محمود مرزا ایک باکمال شخصیت

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے


سلمان عابد January 02, 2026
[email protected]

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے

لاہور کے میو گارڈن جسے ہم سب ٹھنڈی سڑک کے طور پر بھی جانتے ہیں اور جہاں شام پیڑوں ،بڑے بڑے درختوں ، پھولوں اور پودوں کے ساتھ نہ صرف مہک رہی ہوتی بلکہ ایک خاص رومانوی منظر کی عکاسی کرتی ہے ۔ایک دن محمود مرزا کے گھر بیٹھا ان کی گفتگو کو غور سے سن رہا تھا تو وہ بولے چلو واک پر چلتے ہیں ۔

اسی واک کے دوران ان کی یہ عادت تھی کہ وہ دوستوں کے ساتھ واک یا چہل قدمی کرتے اور ان سے سیاسی ،سماجی ،معاشی ،مذہبی اور دیگر علمی معاملات پر خوب مکالمہ ہوتا تھا ۔محمود مرزا عملاً ایک مکالمہ یا گفتگو کے آدمی تھے۔ گفتگو میں ان کی جذباتیت بھی ہوتی تھی مگر اسی جذباتیت میں وہ منطق،دلیل ،شواہد اور علمی و فکری بنیادوں پر گفتگو کرتے یا مختلف موضوعات پر اپنا مقدمہ دوسروں کے سامنے پیش کرتے تھے۔

کمال یہ تھا کہ اپنی بات دوسروں پر مسلط کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے دوسروں کی رائے کو سنتے اور جہاں محسوس ہوتا کہ ان کی اپنی رائے میں جھول ہے تو دوسروں کی رائے کو تسلیم کرکے خود کو ایک بڑے فکری راہنما کے طور پر نمایاں کرتے تھے ۔ہر نقطہ نظر یا مختلف سوچ کے حامل دائیں اور بائیں بازو کے افراد یا اہل دانش کے ساتھ ان کی خوب دوستی تھی اور کسی شخصیت کے بار ے میں نہ تو متعصب تھے اور نہ ہی کسی بھاری بھرکم شخصیت کے رعب کا شکار تھے ۔

ایک نہایت ہی سادہ اور درویش مزاج محمود مرزا ایڈووکیٹ پیشہ کے اعتبار سے ’’کارپوریٹ ٹیکس لائر‘‘ تھے۔لیکن ان کی ساری زندگی سیاسی ، سماجی یا معاشی سطح کی تبدیلیوں ، فکری مباحثوں ،تحریروں یا علمی و فکری تحقیق میں گزری ۔ وہ ایک آزاد ، منصفانہ ، رواداری، سماجی یا معاشی انصاف پر مبنی روشن خیال معاشرے کو دیکھنا چاہتے تھے اور ان کی جدوجہد اسی نقطہ کے گرد گھومتی تھی ۔

تین اکتوبر 1932 کو پیدا ہونے والے محمود مرزا بنیادی طور پر نظام کی تبدیلی کے طورپر اپنی علمی و فکری یا سیاسی شہرت رکھتے تھے ۔سیاسی ، سماجی یا معاشی محرومیاں، سیاست اور جمہوریت یا انتہا پسندی یا پر تشدد رجحانات ،محروم طبقات سے جڑے مسائل اور ٹیکس کے نظام میں جو سماجی رکاوٹیں تھیں ان کا ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہتا تھا ۔اسی ٹھنڈی سڑک یعنی میو گارڈن میں ایک دن واک کرتے ہوئے وہ ملک میں موجود انتہا پسندی اور دہشت گردی کے معاملات پر بہت فکر مند تھے ۔

وہ ان تمام معاملات کو حکومتی داخلی یا خارجی یا علاقائی پالیسیوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے تھے ۔ان کے بقول ایک دن انتہا پسندی اور دہشت گردی کا یہ کھیل مجموعی طور پر ہماری پورے ریاست کے سیاسی سماجی ،،معاشی اور سیکیورٹی کے نظام کو تباہ برباد کردے گا اور اس کی ذمے داری جہاں ریاستی پالیسیوں کے ساتھ جڑی ہوگی وہیں اس کی بھاری قیمت بطور معاشرہ ہمیں ادا کرنا ہوگی۔آج محمود مرزا دنیا سے رخصت ہوگئے مگر آج کے حالات میں ان کی باتیں بہت یاد آتی ہیں اور کیا کمال سے انھوں نے اس ریاست کے مستقبل کا نقشہ کھینچا تھا۔دہشت گردی سے جڑے واقعات اور پالیسیوں پر وہ بہت رنجیدہ ہوتے تھے یا ان کے چہرے پر دکھ کا پہلو نمایاں ہوتا یا ان کی فکر مندی ظاہر کرتی تھی کہ وہ دوراندیش فرد کی نگاہ بھی رکھتے تھے ۔

آج بھی جب میں ٹھنڈی سڑک یا میو گارڈن سے گزرتا ہوں تو محمود مرزا بہت یاد آتے ہیں ۔ان کا یہ جملہ کبھی نہیں بھولتا جب وہ فون کرتے تو کہتے ’’ کہ اگر برا نہ مناؤ اور کہیں قریب ہو تو گھر آجاؤ، ملاقات اور بات چیت کا دل کر رہا ہے ‘‘ مرزا صاحب کے یہ الفاظ مجھے ہمیشہ ان کے گھر کے قریب کردیتے تھے اور پھر ہماری خوب بات چیت اور گپ شپ ہوتی ۔لیکن اس غیر رسمی گفتگو میں مرزا صاحب حکومت اوراسی معاشرے سے جڑے سنجیدہ معاملات پر بہت زیادہ فکر مند رہتے تھے اور ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ان کے اندر کی سیاسی بے چینی ان کو کچھ نہ کچھ کرنے پر اکساتی رہتی ہے۔

محمود مرزا اور میرے والد عبدالکریم عابد )مرحوم ( کی دوستی بھی کمال کی تھی ،جب محمود مرزا صاحب کی رہائش گاہ جوہر ٹاون میں تھی تو ہر شام وہ گھر تشریف لاتے اور ان کے اور والد کے درمیان جو گفتگو کی محفل سجتی تو میں بھی اس میں شامل ہوتا تھا اور یہ تعلق بعد میں ان سے ایک مضبوط دوستی یا ان سے راہنمائی حاصل کرنے والے کا بھی بن گیا تھا۔محمود مرزا باقاعدگی سے اردو اور انگریزی اخبارات میں کالم لکھتے تھے اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی ان کا جنون تھا ۔انھوں نے کئی اہم کتابیں لکھیں ان میں پاکستان معیشت اور سیاست، آج کا سندھ ، مسلم ریاست جدید کیسے بنے ،ٹیکس نظام کا سماجی جائزہ اور سماجی تبدیلی شامل ہیں۔ مسلم ریاست جدید کیسے بنے اس میں ان کا تمام علمی اور فکری اثاثہ شامل ہے کہ وہ پاکستان کو کس طرز کی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے اور اس ریاست کو ایسے کیا چیلنجز درپیش ہیں جو سماجی انصاف پر مبنی ریاست کی تشکیل میں رکاوٹ ہے ۔ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی بات بہت سادہ لفظوں میں بیان کرتے تھے اور کئی بار مجھ سمیت کئی دوستوں کو چھاپنے سے پہلے پڑھاتے تھے کہ کیا عام آدمی ان کی بات سمجھ سکتا ہے ۔

محمود مرزا ایڈووکیٹ کی فکری مجالس میں ڈاکٹر حسن عسکری ، مجیب الرحمن شامی ،فرخ سہیل گوئندی ،سجاد نصیر ، شاہد کاردار، ڈاکٹر مبارک علی ،میجر ارج زکریا،ڈاکٹر قیس اسلم،امتیاز عالم،بلال نقیب،وقار مصطفے،ثقلین امام،ابوبکر ورک،انجم رشید،حسین نقی، عبداللہ ملک ،پروفیسر سجادنصیر، شاہد ملک،خالد رسول، خالد فاروقی ،ظفر علی خان نمایاں ہوتے تھے۔وہ ایک مہمان نواز اور مجلسی آدمی تھے اور بغیر دوستوں یا مجالس کے وہ واقعی خود کو تنہا محسوس کرتے تھے ۔ایک ایسا فرد جہاں اسے سماج کے مسائل پر بھی علمی و فکری جنگ لڑنی تھی وہیں ان کی توجہ کا مرکز گھر بھی ہوتا تھا ۔

ان کے دونوں بیٹے حامد محمود مرزا اور عامر محمود مرزا سمیت ان کی اہلیہ منزہ محمود مرزا ان کی زندگی تھے اور اکثر وہ مجھ سے اپنے گھر کے افراد کا ذکر کرتے تو ان کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں ۔ان سب کے بارے میں ان کی فکر مندی کمال کی تھی اور کہتے تھے کہ ان ہی کی مدد اور تعاون سے میں یہ سب کچھ کرتا ہوں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ محمود مرزا کا انتقال 11مئی 2015کو ہوا تو ان کی اہلیہ اسی تاریخ کو یعنی گیارہ مئی 2022میں دنیا چھوڑ گئی ۔محمود مرزا کے ساتھ جمہوری پبلیکیشن یا فرخ سہیل گوئندی کے دفتر میں ملاقاتیں اور گفتگو کمال کا سرمایہ ہیں اور واقعی اس طرز کی شخصیات بہت کم ہوتی ہیں جو اپنی زندگی سے زیادہ سماج اور مظلوم سماج اور اس میں بسنے والوں کے بارے میں سوچتی ہو۔وہ سماج کو بدلتا ہوا دیکھنے کی خواہش اور جدوجہد کے ساتھ دنیا سے چلے گئے لیکن ابھی بھی کئی ایسے جنونی عاشق ہیں جو سماج کی تبدیلی کے لیے محمود مرزا کے افکار کی بنیاد پر کام بھی کر رہے ہیں اور جدوجہد میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔یہ ہی لوگ بنیادی طور پر سماج یا معاشرے کے حقیقی چہرے کا روپ ہوتے ہیں اورسماج ان کے جانے کے بعد بھی ان کے افکار کو یاد رکھتا ہے ۔

پاکستان کی سیاست کے بارے میں ان کی فکر مندی کمال کی تھی اور ان کے بقول ہمارا سماجی ڈھانچہ ہی جمہوری بنیادوں پر استوار نہیں ہوسکا اور جو کتاب انھوں نے سماجی تبدیلی کے تناظر میں لکھی تھی اس میں ان تمام معاملات کا بہت خوب تجزیہ شامل ہے۔وہ پاکستان کی معیشت کے نظام کو طاقت ور سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ کا نظام سمجھتے تھے اور ٹیکس کے نظام کو کہتے تھے کہ یہ طاقت ور طبقات کے کنٹرول میں ہے جو عملی طور پر کمزور افراد کے لیے معاشی استحصال کی حیثیت رکھتاہے۔ان کے بقول پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا ماڈل کارپوریٹ طرز کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سرمایہ دار لوگ سیاست میں سرمایہ کاری کرکے اپنے کاروبار اور دولت کو سماجی اور قانونی تحفظ دیتے ہیں۔

محمود مرزا کا انتقال 11مئی 2015کو لاہو رمیں ہوا تو ان کا چہرہ دیکھا تو خوب روشنی بکھیر رہا تھا اور ایسے لگتا تھا کہ اللہ تعالی بھی محمود مرزا سے خوش ہے اور انھوں نے بھی اس کی محنت ،جدوجہد اور علمی و فکری سفرکو قبول کیا ہے۔لیکن میو گارڈن کی سڑکیں آج بھی مجھے محمود مرزا کی یاد دلاتی ہیں یا مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میں آج بھی ان کے ساتھ گفتگو بھی کررہا ہوں اور واک بھی۔ مرزا صاحب آپ تو چلے گئے لیکن آپ کی محفلیں اور آپ کا علمی سرمایہ ہی ایک بڑی طاقت کے طور پر موجود ہے جو آپ کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے ۔

بدلا نہ تیرے بعد بھی موضوع گفتگو

تو جا چکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہے

مقبول خبریں