ڈیڑھ سال قبل سمندر میں ڈوب جانے والی خاتون بے ہوش حالت میں بازیاب
انڈونیشیا میں نننگ سونارش اسی ساحل پر پائی گئی اور انہوں نے عین وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے
نننگ سونارش جو ڈوبنے کے ڈیڑھ سال بعد عین اسی جگہ سے بازیاب ہوئی ہیں۔ فوٹو: بشکریہ اندولہ ویب سائٹ
انڈونیشین میڈیا میں ایک ناقابلِ یقین خبر گردش کررہی ہے جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ 18 ماہ قبل سمندر کی لہروں میں گم ہوجانے والی ایک خاتون عین اسی جگہ بے ہوشی کی حالت میں ملی ہیں۔ مبینہ طور پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ خاتون اسی لباس میں ملی ہے جو اس نے ڈیڑھ سال قبل پہنا ہوا تھا۔
52 سالہ نننگ سونارش مغربی جاوا میں سوکابومی کے مقام پر سائٹیپس ساحل پر موجود تھی کہ ایک تیز لہراسے سمندر میں لے گئی۔ ڈوبتی ہوئی خاتون نے چیخ کر اور ہاتھ ہلاکر مدد چاہی لیکن وہ پانی میں غرق ہوگئی۔ غوطہ خوروں نے ایک ہفتے بعد ایک خاتون کی لاش ڈھونڈ نکالی جو بہت بری حالت میں تھی۔ تاہم نننگ کے اہلِ خانہ نے لاش کو دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ سونارش کی لاش نہیں۔
یہ خاتون 8 جنوری 2017 کو سمندر میں ڈوب گئی تھی۔
دوسری جانب خاتون کے اہلِ خانہ کو یقین تھا کہ نننگ زندہ ہیں اور پورا گھرانہ پرامید تھا کہ وہ زندہ برآمد ہوں گی۔ اب سے چند روز قبل لڑکی کے چچا نے ایک خواب میں دیکھا کہ نننگ اسی ساحل پر موجود ہے جہاں سے وہ غائب ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہیں بار بار یہ خواب دکھائی دیا جسے انہوں نے قدرت کا ایک اشارہ قرار دیا۔
https://www.youtube.com/watch?v=4XDzd6j36tk
اس کے بعد 30 جون بروز ہفتہ پورے خاندان نے ساحل کو چھان مارا اور صبح چار بجے انہیں خاتون ساحل پر دکھائی دی جو مٹی کے ڈھیر میں بے ہوش پڑی تھی اور اس نے ڈوبتے وقت کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سیاہ پتلون اور پھولوں والی پیلی شرٹ اس نے پہنی ہوئی تھی۔
تاہم نننگ کی حالت بہت نازک تھی جسے گھروالوں نے فوری طور پر اٹھایا اور اسپتال میں داخل کیا اور اب وہ تیزی سے روبہ صحت ہے۔ خاتون کے اہلِ خانہ نے اسے خدا کا ایک معجزہ قرار دیا ہے۔ لیکن عوام نے اس خبر پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اور اس پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔
52 سالہ نننگ سونارش مغربی جاوا میں سوکابومی کے مقام پر سائٹیپس ساحل پر موجود تھی کہ ایک تیز لہراسے سمندر میں لے گئی۔ ڈوبتی ہوئی خاتون نے چیخ کر اور ہاتھ ہلاکر مدد چاہی لیکن وہ پانی میں غرق ہوگئی۔ غوطہ خوروں نے ایک ہفتے بعد ایک خاتون کی لاش ڈھونڈ نکالی جو بہت بری حالت میں تھی۔ تاہم نننگ کے اہلِ خانہ نے لاش کو دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ سونارش کی لاش نہیں۔
یہ خاتون 8 جنوری 2017 کو سمندر میں ڈوب گئی تھی۔
دوسری جانب خاتون کے اہلِ خانہ کو یقین تھا کہ نننگ زندہ ہیں اور پورا گھرانہ پرامید تھا کہ وہ زندہ برآمد ہوں گی۔ اب سے چند روز قبل لڑکی کے چچا نے ایک خواب میں دیکھا کہ نننگ اسی ساحل پر موجود ہے جہاں سے وہ غائب ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہیں بار بار یہ خواب دکھائی دیا جسے انہوں نے قدرت کا ایک اشارہ قرار دیا۔
https://www.youtube.com/watch?v=4XDzd6j36tk
اس کے بعد 30 جون بروز ہفتہ پورے خاندان نے ساحل کو چھان مارا اور صبح چار بجے انہیں خاتون ساحل پر دکھائی دی جو مٹی کے ڈھیر میں بے ہوش پڑی تھی اور اس نے ڈوبتے وقت کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سیاہ پتلون اور پھولوں والی پیلی شرٹ اس نے پہنی ہوئی تھی۔
تاہم نننگ کی حالت بہت نازک تھی جسے گھروالوں نے فوری طور پر اٹھایا اور اسپتال میں داخل کیا اور اب وہ تیزی سے روبہ صحت ہے۔ خاتون کے اہلِ خانہ نے اسے خدا کا ایک معجزہ قرار دیا ہے۔ لیکن عوام نے اس خبر پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اور اس پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔