ترکی میں مزید 18 ہزار سرکاری ملازمین برطرف
برطرف کردہ ملازمین میں 9 ہزار پولیس اہلکار، 5ہزار فوجی اور 200 اساتذہ شامل ہیں
برطرف ملازمین میں 9 ہزار پولیس اہلکار، 5ہزار فوجی اور 200 اساتذہ شامل ہیں (فوٹو: فائل)
ترکی میں تازہ حکم نامے کے تحت 18 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کو برطرف کردیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی میں اعلیٰ حکام نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں فوجی بغاوت میں معاونت فراہم کرنے کے شبہ میں 18 ہزار سے زائد ملازمین کو ان کی نوکریوں سے برطرف کرنے کا اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی میں فتح اللہ گولن سے تعلق کے شبہ میں مزید 10ہزار سرکاری ملازمین برطرف
برطرف کردہ ملازمین میں 9 ہزار پولیس اہلکار، 5 ہزار فوجی اور 200 کے قریب مختلف جماعت کے اساتذہ شامل ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہونے والی برطرفیوں کا یہ آخری حکم نامہ ہوسکتا ہے کیونکہ رجب طیب اردگان صدارتی حلف اٹھانے کے بعد 2 سال سے نافذ 'ہنگامی حالت' کو اٹھانے کا اعلان کریں گے۔
واضح رہے کہ 2016ء میں منتخب جمہوری صدر کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزام میں اب تک 50 ہزار کے قریب سول و عسکرین ملازمین کو گرفتار اور عہدوں سے برطرف کرکے ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی میں اعلیٰ حکام نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں فوجی بغاوت میں معاونت فراہم کرنے کے شبہ میں 18 ہزار سے زائد ملازمین کو ان کی نوکریوں سے برطرف کرنے کا اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی میں فتح اللہ گولن سے تعلق کے شبہ میں مزید 10ہزار سرکاری ملازمین برطرف
برطرف کردہ ملازمین میں 9 ہزار پولیس اہلکار، 5 ہزار فوجی اور 200 کے قریب مختلف جماعت کے اساتذہ شامل ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہونے والی برطرفیوں کا یہ آخری حکم نامہ ہوسکتا ہے کیونکہ رجب طیب اردگان صدارتی حلف اٹھانے کے بعد 2 سال سے نافذ 'ہنگامی حالت' کو اٹھانے کا اعلان کریں گے۔
واضح رہے کہ 2016ء میں منتخب جمہوری صدر کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزام میں اب تک 50 ہزار کے قریب سول و عسکرین ملازمین کو گرفتار اور عہدوں سے برطرف کرکے ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔