اپنے محبوب وطن کیوں چھوڑنا پڑتے ہیں؟

2025 کے دوران مجھے جو شاندار اور ناقابلِ فراموش کتابیں پڑھنے کو ملیں، اُن میں ایک Googoosh:A Sinful Voice نامی کتاب بھی ہے


تنویر قیصر شاہد January 02, 2026

نیا سال 2026 طلوع ہو چکا ہے ۔ سب کو نیا سال مبارک۔ آج نئے سال کے پہلے مہینے کی دو تاریخ ہے ۔ ہمیں نئے سال کے موقع پر گزرے برس کا احتساب بھی کرنا چاہیے ۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ اُس نے مہنگائی کم کی ہے اور پاکستان کے معاشی حالات بہتر بنائے ہیں ۔ مگر اِن سرکاری دعوؤں کے اثرات عوام تک نہیں پہنچے ہیں۔ پچھلا سال اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کے لیے دلشکن رہا ۔

پاکستان کے ایک معتبر سرکاری ادارے’’بیورو آف امیگریشن اینڈ اووَرسیز ایمپلائمنٹ‘‘(BEOE) کے جاری کردی ڈیٹا کے مطابق’’2025 میں پاکستان سے7لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل لوگ ملک چھوڑ گئے ۔ اِن میں ڈاکٹرز ، انجینئرز، آئی ٹی ایکسپرٹ اور پی ایچ ڈی کے حاملین کی اکثریت تھی۔‘‘ اگر پاکستان میں معاشی، سیاسی اور امن کے حالات بہتر اور اطمینان بخش ہوتے تو اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی وطن کو خیر باد نہ کہتے کہ اپنا وطن چھوڑنے کے لیے دل پر پتھر رکھنا پڑتا ہے ۔

 2025 کے دوران مجھے جو شاندار اور ناقابلِ فراموش کتابیں پڑھنے کو ملیں، اُن میں ایک Googoosh:A Sinful Voice نامی کتاب بھی ہے۔ مسلم ممالک میںاپنے وطن کے جابر حکمرانوں کے پیدا کردہ جبریہ ماحول میں جن اہم افراد کو مجبوراً اپنا وطن چھوڑنا پڑا، ان میں ایک گوگوش بھی ہیں : ایران کی عالمی شہرت یافتہ اور ہر دلعزیز مغنیہ۔ موجودہ مذہبی و انقلابی ایرانی حکومت سے قبل اور شاہ ایران کی حکومت کے دوران گوگوش کو ایران اور فارسی دان دُنیا میں وہی حیثیت حاصل تھی جو کبھی مصر کی ناقابلِ فراموش گلوکارہ اُمِ کلثوم کو حاصل تھی۔ گلوکارہ گوگوش کی عمر اِس وقت 75برس ہے۔

اُنہیں سخت ایرانی مذہبی حکومت اور شدید پابندیوں کے کارن ایران کو خیرباد کہنا پڑا ۔ اُنہی کی طرح شاہ ایران کے دَور کے بعض نامور صحافیوں کو بھی( ایران میں خمینی مرحوم کی حکومت نافذ ہونے کے بعد ) ایران سے جبریہ نکلنا پڑا ۔ ان نامور ایرانی صحافیوں میںعالمی شہرت یافتہ صحافی ، امیر طاہری، بھی تھے ۔ ایران کے مشہور انگریزی اخبار کے سابق ایڈیٹر ، وہ آجکل فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

گوگوش کی مذکورہ بالا تازہ تصنیف پڑھ کر بے حد افسوس ہُوا۔ ملک میں جب جبر ، تشدد اور گھٹن کا ماحول پیدا ہو جائے تو کیسے کیسے شاندار اور لائق فائق لوگوں کو دل پر پتھر رکھ کر فرار ہونا پڑتا ہے ۔ گوگوش نے یہ کتاب اپنی دوست ، تارہ دہلوی، کے ساتھ مل کر لکھی ہے اور خوب لکھی ہے۔ 1979 میں ایرانی مذہبی انقلاب برپا ہونے اور شاہ ایران کی جگہ آئیت اللہ خمینی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اچانک جو غیر متوقع سیاسی ، ثقافتی ، مذہبی اور معاشی حالات پیدا ہُوئے، اِن سب کی تفصیلی تصویر ہمیں گوگوش کی کتاب میں ملتی ہے۔

شاہ ایران کی حکومت ختم ہونے کے بعد کئی نامور ایرانیوں کے ساتھ گوگوش بھی جلاوطن ہو گئی تھیں ، مگر ایران سے باہر اُن کا دل نہ لگا اور وہ پھر ایران لَوٹ آئیں۔ مگر ایران میں اُنہیں جن پابندیوں اور قید و بند کی سختیوں سے گزرنا پڑا، گوگوش موقع ملتے ہی ایران سے پھر نکل کھڑی ہُوئیں ۔ وہ کہتی ہیں :’’ اگر اصلاح پسند ایرانی صدر ، محمد خاتمی، کے دَور میں مجھے ذرا سا سانس لینے کا موقع نہ ملتا تو شائد مَیں آج بھی ایران میں گل سڑ رہی ہوتی ۔‘‘

آج کی ایرانی مذہبی حکومت اب بھی گلوکارہ گوگوش کی مذمت کرتی سنائی دیتی ہے۔ گوگوش مگر اب بھی اپنے سابقہ محبوب وطن کو حدت اور شدت سے یاد کرتی ہیں۔ اُن کی کتاب آہوں اور سسکتی یادوں کا مجموعہ کہا جا سکتا ہے۔ اُنھوں نے اپنی تصنیف میں 23سالہ کُرد ایرانی خاتون، مہسا امینی، مرحومہ کو بھی یاد کیا ہے جنہیں 3سال قبل مبینہ طور پر ایرانی تھانے میں محض اس لیے مبینہ طور پر تشدد سے مارڈالا گیا تھا کہ مہسا امینی نے سرکاری احکامات کے عین مطابق حجاب نہیںاوڑھا تھا۔ امینی کے مبینہ قتل پر ایران بھر میں خواتین کی طرف سے انتہائی سخت ردِ عمل آیا تھا ۔ ایرانی گوگوش کی لکھی گئی مذکورہ سوانح حیات محض ایک گلوکورہ کے ذاتی تجربات و احساسات کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ یہ دراصل آج کے ایران کی باطنی زندگی کی ایک منہ بولتی کہانی بھی ہے ۔ گوگوش نے یہ کتاب اپنے والد گرامی، صابر آتشیں ، کے ساتھ ساتھ ایران کے نوجوانوں کے نام بھی کی ہے جو ’’صبروتحمل سے اُس دن کے منتظر ہیں جب اُنہیں اپنی مرضی کے ساتھ زندگیاں گزارنے کی آزادیاں میسر ہوں گی۔‘‘

گوگوش کی سوانح حیات پڑھتے ہُوئے مجھے مقبول فدا حسین ، المعروف ایم ایف حسین، بھی یاد آتے رہے : بھارت کے عالمی شہرت یافتہ مسلمان مصور ۔ ایم ایف حسین کو اُن کی بے نظیر مصوری کی بنیاد پر ’’انڈین پکاسو‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ بھارت کو اپنے اِس معروف و مشہور مصور پر تو فخر اور مان کرنا چاہیے تھا ، لیکن مودی کی بنیاد پرست اور مسلم دشمن حکومت اور مقتدر پارٹی کے ظلم اور تشدد کی وجہ سے ایم ایف حسین کو زندگی بچانے اور مصوری جاری رکھنے کے لیے مجبوراً بھارت سے نکلنا پڑا۔ متعصب ، مقتدر اور بنیاد پرست کٹڑ بھارتی ہندوؤں نے ایم ایف حسین پر الزام عائد کیا تھا کہ اُنھوں نے اپنی ایک پینٹنگ میں ہندو دیویوں کی توہین کی ہے ۔ اِس الزام کے تحت ایم ایف حسین کے گھر پر حملہ بھی کیا گیا اور اُسے نذرِ آتش کرنے کی کوشش بھی کی گئی ۔

تنگ آکر ایم ایف حسین بھارت سے نکل کر پہلے دبئی گئے اور پھر وہاں سے برطانیہ۔ 2011 میں برطانیہ ہی میں اُن کاانتقال ہو گیا۔ایم ایف حسین کے فن اور آرٹ کی قدر بھارت میں اگرچہ نہیں کی گئی مگر اَب قطر میں اُن کے فن اور تصویری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے ایک منفرد عجائب گھر بنایا گیا ہے ۔ قطری حکومت نے اِس عجائب گھر کو’’ لوح و قلم ‘‘ کے نام سے معنون کیا ہے ۔ اِس میں ایم ایف حسین کی نایاب اور انتہائی مہنگی پینٹنگز رکھی گئی ہیں ۔یاد رہے چند سال قبل ایم ایف حسین کی ایک پینٹنگ بعنوان Voices ڈھائی ملین ڈالرز ( 75کروڑ روپے) میں فروخت ہُوئی تھی۔

پچھلے برس شام کے سابق صدر ، بشار الاسد، اور بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم ، شیخ حسینہ واجد، کو بھی اپنے اپنے وطن تیاگ کر بیرونِ ملک فرار ہونا پڑا ۔ بشار الاسد کو رُوس میں سر چھپانا پڑا اور حسینہ واجد کو بھارت میں ۔ اِن دونوں کی ملک بدری اور فراریت مگر اُن کی مطلق العنانیت اور عوام پر مظالم کی کہانیاں بنیں   مگر یہ دونوں رُوس اور بھارت میں بیٹھ کر بھی اپنے اپنے (سابقہ ) ممالک میں سازشیں کرنے اور عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانے سے باز نہیں آ رہے۔

مثال کے طور پر 5دسمبر2025 کو ’’الجزیرہ‘‘ نے ’’رائٹرز‘‘ کے حوالے سے خبر دی کہ ’’ مفروربشار الاسد اپنے دو سابقہ وفادار اور مفرور جرنیلوں ( رمی مخلوف اورکمال حسین )کے توسط سے شام کی موجودہ حکومت کو بلڈوز کرنے کے لیے شام میں حکومت مخالف’’علوی‘‘ باغی قبائل میں رقوم تقسیم کررہے ہیں تاکہ شام میں صدر احمد الشرع کی حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے ۔ دونوں جرنیلوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ ارب پتی ہیں۔اِسی طرح بھارت میں پناہ گزیں مفرور حسینہ واجد آئے روز اپنے اخباری اور ٹوئٹری بیانات میں بنگلہ دیش میںاپنے بچے کھچے پارٹی وفاداروں کو ’’تگڑے رہنے‘‘ کے پیغامات دیتی رہتی ہیں۔

 یہ سطور لکھتے ہُوئے مجھے جاوید احمد غامدی بھی یاد آتے رہے۔ پاکستان کے ممتازو منفرد مذہبی رہنما، مفکر ، مفسر اور کئی دلکشا کتابوں کے مصنف !غامدی صاحب نویکلے اسلوب کے حامل دینی جریدے ( اشراق) کے مدیر بھی رہے ۔ لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں اُن کی درسگاہ بھی تھی جہاں کئی لوگ غامدی صاحب کی ذہن کشا مجالس اور درُوس سُننے کے لیے کشاں کشاں چلے آتے مگر پاکستان کی کئی مذہبی شخصیات نے جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر و تبلیغ کی مخالفت کی ۔ اور جب یہ مخالفت حد سے بڑھنے لگی تو غامدی صاحب ایسے مہذب و شائستہ مزاج اسکالر کو مجبوراً پاکستان چھوڑ کر پہلے ملائشیا اور پھر امریکہ میں پناہ لینا پڑی ۔ یہ منظر ہم سب کو دُکھی کر دیتا ہے ۔ ہم مگر یہاں اُن پاکستانی’’ صحافی بھائیوں‘‘ کے ملک سے ’’مجبوراً‘‘ فرار کا ذکر نہیں کریں گے جو آج کل برطانیہ اور امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان، پاکستانی حکومت اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نازیبا مہمات چلا رہے ہیں ۔

مقبول خبریں