے کی کیا ضرورت تھی؟
خان صاحب! رہنما اپنی ایک ایسی ٹیم بناتا ہے جو اس کے بعد اس کے مشن کو آگے بڑھاسکے۔ آپکی نیت پر کوئی شک نہیں، آپ کے خلوص پر کوئی گلہ نہیں، مگر خاکم بدہن آپ پردہ فرما گئے تو کیا اپنے نوجوان کارکنوں اور خیر خواہوں کو کھوسوں، ہراجوں اور جتوئیوں کے سپرد کر جائیں گے؟ وہی جو آپ ہی کے بقول اس نظام سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، کیا وہی آپ کے جانشین ہوں گے؟ آپ کے بعد اسد عمر نمائندگی کریں گے یا ذوالفقار کھوسہ؟ فرخ حبیب قیادت کریں گے یا نواب شیر وسیر؟ عارف علوی یا لیاقت جتوئی یا پھر عامر لیاقت حسین؟
خدارا اپنے پرخلوص و جانثار حمایتی نہ کھوئیے! اپنے نوجوان طبقے کی نمائندگی بھاری بھرکم روایتی سیاستدانوں کے سامنے اتنی بھی کم نہ کردیجیے کہ ان کے مقابلے میں آپ کو کوئی مشورہ دینے والا یا تعمیری مباحثہ کرنے والا ہی نہ بچے۔ یہ نہ ہو کہ آپ الیکشن تو جیت جائیں مگر وہ عمران خان ہار جائے جو بڑے خواب دکھاتا تھا، جو گلے سڑے اور بوسیدہ نظام کا مخالف تھا، جو روایتی سیاستدانوں کو للکارتا، جس کو خدا کی ذات اور اپنی سوچ پر بھروسا تھا، جو ناممکنات کے حصول کا داعی تھا۔
یہ درست ہے کہ الیکشن جیتے بغیر آپ اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے۔ یہ بھی بجا کہ اناڑی کا انتخاب جیتنا مشکل، مگر حکومت و سیاست میں کچھ بھی آسان نہیں۔
آپ ایک توازن ضرور قائم کرسکتے ہیں۔ ایسے پرانے نمائندے جن کی کارکردگی 2013 اور بلدیاتی انتخابات میں بہتر رہی ہو، ان کو ٹکٹ دینا چاہیے۔ اب کی بار تو حالات و واقعات کے تناظر میں ان کی جیت کا امکان کہیں زیادہ ہے۔ پارٹی ہائی جیک نہ کروائیے ورنہ بظاہر نظام جیت رہا ہے اور عمران خان صاحب ہار رہے ہیں، وزیراعظم بننے جا رہے ہیں مگر پھر بھی ہار رہے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
چنانچہ اپریل 2013 میں جب پاکستان تحریکِ انصاف نے الیکشن کےلیے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا تو عمران خان صاحب بڑے فخر سے یہ بتاتے نہیں تھکتے تھے کہ ان کی جماعت نے 35 فیصد ٹکٹ 40 سال سے کم عمر افراد کو جاری کیے اور بقول ان کے پی ٹی آئی کے 600 امیدوار اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ملکی سطح کے کسی الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔
اس وقت جناب خان صاحب یہ بھی سینہ ٹھونک کر فرماتے تھے کہ بہت سارے لوگ ان کے اتنی بڑی تعداد میں ناتجربہ کار نوجوانوں کو ٹکٹ کے اجرا پر خوش نہیں اور اپنے تئیں سمجھانے کی کوشش کرچکے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں روایتی سیاسی گھرانوں کی عدم شمولیت، ذات برادری کی تقسیم، سیاسی اثر و رسوخ اور انتخابی عمل سے واقفیت و تجربے کے بغیر، اپنی مقبولیت کے باوجود، ان کا الیکشن جیتنا ناممکن ہوگا۔ لیکن خان صاحب اپنے مزاج کے عین مطابق سیاسی دانشوروں کو تاریخ رقم کرنے کا بھاشن دیتے ہوئے ملکی سیاست کا رخ و انداز بدلنے کے در پے تھے اور کسی بھی مصلحت پسندی سے عاری دکھائی دیئے۔ نتیجتاً پاکستان تحریکِ انصاف الیکشن میں وہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی جس کی توقع بلکہ یقین عمران خان صاحب کو تھا۔
دھاندلی کا شور تو بہت ہوا مگر یہ حقیقت بدلی نہ جاسکی کہ پی ٹی آئی کو اگلے الیکشن تک انتظار کرنا پڑے گا۔
عمران خان صاحب کی سیاست کا محور ہمیشہ روایتی سیاست کی مخالفت رہا۔ ان کو اپنے اصولوں اور طریقہ کار پر بلا کا اعتماد تھا۔ وہ بڑے خواب دیکھنے کے نہ صرف خود عادی ہیں بلکہ اپنے پیروکاروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ ناممکنات کے حصول کےلیے پہچانے جانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے خیر خواہوں کے مشوروں کے برعکس انٹرا پارٹی الیکشن کروائے، کثیر تعداد میں ناتجربہ کار نوجوانوں کو عملی سیاست کا حصہ بنایا، تعلیم، صحت، پولیس و پٹوار کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا اور ان کے درپردہ اس بوسیدہ نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف لڑنے کا وعدہ کیا۔
خان صاحب الیکشن ہار گئے مگر نوجوانوں ان کے ساتھ جڑا رہا وہی نوجوان، وہی نووارد طبقہ ان کے کندھے سے کندھا ملائے دھرنے دیتا دکھائی دیا، گرفتار ہو کر جیلوں میں بھرا گیا، آنسو گیس اور ڈنڈا بردار حکومتی جبر کا نشانہ بنا مگر آپ سے چمٹا رہا۔ کیوں کہ وہ سمجھتا تھا کہ الیکشن میں ہارے ہیں مگر عمران خان جیت رہا ہے۔ اس کی سوچ جیت رہی ہے، اس کا آئیڈیلزم جیت رہا ہے۔
اس نوجوان کو بہت سمجھایا گیا کہ خان صاحب کو سیاست نہیں آتی، معاملہ فہمی سے عاری ہیں، سیاسی تعلقات کی پرواہ نہیں کرتے اور ناتجربہ کار ہیں۔ لیکن پاکستانی نوجوان خان صاحب کی انہی خامیوں کو ان کی اچھائیاں گردانتا رہا کیونکہ اس کو یقین تھا کہ نظام ہار رہا ہے، سیاسی اشرافیہ خائف ہے اور پرانے نظام میں نئے خون کی آمیزش تبدیلی کی نوید ہے۔
اب نئے الیکشن کی آمد آمد ہے اور کچھ روز پہلے ہی 2018 کے انتخابات کےلیے تحریک انصاف کی جانب سے متوقع امیدواروں کی فہرست جاری ہوئی ہے۔ اس فہرست کا جائزہ لینے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ جماعت کی ترجیحات بہرحال تبدیل ہوئی ہیں اور اس تبدیلی کا تعلق براہِ راست پی ٹی آئی کے نوجوانوں سے ہے۔ جہاں بھاری بھرکم روایتی سیاسی پہلوانوں کو جماعت میں نمائندگی دی گئی ہے وہیں نووارد نوجوان طبقے کا تناسب کم ہوا ہے۔
مثلاً قومی اسمبلی کے مجوزہ 166 میں سے 37 امیدواروں کی عمر چالیس سال سے کم ہے جو اعلان کردہ تعداد کی 22.28 فیصد بنتی ہے؛ جبکہ ایسے امیدوار جن کی عمریں اکتالیس سال سے لے کر ساٹھ سال تک ہیں، ان کی تعداد 83 ہے جس کا تناسب 50 فیصد ہے، یعنی تحریکِ انصاف کے تجویز کردہ نصف امیدوار چالیس سے ساٹھ سال کے پیٹے میں ہیں۔
ایسی ہی صورتحال پنجاب اور سندھ کی صوبائی نشستوں پر بھی درپیش ہے۔ جیسا کہ صوبہ پنجاب میں چالیس سال سے کم عمر 24.32 فیصد اور سندھ میں 19.04 فیصد امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ البتہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں یہ تناسب 30.86 فیصد اور بلوچستان میں سب سے زیادہ یعنی 56.52 فیصد ہے۔ اگر اعلان کردہ قومی و صوبائی امیدواروں کا مجموعی طور پر تجزیہ کیا جائے تو کل 476 میں سے 124 امیدواروں کی عمر چالیس سال سے کم ہے جس کا تناسب 26.05 فیصد ہے جو 2013 کے مقابلے میں خاصا کم ہے۔ اسی تناظر میں 41 امیدوار ایسے بھی ہیں کہ جن کی عمر تیس سال سے کم ہے اور ان کا تناسب 8.61 فیصد بنتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے یہ تجزیہ تحریک انصاف کی ویب سائٹ (insaftv) پر دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور ابھی تقریباً چالیس فیصد امیدواروں کا اعلان ہونا باقی ہے۔
بہرحال، 2013 کے مقابلے میں نوجوانوں کی نمائندگی کے حوالے سے تو صورتحال اتنی مخدوش نظر نہیں آتی جتنی روایتی سیاستدانوں اور بااثر گھرانوں کو ٹکٹ کی فراہمی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں میں ایک بے چینی کی فضا بن رہی ہے۔ علی محمد خان، شہریار آفریدی اور شوکت یوسفزئی جیسے پارٹی قائدین کی بابت بروقت حوصلہ افزا فیصلہ نہ ہونا بھی جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے اور ایسا تاثر ابھر رہا کہ پارٹی الیکٹیبلز کے ہاتھوں یرغمال بننے جارہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست میں روایتی سیاستدانوں کی اپنی ایک اہمیت ہے مگر خان صاحب یہ بھی دھیان رکھیں کہ وزارتوں کی تقسیم میں ان ہی بھاری بھرکم پہلوانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کو جیت کے بعد ناراض کریں گے تو قانون سازی متاثر ہوگی۔ ایک بار جیتے ہوئے کی جگہ دوبارہ کارکن کو ٹکٹ کیسے دیں گے؟ پرانے کارکن ان مضبوط سیاستدانوں کے ہوتے ہوئے حلقوں میں اپنی جگہ کیسے برقرار رکھ پائیں گے؟ اگر دورانِ حکومت کڑا وقت آیا تو ان لوگوں پر تکیہ کرسکیں گے؟ سب سے بڑھ کر خیبر پختونخواہ میں ووٹ اگر کارکردگی کی بنیاد پر ہی پڑنے کا یقینِ واثق ہے تو پھر وہاں الیکٹیبلز کو ٹکٹ دینے کی کیا ضرورت تھی؟
خان صاحب! رہنما اپنی ایک ایسی ٹیم بناتا ہے جو اس کے بعد اس کے مشن کو آگے بڑھاسکے۔ آپکی نیت پر کوئی شک نہیں، آپ کے خلوص پر کوئی گلہ نہیں، مگر خاکم بدہن آپ پردہ فرما گئے تو کیا اپنے نوجوان کارکنوں اور خیر خواہوں کو کھوسوں، ہراجوں اور جتوئیوں کے سپرد کر جائیں گے؟ وہی جو آپ ہی کے بقول اس نظام سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، کیا وہی آپ کے جانشین ہوں گے؟ آپ کے بعد اسد عمر نمائندگی کریں گے یا ذوالفقار کھوسہ؟ فرخ حبیب قیادت کریں گے یا نواب شیر وسیر؟ عارف علوی یا لیاقت جتوئی یا پھر عامر لیاقت حسین؟
خدارا اپنے پرخلوص و جانثار حمایتی نہ کھوئیے! اپنے نوجوان طبقے کی نمائندگی بھاری بھرکم روایتی سیاستدانوں کے سامنے اتنی بھی کم نہ کردیجیے کہ ان کے مقابلے میں آپ کو کوئی مشورہ دینے والا یا تعمیری مباحثہ کرنے والا ہی نہ بچے۔ یہ نہ ہو کہ آپ الیکشن تو جیت جائیں مگر وہ عمران خان ہار جائے جو بڑے خواب دکھاتا تھا، جو گلے سڑے اور بوسیدہ نظام کا مخالف تھا، جو روایتی سیاستدانوں کو للکارتا، جس کو خدا کی ذات اور اپنی سوچ پر بھروسا تھا، جو ناممکنات کے حصول کا داعی تھا۔
یہ درست ہے کہ الیکشن جیتے بغیر آپ اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے۔ یہ بھی بجا کہ اناڑی کا انتخاب جیتنا مشکل، مگر حکومت و سیاست میں کچھ بھی آسان نہیں۔
جن کے رتبے ہیں سوا
ان کی سوا مشکل ہے
آپ ایک توازن ضرور قائم کرسکتے ہیں۔ ایسے پرانے نمائندے جن کی کارکردگی 2013 اور بلدیاتی انتخابات میں بہتر رہی ہو، ان کو ٹکٹ دینا چاہیے۔ اب کی بار تو حالات و واقعات کے تناظر میں ان کی جیت کا امکان کہیں زیادہ ہے۔ پارٹی ہائی جیک نہ کروائیے ورنہ بظاہر نظام جیت رہا ہے اور عمران خان صاحب ہار رہے ہیں، وزیراعظم بننے جا رہے ہیں مگر پھر بھی ہار رہے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔