پاکستانی سیاست پر اس سے بہتر کوئی دوسرا شعر ہو ہی نہیں سکتا:
نہ بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ
وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ
بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو ہوا وہ سب کو پتا تھا کہ ایسا ہی فیصلہ آئے گا، تاہم ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی سزا پر ان کے چاہنے والوں کو افسوس ہے۔ ہمیں نہ بانی پی ٹی آئی سے ہمدردی ہے نہ بشریٰ بی بی سے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مقتدرہ کا رول 80 فی صد رہا ہے، بقیہ بیس فی صد کے لیے بھی مقتدرہ کی آشیرواد چاہیے۔
نواز شریف ، شہباز شریف اور آصف زرداری یہ راز جان گئے، سو ان کے تمام مقدمات بھی ختم ہو گئے اور وہ اقتدار میں بھی آ گئے۔ خان کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جو آفر دی جا رہی تھی انھیں عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور ہوا کا رخ پہچانتے ہوئے قبول کر لینی چاہیے تھی، لیکن ان کی گردن میں لگا سریا ڈھیلا نہ ہوا۔ انسان کو بددعاؤں سے بچنا چاہیے۔
جنرل ضیا الحق کے دور میں جب مختلف خواتین کو بحالی جمہوریت کے لیے جلوس نکالنے پر سزائیں ہوئیں تو انھی میں فرخندہ بخاری بھی تھیں جنھیں لاہور کے شاہی قلعے میں قید کر کے ان پر تشدد کیا گیا تھا، انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ قید اور تشدد کے دوران انھوں نے ضیا الحق کو بددعا دی تھی کہ ’’ تمہیں قبر بھی نصیب نہ ہو‘‘ اور لوگوں نے دیکھا کہ کچھ نہ بچا ۔ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں سرکاری ملازموں کی پنشن پر شب خون مارنے کا پلان بنایا اور کہا کہ ’’ پنشنرز قومی خزانے پر بوجھ ہیں‘‘ اس لیے پنشن ختم کر دینی چاہیے۔
اس کے لیے انھوں نے اپنے حامی میڈیا پرسنز کے ذریعے ٹاک شوز کروائے، یہ خبر پنشنرز پر بجلی بن کے گری، فیملی پنشن والی خواتین دیگر عمر رسیدہ پنشنرز خواتین و حضرات کو میں نے خود روتے ہوئے اور بانی پی ٹی آئی کو بددعائیں دیتے سنا، ان دنوں پاکستان بھر کے پنشنرز پریشان تھے۔ سرکاری نوکریوں میں تنخواہیں کم ہوتی ہیں صرف ایک پنشن کا چارم ہوتا ہے کہ اگر سربراہ مر بھی گیا تو اس کی بیوہ کو اور اگر خاتون پنشنرز مر جائے تو اس کے شوہر اور نابالغ بچوں کو پنشن ملتی رہے گی۔ لیکن مجھے عمران خان سے جو اختلاف ہے وہ یہ کہ موصوف نے تین شادیاں کیں، پہلی دو کو چھوڑ دیا۔ پھر موصوف نے تیسری شادی بشریٰ بی بی سے کی ۔
بہرحال ڈاکٹر یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی سیاسی خواتین ہیں۔ مریم نواز صاحبہ نے گزشتہ دنوں ایک بیان دیا تھا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہماری تاریخ کی وہ پہلی خاتون ہیں جو گرفتار بھی ہوئیں اور انھیں جیل میں بھی ڈالا گیا۔ یہ بیان دیتے وقت وہ ان بے شمار خواتین کو بھول گئیں جنھوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے تشدد سہا، ظلم سہا،گرفتار ہوئیں، کچھ جیل گئیں کچھ کو لاہور کے قلعے میں نظربند کیا گیا۔
البتہ میں ذاتی طور پر مریم نواز کی کارکردگی کی معترف ہوں کہ انھوں نے خاص طور سے کتوں کے کاٹنے کی ویکسین پنجاب کے پندرہ اسپتالوں میں مفت فراہم کی ہے جس کی قیمت بہت زیادہ ہے اور کسی غریب آدمی کے بس سے باہر ہے۔ پہلے میں نے مسلم لیگ (ن) کے زمانے میں جب شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو ان سے ایک ملاقات میں شکوہ کیا تھا کہ کراچی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ آج بھی یہ شکوہ برقرار ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر سندھ میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی تو شہر کچرا کنڈی نہ بنتا، نہ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہوتیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو چاہیے کہ وہ کراچی کی حالت زار کو بدلیں، کچرا صاف کروائیں،کچرا کنڈیاں مختلف جگہوں پر رکھوائیں تاکہ خاکروب اس میں کچرا ڈالیں اور پھر بلدیہ کی گاڑی آ کر وہ کچرا اٹھا لے۔
جہاں تک توشہ خانہ کیس کی بات ہے تو حسرت موہانی کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ:
خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
سوال یہ ہے کہ توشہ خانہ سے تو پچھلے تمام صدور اور وزرائے اعظم بھی محض دس فی صد ادائیگی کرکے تحفے ذاتی تحویل میں لے چکے ہیں، لیکن ان کو کوئی سزا کیوں نہیں ہوئی؟ کئی کالم نگار بھی مختلف حکومتوں کے ادوار میں تحائف میں ملنے والی قیمتی اشیا کو اونے پونے خرید کر اپنے اپنے گھروں کو لے گئے لیکن سزا کسی کو نہ ہوئی۔