پاکستانی ٹی وی رائٹس معاہدہ بھارت سے سیریز نہ ہونے پر بھاری نقصان کا خدشہ

5سالہ کنٹریکٹ جون میں ختم ہو جائے گا، پڑوسی ملک سے ہوم میچز نہ ہونے کے سبب خاصا خسارہ ہوا.

پی سی بی حقوق فروخت کرنے کیلیے رواں ماہ ہی ٹینڈر جاری کرے گا،اس باربڑی ٹیموں سے محدودسیریزکی وجہ سے60ملین کا معاہدہ بھی بڑی بات ہوگی،ذرائع. فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی انٹرنیشنل کرکٹ کا5سالہ معاہدہ جون میں ختم ہو جائے گا، پی سی بی نئے کنٹریکٹ کیلیے رواں ماہ ہی ٹینڈر جاری کرے گا۔

بھارت سے کوئی سیریز طے نہ ہونے کے سبب بھاری مالی خسارے کا خدشہ ہے،حالیہ کنٹریکٹ میں بھی پڑوسی ملک سے ہوم میچز نہ ہونے کے سبب بورڈ کوخسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا، ذرائع کے مطابق اس بار نسبتاً کم اور بڑی ٹیموں سے محدود سیریز کی وجہ سے اگر 60ملین ڈالر کا معاہدہ بھی ہو گیا تو بڑی بات ہو گی، موجودہ معاہدہ 140.5ملین ڈالر کا تھا جس میں سے آدھی سے زیادہ رقم نہ مل سکی۔ تفصیلات کے مطابق ٹین اسپورٹس کے ساتھ5سالہ نشریاتی معاہدے کا آئندہ ماہ اختتام ہو رہا ہے۔

پی سی بی نئے براڈ کاسٹر کی تلاش کیلیے رواں ماہ ہی ٹینڈر جاری کرے گا، موجودہ کنٹریکٹ140.5ملین ڈالر کا تھا مگر بورڈ کوآدھی سے بھی کم رقم ہی مل سکی،اس کی بڑی وجہ بھارت کے ساتھ سیریز کا نہ ہونا تھا، بعض دیگر سیریز میں بھی میچز کم کرنے سے ملنے والی رقم میں بھی کمی ہوئی،پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ٹیلی ویژن رائٹس کا بڑا انحصار بھارتی ٹیم سے مقابلوں پر ہی ہوتا ہے،2011 میں پاک بھارت ورلڈکپ سیمی فائنل 1.5بلین افراد نے ٹی وی پر دیکھا تھا، ممبئی حملوں کے سبب2009میں بھارتی ٹیم کا دورئہ پاکستان منسوخ ہوا، سری لنکن کرکٹرز پر لاہور میں اٹیک نے پاک سرزمین کو کرکٹ کے لیے نوگو ایریا بنا دیا، دسمبر2012 میں پاکستانی ٹیم جب پڑوسی ملک گئی تو رواں برس اگست میں جوابی سیریز کا امکان پیدا ہو گیا۔

 




پی سی بی نیوٹرل مقام پر مقابلوں کا انعقاد چاہتا تھا کہ سیاسی کشیدگی نے دوبارہ کرکٹ روابط پر فل اسٹاپ لگا دیا، اپریل 2020 تک کے آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام میں پاک بھارت کوئی سیریز شامل نہیں ہے، البتہ دونوں بورڈز جب فارغ وقت دیکھیں تو مقابلے رکھ سکتے ہیں، اس صورتحال نے پی سی بی کو پریشانی کا شکار کر دیا۔ ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ معاہدے سے قبل ٹیموں کی مارکیٹ ویلیو دیکھ کر ہر سیریز کی مالیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے، براڈ کاسٹر کو ایک سیریز ختم ہونے پر ادائیگی کرنا ہوتی ہے، بھارتی بورڈ فی الحال پاکستان سے کسی سیریز کی کمٹمنٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، ایسے میں پی سی بی کو ٹی وی رائٹس سے زیادہ رقم ملنے کا امکان معدوم ہو گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں اگر اسے60ملین ڈالر بھی مل گئے تو بڑی بات ہو گی۔

سیکیورٹی خدشات کے سبب پاکستان کی تمام ہوم سیریز نیوٹرل وینیوز پر ہو رہی ہیں، اس سے پروڈکشن کے اخراجات بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، معاہدے کے وقت یہ پہلو بھی سب کی نظروں میں ہو گا۔ موجودہ معاہدہ 5برس کا ہے تاہم حالیہ صورتحال میں7سالہ نئے کنٹریکٹ پر بھی غور جاری ہے، 2018 میں آسٹریلیا سے 2اور نیوزی لینڈ کیخلاف ایک ہوم سیریز ہوگی، اس سے معاہدے کی رقم بڑھ سکتی ہے، 5 سالہ کنٹریکٹ کے دوران پاکستان میں9سیریز ہونی ہیں، رواں برس اکتوبر میں جنوبی افریقہ، دسمبر 2013 اور جنوری 2014 میں سری لنکا کو مکمل ٹورز کرنے ہیں۔

اکتوبر 2014میں کینگروز اور نومبر میں کیویز پاکستان کے مہمان بنیں گے، دسمبر میں زمبابوے سے سیریز طے ہے،اکتوبر 2015 میں انگلینڈ اور اگلے برس ویسٹ انڈیز سے سیریز ہونگی،2017میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کو ٹورز کرنے ہیں۔ پی سی بی کی آمدنی کا بڑا انحصار جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کیخلاف سیریز سے ہوگا، اس دوران اگر تعلقات بہتر ہونے پر بھارت کھیلنے پر تیار ہو گیا تو بورڈ کو خالی خزانہ بھرنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔
Load Next Story