آبادی میں اضافہ بم ہے جو پھٹ چکا ہے چیف جسٹس

بچے کم پیدا کرنے سے دین کے خلاف کیا بات ہو جائے گی؟ چیف جسٹس

بچے کم پیدا کرنے سے دین کے خلاف کیا بات ہو جائے گی؟ چیف جسٹس فوٹو:فائل

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ آبادی میں اضافہ بم ہے جو پھٹ چکا ہے اور بچے کم پیدا کرنے سے دین کے خلاف کیا بات ہو جائے گی؟۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ملک میں آبادی میں بے پناہ اضافے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے ملک میں آبادی میں اضافے کی روک تھام کیلئے حکومت سے فوری تجاویز طلب کرلیں۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ بم ہے جو پھٹ چکا ہے، حالیہ حکومت کی اس اضافے کو روکنے کےلیے کوئی پالیسی یا قانون سازی نہیں، پیدائش کی شرح روکنے کیلئے تو حکومت کو امداد بھی ملتی ہے، عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے، اگر اشتہار بھی دئیے جاتے ہیں تو ایک خاص میڈیا کے لوگوں کو دہیے جاتے ہیں، چین سمیت دیگر ممالک آ بادی کنٹرول کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم پتہ نہیں کن چکروں میں پڑ گئے ہیں، کتنے بچے کم پیدا کئے تو دین کے خلاف بات ہو جائے گی، ایک گھر میں سات سات بچے پیدا کئے جا رہے ہیں، ہر جگہ گھر بن رہے ہیں کچرا بڑھ رہا ہے نالوں میں گندگی پھیلی رہی ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے آبادی روک تھام کیلئے فوری تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا کہ نہ پانی نہ خوراک نہ صحت ہے نہ تعلیم آئندہ کیا کریں گے۔ ہیلتھ حکام نے کہا کہ آبادی کو یکدم روکنا ممکن نہیں، آبادی پر براہ راست پابندی عائد کرنا بھی ممکن نہیں، مسئلے کو حل کرنے کےلیے اسکول کالجز لیول پر تعلیم کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
Load Next Story