3 نابالغ طلبا نے 49 سالہ شخص کو پیڈوفائل قرار دیکر کو پتھر مار مار کر قتل کردیا

ان نوجوانوں کی مقتول سے ملاقات ہوئی جس میں اس نے لڑکی کا نمبر لیا تھا


ویب ڈیسک February 17, 2026
نوجوانوں نے لڑکی بنکر 49 سالہ شخص کو ساحل پر بلایا اور بیدردی سے قتل کردیا

برطانیہ میں تین کم عمر نوجوانوں کو ایک شخص کو لڑکی بن کر ساحل پر بلانے اور پھر تشدد کے بعد ہلاک کرنے کے الزام میں مجرم قرار دے دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ کینٹ کے ساحلی علاقے آسلے آف شیپی میں پیش آیا جہاں 49 سالہ ایلگزینڈر کیش فورڈ کو پتھروں اور بوتلوں سے مار کر قتل کیا گیا۔

عدالت میں بتایا گیا کہ دو لڑکے جن کی عمریں 15 اور 16 سال ہیں جب کہ ایک 16 سالہ لڑکی نے جعلی نام استعمال کرتے ہوئے مقتول کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

لڑکی نے خود کو سیئنا نامی کم عمر لڑکی ظاہر کیا اور اسی بہانے مقتول سے رابطہ قائم کیا گیا۔ واقعے کے روز تینوں نے اسے سمندر کے کنارے سی وال کے قریب ملاقات کے لیے بلایا۔

واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ مقتول پر پہلے بوتل سے وار کیا گیا جس کے بعد وہ جان بچانے کے لیے بھاگا لیکن تینوں نوجوانوں نے اس کا پیچھا کیا۔

حملے کے دوران حملہ لڑکے مقتول کو پیڈو فائل کہتے رہے جبکہ لڑکی چیختے ہوئے کہہ رہی تھی کہ میں ابھی صرف 16 سال کی ہوں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مقتول حملے کے دوران زمین پر گر پڑا لیکن دوبارہ اٹھ کر بھاگا تاہم کچھ ہی دیر بعد لڑکوں نے دوبارہ پکڑ لیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس کے صرف 68 منٹ بعد ہی وہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے سر اور چہرے پر شدید چوٹیں، جسم پر نیل، متعدد پسلیاں ٹوٹ کر پھیپھڑوں میں پیوست ہوگئی تھیں۔

استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حملہ کسی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان نوجوانوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مقتول پر حملہ کریں گے اور تینوں نے اس میں فعال کردار ادا کیا۔

عدالت نے تینوں کو قتل کے الزام سے بری کر دیا تاہم دو نوجوانوں کو غیر ارادی قتل کا مجرم جبکہ لڑکی پہلے ہی جرم کا اعتراف کرچکی ہے۔ سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

 

مقبول خبریں