مئی میں جنگ کے بعد پاک بھارت تعلقات میں خوشگوار پیش رفت سامنے آئی ہے، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے ایاز صادق سے ڈھاکا میں ملاقات کی اور مصافحہ بھی کیا، جسے سیاسی حلقوں میں ایک حیران کن پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے بھارت پر واضح برتری حاصل کر لی ہے۔
گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے مطابق پاکستان نے 2026 کے آغاز پر اقتصادی اور امن کے حوالے سے بہترکارکردگی دکھائی ہے، پاکستان بھارت اور عالمی اوسط دونوں سے آگے رہا ہے،گلوبل اکنامک گیلپ سروے کو 60 ممالک میں کیا گیا، جب کہ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 10.28 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔
علاقائی سفارت کاری میں حالیہ سامنے آنے والی پیش رفت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مئی میں جنگ جیسے حالات کے بعد پاک بھارت تعلقات میں اگرچہ بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم ڈھاکا میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے درمیان ہونے والی ملاقات اور مصافحہ ایک علامتی مگر معنی خیز واقعہ ہے۔
سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیاء کی تدفین کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ کا خود چل کر پاکستانی اسپیکر کے پاس جانا، تعارف کروانا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سفارتی سطح پر مکمل جمود کی کیفیت نہیں۔ ایسے اشارے اگرچہ بظاہر چھوٹے محسوس ہوتے ہیں، مگر جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں یہ مستقبل کے مکالمے اور ممکنہ کشیدگی میں کمی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش آج ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے، اور پاکستان کے لیے یہ نہ صرف ایک سفارتی بلکہ ایک معاشی موقع بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھ کر تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرے۔ خطے میں بہتر تعلقات بالآخر دفاعی اخراجات کے دباؤ میں کمی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کی دستیابی کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی معاشی تاریخ کو اگر ایک مسلسل جدوجہد، آزمائش اور پھر بحالی کے مراحل میں دیکھا جائے تو یہ بات پوری وضاحت سے سامنے آتی ہے کہ یہ ملک محض بحرانوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہر بحران کے بعد نئے امکانات کو جنم دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ 2026 کے آغاز پر پاکستان جس معاشی اور اقتصادی موڑ پرکھڑا ہے، وہ نہ صرف گزشتہ چند برسوں کی مشکلات سے نکلنے کی علامت ہے بلکہ آیندہ برسوں کے لیے ایک محتاط مگر واضح امید کا پیغام بھی دیتا ہے۔
عالمی اور داخلی سطح پر سامنے آنے والے معاشی اشاریے، عوامی اعتماد میں اضافہ، سرمایہ کاروں کے رویے، حکومتی پالیسیوں کا تسلسل اور علاقائی سفارت کاری میں ابھرتی ہوئی نرمی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ پاکستان آہستہ آہستہ ایک نئے بیانیے کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں مایوسی کے بجائے حقیقت پسندانہ امید،اور وقتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجزکسی سے پوشیدہ نہیں رہے۔
بلند افراطِ زر، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، قرضوں کا بوجھ، توانائی بحران اور سیاسی عدم استحکام جیسے عوامل نے گزشتہ برسوں میں معاشی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انھی حالات میں اصلاحات کا آغاز ہوا، مشکل فیصلے کیے گئے اور ایک ایسے ڈھانچے کی تشکیل کی کوشش کی گئی جو وقتی سہولت کے بجائے پائیدار استحکام کی بنیاد بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب عالمی ادارے، سرمایہ کار اور عوامی سروے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں رائے دے رہے ہیں تو ان کے لہجے میں ماضی کے مقابلے میں نمایاں فرق محسوس کیا جا سکتا ہے۔
گلوبل اکنامک گیلپ سروے کے تازہ نتائج اس تبدیلی کی سب سے واضح مثال ہیں۔ ساٹھ ممالک میں کیے گئے، اس سروے میں پاکستان کا اقتصادی اور امن سے متعلق اشاریوں میں بھارت اور عالمی اوسط سے بہتر کارکردگی دکھانا محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی موڑ کی علامت ہے۔ جب کسی ملک کے اکثریتی شہری آنے والے سال کو بہتر سمجھنے لگیں، جب وہ یہ محسوس کریں کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے اور امن کے امکانات بڑھ رہے ہیں، تو یہ اعتماد خود بخود معاشی سرگرمیوں کو تقویت دیتا ہے۔ پاکستان میں اکیاون فیصد افراد کا آنے والے سال کے بارے میں پُرامید ہونا، اور ترپن فیصد کا 2026 کو خوشحالی کا سال قرار دینا اس بات کا اظہار ہے کہ عوامی سطح پر مایوسی کی جگہ تدریجی اعتماد نے لینا شروع کر دیا ہے۔
یہ اعتماد بھارت جیسے بڑے پڑوسی ملک اور عالمی اوسط کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہونا اس حقیقت کو مزید تقویت دیتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ شدید دباؤ کے باوجود مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔امن کے حوالے سے بھی پاکستانی عوام کی سوچ میں آنے والی تبدیلی قابلِ توجہ ہے۔ دنیا میں امن کے بڑھنے کے بارے میں باون فیصد پاکستانیوں کی امید، اور اس کا بھارت میں صرف چھبیس فیصد ہونا، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں داخلی اور خارجی حالات کے بارے میں ایک نسبتاً متوازن اور حقیقت پسندانہ رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔
امن سے متعلق یہ سطح 1994 کے بعد بلند ترین سطح پر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عوام نہ صرف حالیہ حالات کو ماضی کے مقابلے میں بہتر سمجھ رہے ہیں بلکہ وہ مستقبل میں کشیدگی کے بجائے تعاون کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔ معاشی ترقی کے لیے یہی سوچ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی سرگرمیاں ہمیشہ امن اور استحکام کے ماحول میں ہی پھلتی پھولتی ہیں۔نئے سال کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی بھی اسی اعتماد کی عکاس ہے جو سرمایہ کاروں میں پیدا ہو رہا ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس کا ایک ہی دن میں تقریباً دو ہزار پوائنٹس کا اضافہ اور ایک لاکھ چھہتر ہزارکی نفسیاتی حد عبور کرنا محض قیاس آرائی یا وقتی جوش کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسیوں میں تسلسل، مالی نظم و ضبط اور مستقبل کے بارے میں مثبت توقعات کا اظہار ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کو اکثر معیشت کا حساس آئینہ کہا جاتا ہے اور جب یہ آئینہ مثبت تصویر دکھاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کار مستقبل میں منافع، استحکام اور ترقی کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔
یہ رجحان نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہوتا ہے۔وزیراعظم کی جانب سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات فراہم کرنے کے لیے سفارشات طلب کرنا اور برآمدات کے شعبے کو خصوصی اہمیت دینے کی ہدایت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اب محض بحران کے انتظام تک محدود نہیں بلکہ ترقی کے اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔ برآمدات کسی بھی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہی زرمبادلہ کا پائیدار ذریعہ، روزگار کے مواقع کا ضامن اور صنعتی سرگرمیوں کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اگر پاکستان برآمدات کے شعبے میں ٹیکنالوجی، قدر میں اضافے اور منڈیوں کے تنوع پر توجہ دے، تو یہ نہ صرف تجارتی خسارے کو کم کر سکتا ہے بلکہ معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بھی محفوظ بنا سکتا ہے۔
یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ موجودہ مثبت اشاریوں کے باوجود پاکستان کو درپیش چیلنجز ختم نہیں ہوئے۔ قرضوں کا بوجھ، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، تعلیم اور ہنر مندی میں خلا، اور توانائی کے مسائل اب بھی سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ تاہم موجودہ صورتِ حال میں سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ ان مسائل کا ادراک وسیع تر سطح پر موجود ہے اور ان کے حل کے لیے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ ٹیکس نیٹ میں توسیع، ڈیجیٹل معیشت کی طرف پیش قدمی، گورننس میں بہتری اور شفافیت جیسے اقدامات اگر مستقل مزاجی سے جاری رہے تو یہ وہ بنیاد فراہم کر سکتے ہیں جس پر پائیدار ترقی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔پاکستان کے روشن امکانات محض نعروں یا وقتی کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ ان کا تعلق ملک کے بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل اور جغرافیائی محلِ وقوع سے ہے۔ نوجوان آبادی، اگر تعلیم اور ہنر کے مواقع سے لیس کی جائے، تو یہی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونا پاکستان کو علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کا قدرتی مرکز بنا سکتا ہے۔
زراعت، معدنیات اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں موجود وسیع امکانات معیشت کو تنوع فراہم کر سکتے ہیں، جب کہ سی پیک اور دیگر علاقائی منصوبے رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت جس مرحلے میں داخل ہو رہا ہے وہ نہ تو بے پناہ خوش فہمی کا متقاضی ہے اور نہ ہی مایوسی کا۔ یہ مرحلہ حقیقت پسندانہ امید، دانشمندانہ فیصلوں اور پالیسیوں کے تسلسل کا تقاضا کرتا ہے۔ 2026کا آغاز اسی امید کے ساتھ ہو رہا ہے کہ یہ سال محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے سفر کا نقطہ آغاز ثابت ہو جو پاکستان کو مشکلات سے نکال کر روشن امکانات کی طرف لے جائے۔