ملک گرے لسٹ کے بھنور میں

انیس باقر  جمعـء 13 جولائ 2018
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

اوور کونفیڈینس (بے جا خود اعتمادی) انگریزی زبان کا ایک عام سا لفظ ہے جسے اردو نے اپنے لشکر میں شامل کر لیا ہے۔ اس کو اردو کے عظیم شعرا نے خوب استعمال کیا ہے، جس کو شاعرانہ تعلی کا خطاب دیا گیا ہے۔ خصوصاً اس لفظ کو فروغ اس دور میں ملا جب اردو ادب کے دو معروف شعرا انیس و دبیر لکھنو میں منبر افروز ہوا کرتے تھے، جس کو اردو ادب کے نامور ادیب و عالم شبلی نعمانی نے فروغ دیا۔ انیس و دبیر کے بعد بھی یہ ایک معمول بن گیا جس کو شعرا استعمال کرتے رہے، بقول انیس تعلی ملاحظہ فرمائے:

ماہ کو مہر کروں ذروں کو انجم کر دوں

گنگ کو ماہر انداز تکلم کر دوں

علامہ اقبال فرماتے ہیں:

پر مغز حکیمانِ فرنگی سے سنا ہے

اقبال تیرا نام زمانے میں بڑا ہے

مگر ان شعرا نے اوور کونفیڈینس کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ اوزان، مصرع، طرح، قافیہ، فلسفہ اور موضوعات کا احاطہ کرنے کے بعد شاعرانہ تعلی کا اظہار کیا ہے۔

سیاست کے موضوع پر تعلی کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے، مگر اپنے فالوور (Follower) تنظیم، عوامی قربانیوں کا وہ حصہ جو ان کی نذر کیا گیا ہو یا وہ مطالبات جو عوام نے ان سے طلب کیے ہوں، ان کو پورا کیا گیا ہو، یہاں محض الفاظ کے اوزان اور لمبی لمبی تقریروں سے کام نہیں چلتا جو گا، گے گی پر مشتمل ہو، مثلاً اگر مجھے تیسری بار وزیراعظم بنایا گیا تو میں سال میں دس بار قومی اسمبلی کا اجلاس بلاؤںگا، پٹرول پر ٹیکس نصف کر دوںگا، بے زمین کسانوں کو 40 ایکڑ زمینیں مفت دوںگا۔ یہاں ایسی باتیں کرنی ہوتی ہیں نہ کہ کسانوں کو بے دخل کیا جائے اور ان کو جیل بھیجا جائے اور ملک کے لوگوں کو دھمکی دی جائے ۔

بہرحال اپنا عوامی لگاؤ کی قوت کا موازنہ کیے بغیر باغیانہ احتجاج یہ کوئی شاعری نہیں کہ تعلی پر اثر انداز ہوگی اور ذوق و شوق کی محفل ہے کہ، نہ دامن کو دیکھا اور نہ بند قبا دیکھا۔ سرفروشوں اور حالات کے ساتھ بدلنے والوں کے قافلوں پر انحصار کیا۔ یہ جو آپ کو اپنے ہم خیال نظر آ رہے ہیں یہ صرف دولت کے پجاری ہیں، کوئی نظریاتی لوگ نہ تھے۔ کبھی غریبوں کا خیال رکھا ہوتا اور ملک کے ساتھ انصاف کیا ہوتا۔ ملک کو جس قدر مقروض کیا ہے اس کا نصف بھی صرف کیا گیا ہوتا تو کئی ڈیم بن سکتے تھے، مگر عوام کو ڈیم فول ہی بنایا گیا، نہ بھاشا بنا اور نہ کالا۔ سارا بارش کا پانی سمندر پی گیا، تو عوام سے کیوں شکوہ؟ چند لفافے بردار نکتہ دانی سے بچا لیںگے، یہ ایک مفروضہ ہے۔ عوام سے ایمانداری اور ملک سے وفاداری لیڈری کی پہلی شرط ہے۔

میری سمجھ میں اب تک یہ نہ آیا کہ جس کو ایک سفاک آمر نے معاشی وزارت دی اور اس نے دانت سے پکڑ لی تو اس وقت رحم نہ آیا، جس کا جوڈیشل مرڈر کیا گیا اور تسلسل سے عوام پر حکمرانی اور سعودی عرب کے سابق بادشاہوں کی مہربانی نے ان کو عوامی لیڈر کیسے بنا دیا، ملک کے قوانین میں جو توڑ پھوڑ کی گئی وہ از سر نو اصلاحات کے طلبگار ہیں۔ یہ نقلی جمہوریت جس میں ہر ماہ پٹرول اور اس سے ملحقہ مصنوعات کے دام بڑھائے گئے، اسمبلی کا کوئی کام نہ تھا ماسوائے وظیفے کا، نہ قانون سازی، نہ اصلاحات، نہ مزدوروں، طالب علموں اور کسانوں کے لیے کوئی پالیسی، ترقیات کے نام پر قومی اسمبلی کے ارکان کو اربوں روپے کے فنڈ اور ان کا استعمال کسی کو نظر نہ آنا، صرف چند شہروں کی کاسمیٹک چینج (Cosmetic Change) جنوبی پنجاب نظر انداز، صوبہ بنانے کے الفاظ سے ان سادہ لوح لوگوں کو دھوکا دینا، بقول علامہ اقبال:

انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اور اب بھی جنوبی پنجاب کے عوام خستہ حالی کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ کپاس کی فصل والی زمین، پھٹی چننے والے مزدور اپنا علاقہ چھوڑ کر کراچی کی بدترین آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں بھی چیف جسٹس کو کوئی سوموٹو ایکشن لینا ہوگا۔ جنوبی پنجاب کو کم خرچ والے مکان کا خواب دکھا رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ گھر بنانے کے لیے 120گز زمین کا عطیہ دیں اور ہاؤس بلڈنگ لون (Loan) بلاسود قرض 25 برس کے لیے اور اگر گھر بنانے والے کی عمر زیادہ ہے تو ان کے بچوں کے نام جو بھی قانونی طریقہ ہے۔ ملک میں پانی، ہوا اور غذا کا بحران ہے کیونکہ کم آمدنی والے علاقے تازہ ہوا اور پانی سے محروم ہیں۔ کم آمدنی کے باعث بچوں کو صحت اور تعلیم کا شدید بحران ہے۔

اکثر غریب لوگوں کو کئی کئی جگہوں پر ملازمت کرنی پڑتی ہے، لوگ لیڈروں سے اس قدر تنگ ہیں کہ اکثر شہروں میں ان کا گھیراؤ ہورہا ہے۔ اگر صورتحال تبدیل نہ ہوئی اور آنے والی حکومت نے بھی کوئی انقلابی تبدیلی نہ کی تو چند ماہ میں حکومت پریشانی میں مبتلا ہوجائے گی۔ کیونکہ ایک لیڈر نے، جس کو آنے کی توقع ہے اور امید ہے کہ وہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالے گا، اس نے عوام کو سنہرے خواب دکھائے ہیں، مگر کسی منظم انقلابی جدوجہد کی توقع نہیں، کیونکہ جو پارٹی خود کو عوام کی پارٹی کہلاتی ہے وہ وکلا کی پارٹی ہے، جس کے لیڈر کورٹ میں ہوتے ہیں اور عوامی رابطے سے محروم ہیں، جو پارٹی خود کو عوامی پارٹی کہلانے کی دعوے دار ہیں ان کا مربوط نیٹ ورک (Net Work) نہیں اور نہ ان کے پاس سرفروشوں کی مضبوط تعداد ہے، نہ کسان، مزدور اور نوجوان طالب علموں کا کوئی گروہ ہے۔

کراچی جو کبھی ترقی پسند اور جانباز شریف النفس لوگوں کا گڑھ تھا، وہ تقسیم ہوچکا ہے، البتہ چند برسوں میں تمام بے معروف پارٹیوں کے چہرے عوام پہچان لیںگے اور آنے والے وزیراعظم کے پانچ برس بڑی مشکل سے گزرنے کی توقع ہے۔ کیونکہ ملک معاشی طور پر نہایت سنگین راہ سے گزر رہا ہے اور حکومت تیل اور گیس کے ریٹ بڑھاتی رہے گی، تاکہ اپنی گاڑی کو آگے چلاتی رہے۔ اس بات کو وثوق سے کہا جاسکتا کہ اوور کونفیڈینس (Over Confidence) والے ماضی کے لیڈروں نے ملک کو گرے لسٹ کی بھنور میں ڈال دیا ہے اور سوچا تھا کہ بھلا کون پوچھنے والا ہوگا؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔