پشاور ہائی کورٹ نے پرویزمشرف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا
آرٹیکل 6 میں ترمیم نہ کی گئی توموجودہ فیصلہ آمر کا ساتھ دینے والوں پر بھی لاگو ہوگا ، جسٹس دوست محمد خان
پرویز مشرف نے ججوں کو بچوں سمیت نذر بند کیا، جس کی مثال نہیں ملتی۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ. فوٹو: فائل
ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اپنی نااہلی کے خلاف دوبارہ اپیل خارج کرتے ہوئے ان پر تاحیات انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگادی ہے ۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں 4 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت لاجز بنچ نے پرویز مشرف کی جانب سے چترال کے حلقہ این اے 32 سے اپنی نااہلی کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے انہیں عمر بھر کے لئے انتخابات کے لئے نااہل قرار دے دیا ہے، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پرویز مشرف نے دو مرتبہ آئین توڑا اور ججوں کو ان کے بچوں سمیت نظر بند کیا، جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔پرویز مشرف قومی اسمبلی اورسینیٹ سمیت کسی قسم کےانتخابات نہیں لڑسکتے۔ پارلیمنٹ آئین کےآرٹیکل 6 میں موجود ابہام کو دور کرے۔ اگر آرٹیکل 6 میں ترمیم نہ کی گئی توموجودہ فیصلہ کسی بھی آمر کا ساتھ دینےوالوں پر بھی لاگو ہوگا اور ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے این اے 32 چترال سے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اعتراض پر انہیں نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنی نااہلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں 4 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت لاجز بنچ نے پرویز مشرف کی جانب سے چترال کے حلقہ این اے 32 سے اپنی نااہلی کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے انہیں عمر بھر کے لئے انتخابات کے لئے نااہل قرار دے دیا ہے، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پرویز مشرف نے دو مرتبہ آئین توڑا اور ججوں کو ان کے بچوں سمیت نظر بند کیا، جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔پرویز مشرف قومی اسمبلی اورسینیٹ سمیت کسی قسم کےانتخابات نہیں لڑسکتے۔ پارلیمنٹ آئین کےآرٹیکل 6 میں موجود ابہام کو دور کرے۔ اگر آرٹیکل 6 میں ترمیم نہ کی گئی توموجودہ فیصلہ کسی بھی آمر کا ساتھ دینےوالوں پر بھی لاگو ہوگا اور ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے این اے 32 چترال سے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اعتراض پر انہیں نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنی نااہلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔