الیکشن سے متعلق شبہات ختم اردو میں خطاب کی ستائش

آرمی چیف کے لہجے میں اعتمادتھا،باڈی لینگویج بھی خاص پیغام پہنچارہی تھی


Tanveer Qaisar Shahid May 01, 2013
آرمی چیف کے لہجے میں اعتمادتھا،باڈی لینگویج بھی خاص پیغام پہنچارہی تھی. فوٹو:فائل

یومِ شہدا کی تقریبِ پُرتاثیر ودل پذیر کے موقع پر جی ایچ کیو کے وسیع سبزہ زار میں بیٹھے سیکڑوں سامعین کرام سے سپہ سالار ِافواجِ پاکستان جنرل پرویزکیانی کا خطاب فی الحقیقت پاکستان کے 18کروڑ عوام سے براہ راست مکالمہ تھا۔

قومی زبان میں ادا کیاگیا ان کا ایک ایک لفظ دل سے نکلا اور سیدھا دلوں میں جاگزیں ہوگیا۔ پاکستان بھر میں جنرل پرویز کیانی کے اس خطاب کو خصوصاً اس لیے بھی بے پناہ پسند کیاگیا کہ یہ اردو زبان میں تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں تھا،اس شاندار اور منفردتقریب میں غیر ملکی سفیر بھی شریک تھے لیکن جنرل کیانی نے انگریزی زبان کی بجائے عوام کی زبان میں تقریر کرنے کو ترجیح دی۔اس اسلوب کی ستائش کی جانی چاہیے۔جنرل کے لہجے میں اعتماد بھی تھا اور انکی باڈی لینگویج دیکھنے والوں کو ایک خاص پیغام بھی پہنچارہی تھی۔ جنرل پرویزکیانی کے خطاب نے ان زبانوں کو مستقل طور پر بند کردیا ہے جو اپنے مخصوص اہداف کے حصول کی کوشش میں مسلسل یہ پروپیگنڈہ کررہی تھیں کہ عام انتخابات کا ڈول نہیں ڈالا جاسکے گا۔



یہ خطاب عین موقع پر سامنے آیا ہے۔انتخابات سے ٹھیک 11 روز قبل جنرل پرویزکیانی نے واضح الفاظ میں پوری قوم اور غیر ملکی طاقتوں پر آشکار کردیا ہے کہ انتخابات انشاء اللہ ہر صورت میں 11 مئی کو ہی منعقد ہوں گے اور افواجِ پاکستان آئینی حدود میں رہتے ہوئے انتخابات کے انعقاد میں بھرپور معاونت فراہم کرے گی۔جنرل کیانی نے اپنے خطاب میں گزشتہ سال گیاری میں برفانی تودوں کے نیچے دب کر شہید ہوجانے والے تقریباً 150 افراد کا ذکرکرکے ثابت کردیا ہے کہ اُن کا دل اپنے جوانوں اور افسروں کے لیے ہر وقت اور یکساں طورپر دھڑکتا اور تڑپتا ہے۔سپہ سالار ِپاکستان نے واضح کردیا کہ انتخابات بہرحال 11 مئی کو ہوکررہیں گے۔

یہ پیغام دہشت گردوں تک بھی پہنچ گیا ہے ۔قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ جنرل پرویز نے اپنے خطاب میں ان مرکزگریز قوتوں اور ملک دشمن طاقتوں کو انتباہ بھی کیا ہے۔جنرل کیانی نے اپنے خطاب میں یہ پیغام واضح کردیا کہ انھوں نے تو فوجی وردی کیساتھ جمہوریت کی مقدور بھر بھرپور خدمات انجام دے دی ہیں لیکن اب نواز شریف ،عمران خان سمیت ملک کے دیگر سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو عوام کے سامنے یہ جواب دینا ہوگا کہ انھوں نے دہشتگردوں اور دہشت گردی کے خاتمے کیلیے فوج سے ملکر کیا کیاخدمات انجام دیں ۔جنرل کیانی نے اپنے خطاب میں باربار شہدا کا ذکر کرکے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ اس ملک کی سلامتی اور اسے دشمن طاقتوں سے محفوظ رکھنے کے لیے لازم ہے۔

مقبول خبریں