الیکشن کے موقع پر کراچی میں فوج تعینات کی جائے 17 جماعتوں کا آل پارٹیز کانفرنس میں مطالبہ
پارٹیوں کا خدشہ، ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی نے مطالبے کی حمایت نہیں کی
فوج کے بغیر کراچی میں پر امن انتخابات ممکن نہیں ہونگے، پارٹیوں کا خدشہ، ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی نے مطالبے کی حمایت نہیں کی
نگراں حکومت سندھ کے زیر اہتمام منگل کو منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شریک بعض جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات کے موقع پر کراچی میں فوج تعینات کی جائے ۔
نگراں حکومت نے ان سیاسی جماعتوں سے وعدہ کیا ہے کہ انتخابات کے موقع پر جہاں ضرورت ہوئی وہاں فوج کو تعینات کیا جائے گا ، فوج اسٹینڈ بائی ہے ۔ اے پی سی میں پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے فوج بلانے کے مطالبے کی حمایت نہیں کی جبکہ دیگر 17 پارٹیوں نے کثرت رائے سے فوج بلانے کا مطالبہ کیا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر فوج کو نہیں بلایا گیا تو کراچی میں پر امن انتخابات کا انعقاد نا ممکن ہوگا۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے3500 سے زائد انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کی ویڈیو مانٹرینگ ہوگی اور وہاں کیمرے نصب کیے جائیں گے ۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) زاہد قربان علوی کی زیر صدارت نیو سندھ سیکریٹریٹ کے کیبنٹ روم میں منعقدہ اے پی سیمیں21 جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی اور کراچی سمیت پورے سندھ میں انتخابات کے موقع پر امن و امان کی قیام کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ چیف سیکریٹری سندھ محمد اعجازچوہدری ، آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ اور دیگر اعلیٰ حکام نے انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔کانفرنس کے بعد نگراں وزیر اطلاعات نورالہدیٰ شاہ نے صحافیوں کو سندھ اسمبلی بلڈنگ میں بریفنگ دی اور کہا کہ آرٹیکل 245کے تحت فوج کو مدد کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے ۔ انتخابات کے ضروری انعقاد کے لیے جہاں ضروری ہوا48 گھنٹے پہلے فوج کو طلب کرلیا جائے گا۔ نگراںحکومت کا مقصد پرامن انتقال اقتدار ہے اور اس کا کام انتخابات کرانا ہے، ہمارا نگراںحکومت میں توسیع کا ارادہ ہے نہ ہی ہم اس مقصد کے لیے آئے ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ہم سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ حالات کچھ بھی ہوں ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں اور تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے تمام سیاسی پارٹیوں کو انتخابات کے موقع پر ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سوال پر کہ کیا پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کو تعینات کیا جائے گا ؟۔ نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ ہم نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، اگر کہی ضرورت پڑی تو فوج کو تعینات کیا جائے گا۔سندھ میں حالات کی بہتری کے لیے نگراں حکومت وہ اقدامات کرے گی جن سے پرامن پولنگ ممکن ہو سکے اور تمام امیدواروں کو تحفظ حاصل رہے ۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ محمد اعجاز چوہدری نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سیکریٹری دفاع کو صوبے میں فوج طلب کرنے کے لیے خط لکھ دیا گیا ہے ۔آرمی سے 3اہم کام لیے جائیں گے ۔ (اول) فوج سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کی حفاظت کرے گی ۔
(دوئم) بیلٹ پیپر اور انتخابی سامان کی بحفاظت تقسیم اور ترسیل کرے گی ۔ (سوئم) 11 مئی کو انتخابی ٹائم ختم ہونے کے بعد بیلٹ پیپرز کو محفوظ مقام تک پہنچائے گی ۔ اگر ضرورت پڑی تو سندھ میں حساس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے گی ۔ صوبے میں 5500 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن ہیں ، جو خفیہ اداروں کی رپورٹ پر نوٹ کیے گئے ہیں ، ان میں3500 سے زائد انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن صرف کراچی میں ہیں ۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ صوبے کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر فوج ، رینجرز اور پولیس تعینات کی جائے گی ۔ سندھ کے کچے کے علاقوں میں سیکیورٹی کی بہتری کے لیے موٹر سائیکلیں بھی حاصل کی گئی ہیں جبکہ کراچی کے حساس پولنگ اسٹیشنوں کی ویڈیو مانیٹرنگ کی جائے گی اور وہاں کیمرے نصب کیے جائیں گے ۔ کراچی میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن سے 400 میٹر سے کم فاصلے پر انتخابی امیدوار کا کیمپ لگانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ اے پی سی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی امیدوار 5سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار ساتھ نہیں رکھ سکتا اور جن امیدواروں کو اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ ساتھ لے کر چلنا ہوگا وہ اس کی وزارت داخلہ سے پہلے اجازت حاصل کریں گے۔تمام سیاسی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتخابی عمل کے دوران قبائلی جھگڑوں اور ذاتی دشمنیوں کو سامنے نہیں آنے دیں۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ اے پی سی میں شامل تمام جماعتوں نے نگراں وزیراعلیٰ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ اس موقع پر آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے کہا کہ کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کے انتخابی دفاتر پر ہونے والے حالیہ دھماکوں کی تفتیش کا عمل جاری ہے، اس سلسلے میں کسی حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور پولیس حالیہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو کیس ٹو کیس دیکھ رہی ہے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس کو جس امیدوار کے خلاف بھی شکایات موصول ہوں گی ، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔
وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے داخلہ شرف الدین میمن نے کہا کہ عام انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے محکمہ داخلہ میں شکایتی مرکز قائم کیا گیا ہے ۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ انتخابات کے حوالے سے شکایات 99212971 پر درج کرائیں، محکمہ فوری طور پر اقدامات اٹھائے گا ۔آل پارٹیز کانفرنس میںجن سیاسی مندوبین نے شرکت کی ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر تاج حیدر اور پروفیسر این ڈی خان ، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے فیصل سبزواری اور ڈاکٹر صغیر احمد ، عوام نیشنل پارٹی (اے این پی) کے بشیر جان اور الطاف خان، سنی اتحاد کونسل کے حاجی محمد حنیف طیب ، طارق محمود ، مہاجر قومی موومنٹ کے آفتاب حسن ، آل پاکستان مسلم لیگ کے امون پاشا اور سعید قریشی ، سنی تحریک کے مطلوب اعوان ، مسلم لیگ ن کے سلیم ضیا اور غلام مصطفیٰ، جماعت اسلامی کے محمدحسین محنتی ، نصراللہ شجیع اور راجہ عارف ، قومی عوامی تحریک کے مظہر راہوجا ، مسلم لیگ قائداعظم کے حلیم عادل شیخ اور کرنل شہریارخان ، پی ایم اے پی کے صابرین خان اور صادق آغا ، پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی ، جمعیت علمائے پاکستان کے ڈاکٹر صدیق راٹھور اور مستقیم نورانی ، جمعیت علمائے اسلام کے عبدالکریم عابد اور قاری محمد عثمان ، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ حسن ظفر نقوی ، ایم ڈی ایم کے محمد فیاض ، مسلم لیگ فنکشنل کے سردار رحیم اور پیرزادہ یاسر سائیں شامل تھے ۔
نگراں حکومت نے ان سیاسی جماعتوں سے وعدہ کیا ہے کہ انتخابات کے موقع پر جہاں ضرورت ہوئی وہاں فوج کو تعینات کیا جائے گا ، فوج اسٹینڈ بائی ہے ۔ اے پی سی میں پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے فوج بلانے کے مطالبے کی حمایت نہیں کی جبکہ دیگر 17 پارٹیوں نے کثرت رائے سے فوج بلانے کا مطالبہ کیا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر فوج کو نہیں بلایا گیا تو کراچی میں پر امن انتخابات کا انعقاد نا ممکن ہوگا۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے3500 سے زائد انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کی ویڈیو مانٹرینگ ہوگی اور وہاں کیمرے نصب کیے جائیں گے ۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) زاہد قربان علوی کی زیر صدارت نیو سندھ سیکریٹریٹ کے کیبنٹ روم میں منعقدہ اے پی سیمیں21 جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی اور کراچی سمیت پورے سندھ میں انتخابات کے موقع پر امن و امان کی قیام کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ چیف سیکریٹری سندھ محمد اعجازچوہدری ، آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ اور دیگر اعلیٰ حکام نے انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔کانفرنس کے بعد نگراں وزیر اطلاعات نورالہدیٰ شاہ نے صحافیوں کو سندھ اسمبلی بلڈنگ میں بریفنگ دی اور کہا کہ آرٹیکل 245کے تحت فوج کو مدد کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے ۔ انتخابات کے ضروری انعقاد کے لیے جہاں ضروری ہوا48 گھنٹے پہلے فوج کو طلب کرلیا جائے گا۔ نگراںحکومت کا مقصد پرامن انتقال اقتدار ہے اور اس کا کام انتخابات کرانا ہے، ہمارا نگراںحکومت میں توسیع کا ارادہ ہے نہ ہی ہم اس مقصد کے لیے آئے ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ہم سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ حالات کچھ بھی ہوں ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں اور تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے تمام سیاسی پارٹیوں کو انتخابات کے موقع پر ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سوال پر کہ کیا پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کو تعینات کیا جائے گا ؟۔ نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ ہم نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، اگر کہی ضرورت پڑی تو فوج کو تعینات کیا جائے گا۔سندھ میں حالات کی بہتری کے لیے نگراں حکومت وہ اقدامات کرے گی جن سے پرامن پولنگ ممکن ہو سکے اور تمام امیدواروں کو تحفظ حاصل رہے ۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ محمد اعجاز چوہدری نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سیکریٹری دفاع کو صوبے میں فوج طلب کرنے کے لیے خط لکھ دیا گیا ہے ۔آرمی سے 3اہم کام لیے جائیں گے ۔ (اول) فوج سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کی حفاظت کرے گی ۔
(دوئم) بیلٹ پیپر اور انتخابی سامان کی بحفاظت تقسیم اور ترسیل کرے گی ۔ (سوئم) 11 مئی کو انتخابی ٹائم ختم ہونے کے بعد بیلٹ پیپرز کو محفوظ مقام تک پہنچائے گی ۔ اگر ضرورت پڑی تو سندھ میں حساس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے گی ۔ صوبے میں 5500 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن ہیں ، جو خفیہ اداروں کی رپورٹ پر نوٹ کیے گئے ہیں ، ان میں3500 سے زائد انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن صرف کراچی میں ہیں ۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ صوبے کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر فوج ، رینجرز اور پولیس تعینات کی جائے گی ۔ سندھ کے کچے کے علاقوں میں سیکیورٹی کی بہتری کے لیے موٹر سائیکلیں بھی حاصل کی گئی ہیں جبکہ کراچی کے حساس پولنگ اسٹیشنوں کی ویڈیو مانیٹرنگ کی جائے گی اور وہاں کیمرے نصب کیے جائیں گے ۔ کراچی میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن سے 400 میٹر سے کم فاصلے پر انتخابی امیدوار کا کیمپ لگانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ اے پی سی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی امیدوار 5سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار ساتھ نہیں رکھ سکتا اور جن امیدواروں کو اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ ساتھ لے کر چلنا ہوگا وہ اس کی وزارت داخلہ سے پہلے اجازت حاصل کریں گے۔تمام سیاسی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتخابی عمل کے دوران قبائلی جھگڑوں اور ذاتی دشمنیوں کو سامنے نہیں آنے دیں۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ اے پی سی میں شامل تمام جماعتوں نے نگراں وزیراعلیٰ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ اس موقع پر آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے کہا کہ کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کے انتخابی دفاتر پر ہونے والے حالیہ دھماکوں کی تفتیش کا عمل جاری ہے، اس سلسلے میں کسی حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور پولیس حالیہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو کیس ٹو کیس دیکھ رہی ہے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس کو جس امیدوار کے خلاف بھی شکایات موصول ہوں گی ، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔
وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے داخلہ شرف الدین میمن نے کہا کہ عام انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے محکمہ داخلہ میں شکایتی مرکز قائم کیا گیا ہے ۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ انتخابات کے حوالے سے شکایات 99212971 پر درج کرائیں، محکمہ فوری طور پر اقدامات اٹھائے گا ۔آل پارٹیز کانفرنس میںجن سیاسی مندوبین نے شرکت کی ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر تاج حیدر اور پروفیسر این ڈی خان ، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے فیصل سبزواری اور ڈاکٹر صغیر احمد ، عوام نیشنل پارٹی (اے این پی) کے بشیر جان اور الطاف خان، سنی اتحاد کونسل کے حاجی محمد حنیف طیب ، طارق محمود ، مہاجر قومی موومنٹ کے آفتاب حسن ، آل پاکستان مسلم لیگ کے امون پاشا اور سعید قریشی ، سنی تحریک کے مطلوب اعوان ، مسلم لیگ ن کے سلیم ضیا اور غلام مصطفیٰ، جماعت اسلامی کے محمدحسین محنتی ، نصراللہ شجیع اور راجہ عارف ، قومی عوامی تحریک کے مظہر راہوجا ، مسلم لیگ قائداعظم کے حلیم عادل شیخ اور کرنل شہریارخان ، پی ایم اے پی کے صابرین خان اور صادق آغا ، پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی ، جمعیت علمائے پاکستان کے ڈاکٹر صدیق راٹھور اور مستقیم نورانی ، جمعیت علمائے اسلام کے عبدالکریم عابد اور قاری محمد عثمان ، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ حسن ظفر نقوی ، ایم ڈی ایم کے محمد فیاض ، مسلم لیگ فنکشنل کے سردار رحیم اور پیرزادہ یاسر سائیں شامل تھے ۔