دنیا بھر میں ہر نئے سال کی آمد پر جشن منایا جاتا ہے۔ مہذب، باوقار، دوربیں اور باشعور جمہوری معاشروں میں جہاں نئے سال کو پورے جوش و جذبے کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے، وہیں گزشتہ سال کے واقعات و حالات پر نظرثانی کر کے کارکردگی اور کارگزاریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور آیندہ سال کے لیے ماضی کے تجربات کی روشنی میں بہتر سے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی آگے بڑھنے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں و کوتاہیوں سے سبق حاصل کر کے مستقبل میں انھیں دہرانے سے گریز کرتے اور روشن مستقبل کی تعبیر کرنے کے لیے آئین، قانون، انصاف اور جمہوری اقدارکی پاس داری کو یقینی بناتے ہیں۔
2025 کا سال اپنے دامن میں بہت سے تلخ و شیریں واقعات کو سمیٹے گزرگیا اور نئے سال 2026 کا سورج تازہ امنگوں، نئی امیدوں اور روشن مستقبل کی نوید لیے طلوع ہو چکا ہے۔ اب یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم 2025کے حوادث سے سبق حاصل کرکے 2026 کو ایک ایسا کامیاب اور مثالی سال بنانے کی منصوبہ بندی کریں، جو ملک کو سیاسی، معاشی، سماجی، دفاعی اور دیگر قابل ذکر شعبہ ہائے زندگی میں ماضی کے مقابلے میں وکٹری اسٹینڈ پرکھڑا کرنے کے قابل بنا سکے، جہاں عوام حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہوں، عام آدمی کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئے، غربت، مہنگائی، بے روزگاری کا خاتمہ ہو، ملک میں ایسا معاشی استحکام آئے کہ اربوں ڈالر کے قرضوں کے بوجھ سے نجات مل سکے۔
آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور مالی معاونت سے جان چھوٹ جائے، ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری رسہ کشی، محاذ آرائی اور ٹکراؤ کی فضا ختم اور افہام و تفہیم، صبر وتحمل اور تدبر و بصیرت سے سیاسی درجہ حرارت کو نارمل کیا جاسکے۔ پاکستان نے 2025 میں بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر دفاعی محاذ پر جو غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے اور دانش مندانہ سفارت کاری سے بیرونی دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر بنا کر امریکا و دیگر ممالک میں پاکستان کا جو وقار بحال کیا ہے اسے مزید بہتر بنایا جاسکے۔
بجا کہ پاکستان نے 2025 میں بھارت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کر کے اپنی جنگی مہارت اور عسکری صلاحیت کا لوہا دنیا بھر سے منوا لیا اور ثابت کر دیا کہ اپنے سے چار گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے میں پاک فوج کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ دنیا ہماری پاک فوج کی صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہے۔ عوام بھی اپنی فوج پر فخر کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں جس طرح بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جلد دہشت گردوں کے خلاف بھی پاک فوج کو کامیابی نصیب ہوگی اور وطن عزیز کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات مل جائے گی۔ یہاں یہ بات بھی طے ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر سیاسی استحکام نہیں آ سکتا بعینہ معاشی و سیاسی استحکام کے بغیر دفاعی استحکام بھی تادیر پائیدار نہیں رہ سکتا۔ روس جیسی بڑی عسکری قوت نے 9 سال تک افغانستان میں جنگ لڑی لیکن معاشی دباؤ برداشت نہ کر سکی اور اسے عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
آپ 2025 میں ملک کے سیاسی و معاشی حالات کا جائزہ لیں تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت اپوزیشن محاذ آرائی کے باعث سیاسی استحکام کا خواب تشنہ تعبیر رہا۔ اپوزیشن کی بڑی جماعت پی ٹی آئی کو دباؤ میں رکھنے کے لیے سیاسی، آئینی اور قانونی حربوں کا استعمال کیا گیا۔ اکتوبر 24ء میں 26 ویں ترمیم کے ذریعے حکومت نے عدلیہ کو جس طرح تقسیم کیا، 2025ء میں 27 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ و پارلیمنٹ میں بھی اپنی گرفت مضبوط کرلی۔
طاقت ور شخصیات کو استثنیٰ مل گیا ہے جس سے بلاتفریق احتساب پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور سیاسی محاذ آرائی کو مزید کمک مل گئی ہے۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بے نظیر بھٹو شہید کی برسی پر بالکل درست کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے سیاسی بحران کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ کام صدر زرداری کر سکتے ہیں، بے نظیر بھٹو کا آخری پیغام بھی مفاہمت ہی تھا۔ گویا حکومت کے اہم اتحادی اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ملک میں 2025 کا سال سیاسی و معاشی بحران میں گزرا ہے۔ ملک کے دانشور حلقے مبصرین و تجزیہ نگار بھی حکومت کو باور کروا رہے ہیں کہ معاشی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کا گراف نیچے آ رہا ہے۔
معروف ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں جس سے ملک کی معیشت دباؤ کا شکار ہے لیکن حکومت معاشی ترقی و استحکام کے شادیانے بجا رہی ہے۔ پی آئی اے جیسے منافع بخش ادارے کو پہلے خسارے کی دلدل میں اتارا، اب آئی ایم ایف کے دباؤ پر اس کی نج کاری کر کے خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اسٹیل ملز کو تباہ کر کے مکمل طور پر بند کیا اور کوئی پرسان حلال نہیں، کیا معیشت ایسے مستحکم ہوتی ہے؟ 2025 میں عوام مہنگائی و غربت کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے۔ آٹا، چینی جیسی عام استعمال کی اشیا کی قیمتیں حکومتی کنٹرول سے باہر ہو گئیں۔ غربت کا گراف اوپر چلا گیا، دفاع کے علاوہ ہر شعبے پر مایوسی غالب رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت 2025 کی مایوسیوں کو 2026 کی امیدوں میں بدل سکتی ہے؟