دماغ سے کنٹرول ہونے والے ہتھیاروں کا خفیہ امریکی منصوبہ

پینٹاگون اور ڈارپا کے این تھری پروگرام میں فوجی دماغی لہروں سے جنگ لڑیں گے

پینٹاگون دماغی لہروں سے جنگ لڑنے کی ٹیکنالوجی پر کام کررہا ہے۔ فوٹو: فائل

امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کئی خفیہ منصوبوں پر کام کرتا رہتا ہے اور اب اس کے ماہرین ایک ایسے پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں جس کی بدولت مستقبل قریب میں امریکی فوجی عسکری سامان اور اسلحے کو اپنے دماغ سے کنٹرول کرسکیں گے۔

دوسری جانب نت نئے فوجی منصوبوں پر کام کرنے والی ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی (ڈارپا) نے ایسے افراد کی بھرتی شروع کردی ہے جو 'اگلی نسل کی نان سرجیکل نیوروٹیکنالوجی (این تھری)' کے لیے دماغی اور مشینی انٹرفیس کے تجربات کےلیے اپنی خدمات فراہم کریں گے۔

ڈارپا نے اس سے قبل غیرجراحی عمل کے ذریعے ایسے دماغی انٹرفیس کے منصوبوں کی درخواستیں اور پروجیکٹس مانگے تھے جن کے ذریعے دماغی سرگرمی سے جنگیں لڑی جاسکیں اور اس کےلیے کوئی حتمی ایجاد کی جاسکے۔


ڈارپا کا خیال ہے کہ بہت جلد ڈرون، سائبر ڈیفنس اور دیگر جنگی آلات دماغ سے کنٹرول کیے جاسکیں گے۔ اس کے لیے ڈارپا میں ایک دلچسپ اور نیا شعبہ بایالوجیکل ٹیکنالوجیس آفس قائم کیا گیا ہے۔ اس کے سربراہ ڈاکٹر ایل مونڈی کہتے ہیں 'جنگ کو جسم سے کنٹرول کرنے کے مقابلے دماغی لہروں سے قابو کرنے کا تجربہ بہت وسیع، ہمہ گیر اور کئی فوائد سے بھرپور ہوسکتا ہے۔ اس طرح دماغ کا استعمال اگلی جنگوں میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔'

ڈارپا کے مطابق دماغی لہروں پر مشتمل انٹرفیس کے ذریعے ایک زخمی سپاہی بھی صحتمند فوجی کی طرح جنگ لڑنے کا اہل ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے دو اہم پہلو ہیں: اول ایسے سینسر اور سمیولیٹر بنانا جن کےلیے دماغی سرجری اور کاٹ پیٹ نہ کرنا پڑے اور وہ دماغی اشاروں کو اچھی طرح سمجھ سکیں؛ اور دوم ایسے نظام (فوجی ہارڈویئر) بنانا جو اس بنیاد پر اچھی طرح کام کرسکیں۔

لیکن ماہرین اچھی طرح جانتے ہیں کہ دماغی سگنل بخوبی نہ پڑھنے کی صورت میں کس قدر نقصان ہوسکتا ہے۔ اسی بنیاد پر سوچ کی لہروں کو بہت درستگی سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس کام کےلیے کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جن میں نیوروسائنس، بایومیڈیکل انجینئرنگ، نینو ٹیکنالوجی، کمپیوٹر انٹرفیس اور دیگر کئی شعبے شامل ہیں۔

اس ضمن میں این تھری ٹیکنالوجی کے لیے ابتدائی تجربات 12 پھر 18 اور پھر 36 ماہ کے لیے انجام دیئے جائیں گے۔
Load Next Story