سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ کی بغیر کسٹمز ایگزامنیشن کلیئرنس
پیکس کلکٹریٹ کے ذریعے برطانیہ ودیگرممالک سے ماہانہ80کنٹینر درآمد کیے جارہے ہیں.
پرانے کپڑوں کی آڑمیں دیگراشیا منگوائی اوردرآمدی پالیسی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،ذرائع۔ فوٹو: فائل
محکمہ کسٹمز کے پیکس کلکٹریٹ میں متعلقہ کسٹمز حکام کی ملی بھگت سے سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ کنسائنمنٹس کی بغیر کسٹمز ایگزامنیشن کلیئرنس نے قانونی درآمدکنندگان کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کسٹمز پیکس کلکٹریٹ کے ذریعے مختلف ممالک سے ماہانہ اوسطاً سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ کے80 کنٹینرز درآمد کیے جارہے ہیں، یہ کنسائنمنٹس برطانیہ کوریااوردبئی سے درآمد ہورہے ہیں جس میں سیکنڈہینڈکلاتھنگ کی آڑ میں کپڑا، جوتے، چمڑا، برتن اور کھلونوں سمیت دیگرقیمتی اشیا کی بڑی مقداراسمگل کی جارہی ہے اور اس حقیقت سے متعلقہ کسٹمز افسران آگاہ ہونے کے باوجود چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں جس کے باعث نہ صرف ایف بی آر کو کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں خسارے کا سامنا ہورہا ہے بلکہ مذکورہ اشیا کے قانونی درآمدکنندگان کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایاکہ مبینہ طور پر متعلقہ اسسٹنٹ وڈپٹی کلکٹر کسٹمز کی جانب سے ان مشکوک سیکنڈہینڈ کلاتھنگ کے کنسائنمنٹس کو کسٹمز ایگزامنیشن کے بغیرگرین چینل کلیئرکرنے کے احکام دیے جارہے ہیں جبکہ سیکنڈہنڈکلاتھنگ کے وہ کنسائنمنٹس جنہیں کسٹمز ایگزامینشن کے لیے منتخب کیا جاتا ہے انہیں مخصوص اسپیڈ منی کے عوض کسٹمز ایگزامنیشن میں چھوٹ دیدی جاتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ برطانیہ سے درآمدہونے والے ایسے مشکوک سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ کے فی کنٹینرپرمبینہ طور پر 15 ہزار روپے جبکہ کوریا اور دبئی سے درآمد ہونے والے سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ کے فی کنٹینر پر25 ہزار روپے کی اسپیڈ منی فکسڈ کردی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ چیف کلکٹر سائوتھ کی جانب سے تمام متعلقہ کسٹمز حکام کو واضح احکام جاری کیے گئے ہیں کہ کوریااوردبئی سے درآمدہونے والے تمام سکینڈ ہینڈ کلاتھنگ کے کنسائنمنٹس کی 100 فیصد کسٹمزایگزامینشن کی جائے لیکن ان واضح احکام کے باوجود پیکس کلکٹریٹ میں تعینات متعلقہ کسٹمزافسران چیف کلکٹرکسٹمز کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیکنڈ ہینڈ کلاتھ کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس بغیر ایگزامینیشن کررہے ہیںجس کے باعث قومی خزانہ کو لاکھوں روپے ماہانہ کا نقصان برداشت کرناپڑرہاہے جبکہ دوسری جانب کسٹمزجنرل آڈر میں بھی سیکنڈہینڈکلاتھنگ کے کنسائنمنٹس کی 100 فیصد ایگزامینیشن کو لازمی قرار دیاگیاہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کپڑے کی چھوٹی چھوٹی کترنوں کی آڑمیں بھی کپڑے کی کھلی اسمگلنگ کی جارہی ہے حالانکہ درآمدی پالیسی کے تحت کپڑے کی کترنوں کی درآمد پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود کسٹمز افسران مخصوص مفادات حاصل کرتے ہوئے کسٹمزایگزامینشن کے بغیرکترنوں کے کنسائنمنٹس کلیئر کر رہے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر کپڑے کی اسمگلنگ کی جارہی ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کسٹمز پیکس کلکٹریٹ کے ذریعے مختلف ممالک سے ماہانہ اوسطاً سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ کے80 کنٹینرز درآمد کیے جارہے ہیں، یہ کنسائنمنٹس برطانیہ کوریااوردبئی سے درآمد ہورہے ہیں جس میں سیکنڈہینڈکلاتھنگ کی آڑ میں کپڑا، جوتے، چمڑا، برتن اور کھلونوں سمیت دیگرقیمتی اشیا کی بڑی مقداراسمگل کی جارہی ہے اور اس حقیقت سے متعلقہ کسٹمز افسران آگاہ ہونے کے باوجود چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں جس کے باعث نہ صرف ایف بی آر کو کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں خسارے کا سامنا ہورہا ہے بلکہ مذکورہ اشیا کے قانونی درآمدکنندگان کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایاکہ مبینہ طور پر متعلقہ اسسٹنٹ وڈپٹی کلکٹر کسٹمز کی جانب سے ان مشکوک سیکنڈہینڈ کلاتھنگ کے کنسائنمنٹس کو کسٹمز ایگزامنیشن کے بغیرگرین چینل کلیئرکرنے کے احکام دیے جارہے ہیں جبکہ سیکنڈہنڈکلاتھنگ کے وہ کنسائنمنٹس جنہیں کسٹمز ایگزامینشن کے لیے منتخب کیا جاتا ہے انہیں مخصوص اسپیڈ منی کے عوض کسٹمز ایگزامنیشن میں چھوٹ دیدی جاتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ برطانیہ سے درآمدہونے والے ایسے مشکوک سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ کے فی کنٹینرپرمبینہ طور پر 15 ہزار روپے جبکہ کوریا اور دبئی سے درآمد ہونے والے سیکنڈ ہینڈ کلاتھنگ کے فی کنٹینر پر25 ہزار روپے کی اسپیڈ منی فکسڈ کردی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ چیف کلکٹر سائوتھ کی جانب سے تمام متعلقہ کسٹمز حکام کو واضح احکام جاری کیے گئے ہیں کہ کوریااوردبئی سے درآمدہونے والے تمام سکینڈ ہینڈ کلاتھنگ کے کنسائنمنٹس کی 100 فیصد کسٹمزایگزامینشن کی جائے لیکن ان واضح احکام کے باوجود پیکس کلکٹریٹ میں تعینات متعلقہ کسٹمزافسران چیف کلکٹرکسٹمز کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیکنڈ ہینڈ کلاتھ کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس بغیر ایگزامینیشن کررہے ہیںجس کے باعث قومی خزانہ کو لاکھوں روپے ماہانہ کا نقصان برداشت کرناپڑرہاہے جبکہ دوسری جانب کسٹمزجنرل آڈر میں بھی سیکنڈہینڈکلاتھنگ کے کنسائنمنٹس کی 100 فیصد ایگزامینیشن کو لازمی قرار دیاگیاہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کپڑے کی چھوٹی چھوٹی کترنوں کی آڑمیں بھی کپڑے کی کھلی اسمگلنگ کی جارہی ہے حالانکہ درآمدی پالیسی کے تحت کپڑے کی کترنوں کی درآمد پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود کسٹمز افسران مخصوص مفادات حاصل کرتے ہوئے کسٹمزایگزامینشن کے بغیرکترنوں کے کنسائنمنٹس کلیئر کر رہے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر کپڑے کی اسمگلنگ کی جارہی ہے۔