خانیوال کی سیاست؛ شیر اور بلا دونوں ہی جیت کے دعویدار

 پير 23 جولائ 2018
خانیوال کے سیاسی نمائندوں کے بارے میں عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

خانیوال کے سیاسی نمائندوں کے بارے میں عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان میں الیکشن کا دن سر پر آن پہنچا ہے اور خانیوال کی سیاست کا رخ بھی نکھر کر سامنے آگیا ہے۔ نعروں میں تبدیلی کا خوب چرچا ہے، عملاً بھی تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ ووٹر کے حالات بدلیں گے بلکہ کچھ چہرے ادھر ادھر ہونے کی امید باقی ہے۔

خانیوال جنوبی پنجاب کا گیٹ وے ہے، یہاں کے باشندے سرائیکی نہیں بولتے لیکن یہ مجوزہ سرائیکستان کا ہی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہاں نظریہ نہیں ذات، برادری اور ذاتی تعلقات پر ووٹ ملتے ہیں، اس لئے ان کے ووٹ کو کسی پارٹی کے حوالے سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ ضلع خانیوال میں نیشنل اسمبلی کے چار اور صوبائی اسمبلی کے آٹھ حلقے ہیں۔ ماضی میں ضلع کی قومی اور صوبائی نشستوں پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جیتتی آئی ہیں۔ 2002 میں جب ن لیگ زوال کا شکار تھی تومسلم لیگ ق نے اکثریت حاصل کی تھی۔ 2013 میں آزاد نشستوں پر جیتنے والے بھی ملکی سیاست کے تیور دیکھتے ہوئے ن لیگ میں شامل ہوگئے تھے، نئی حلقہ بندیوں کے باعث ضلع خانیوال کی نشستیں تو کم نہیں ہوئیں لیکن حلقہ نمبر اور ان کے کچھ علاقے ضرور تبدیل ہوئے ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں خانیوال تحصیل میں قومی نشست پر محمد خان ڈاہا منتخب ہوئے اور صوبائی نشستوں پر نشاط خان ڈاہا اور چودھری فضل الرحمان ممبران صوبائی اسمبلی بنے جو ن لیگ سے ہی سیاسی میدان میں اترے تھے۔ محمد خان ڈاہا نے حامد یار ہراج کو تیس ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔ اب کی بار بھی ن لیگ کے یہی امیدوار ہیں۔ ان کے مد مقابل سردار احمد یار ہراج قومی اور ان کے بھائی حامد یار ہراج اور رانا سلیم صوبائی نشست کے امیدوار ہیں۔ ہراج گروپ اس بار ق لیگ کے بجائے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اب کی بار ہراج گروپ کو کچھ زیادہ ووٹ ملنے کی توقع ہے لیکن مقابلہ سخت ہے۔ ہراج گروپ کی خوش قسمتی ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما کرنل عابد محمود کھگہ نے گزشتہ انتخاب میں ستائیس ہزار سے زائد ووٹ لیے تھے۔ اب یہ ان کے حق میں دستبردار ہوچکے ہیں۔ یہاں نون پر جنون بھاری نظر آتا ہے لیکن ابھی نون میں بھی آکسیجن باقی ہے۔

این اے 156 جو تبدیل ہوکر این اے 150 بن چکا ہے، یہاں گزشتہ پندرہ سال سے ہراج گروپ جیتتا آرہا ہے۔ بلدیاتی سیاست پر بھی اسی گروپ کا راج ہے۔ ضلعی چیئرمین انجینئر محمد رضا سرگانہ بھی اسی گروپ سے ہیں۔ سابق ممبر قومی اسمبلی رضا حیات ہراج نے اپنے روایتی حریف سید فخر امام کو مسلسل تین مرتبہ شکست دی۔ اب کی بار مقابلہ سخت دکھائی دیتا ہے کیونکہ رضا حیات ہراج کو دیرینہ ساتھی اور سابق ایم پی اے حسین جہانیاں گردیزی چھوڑ کر سید فخر امام کے پینل سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں۔ ادھر ایم این اے کے سابق امیدوار ڈاکٹر سید خاور علی شاہ بھی فخر امام کے ساتھ مل کر ایم پی اے کی سیٹ پر میدان میں ہیں۔ ہراج گروپ کی دوسری بڑی خامی ایم پی اے کی نشستوں پر ایک طرف بھائی اکبر حیات ہراج اور دوسری طرف کزن عباس ظفر ہراج کا امیدوار ہونا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت کمزور امیدوار ن لیگ کے ہیں۔ ن لیگ نے ایم این اے کیلئے سابق ایڈمرل سعید احمد سرگانہ اور صوبائی نشستوں کیلئے سابق ایم پی اے مختار حسین شاہ کے بیٹے علی مرتضیٰ عرف حاجی بابا اور رانا عرفان محمود کو میدان میں اتارا ہے، جو دونوں گروپوں کے ووٹ میں نقب ضرور لگائیں گے۔ گزشتہ انتخابات میں رضا حیات ہراج نے 79353، ن لیگی امیدوار سید فخر امام نے 69274 جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار سید خاور علی شاہ نے20670 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اب کی بار سید گروپ کا ووٹ اکٹھا ہوچکا ہے لیکن پی پی 203 سے حاجی بابا سید گروپ کا اچھا خاصا ووٹ لے جائیں گے۔ برادریوں کی جوڑ توڑ کے دعوے دونوں طرف سے کیے جارہے ہیں لیکن اب کی بار سید سرکار کے نعرے کی گونج ہر طرف سنائی دیتی ہے۔

ضلع خانیوال کی تیسری بڑی تحصیل میاں چنوں ہے۔ اگر اس تحصیل کو ن لیگ کا گڑھ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہاں سے ن لیگ کے سابق پانچ ممبران اسمبلی رہے ہیں۔ ویسے بھی یہ علاقہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب مرحوم غلام حیدر وائیں کا ہے۔ ان کی اہلیہ مجیدہ وائیں مخصوص نشست سے رکن قومی اسمبلی رہی ہیں۔ یہ حلقہ اب این اے 152 کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ یہاں سے سابق رکن قومی اسمبلی پیر اسلم بودلہ ن لیگ، پیر ظہور حسین قریشی پی ٹی آئی اور پیر حیدر زمان قریشی پیپلز پارٹی کی طرف سے مدمقابل ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں یہاں سے پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کو بری طرح شکست ہوئی تھی لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے کیونکہ ن لیگ اختلافات کا شکار ہے۔ میاں چنوں شہر میں وائیں گروپ ن لیگی ایم پی اے کے امیدوار رانا بابر حسین کی حمایت سے پیچھے ہٹ گیا اور انہوں نے اپنا امیدوار رانا یوسف میدان میں اتارا ہے۔ یہاں رانا برادری کا ووٹ تقسیم ہوجائے گا۔ دوسری وجہ پی پی تلمبہ اور دیہاتی علاقوں میں پی ٹی آئی کے صوبائی نشست پر امیدوار علی عباس شاہ کی زبردست انتخابی مہم اور عوامی مقبولیت ہے۔ اس بار ن لیگی امیدوار سابق ایم پی اے عامر حیات کو یہاں ٹف ٹائم مل رہا ہے۔ یہاں آزاد امیدوار پرویز اختر حسینی بھی اپناحصہ وصول کریں گے جس کا زیادہ نقصان ن لیگ کو ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق ن لیگی رہنما شہزاد خان خاکوانی بھی اس بار علی عباس شاہ کی حمایت کررہے ہیں۔

ضلع خانیوال کا چوتھا حلقہ این اے 153 ہے جو تحصل جہانیاں اور تحصیل خانیوال کے کچھ حصے پر مشتمل ہے۔ یہاں سے سابق رکن اسمبلی افتخار نذیر ن لیگ جبکہ ملک غلام مرتضیٰ میتلا پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔ گزشتہ انتخابات کی طرح مسلم لیگ ن کو سابق ایم پی ایز کرم داد واہلہ اور رازق خان نیازی کا ساتھ حاصل نہیں کیونکہ یہ دونوں پی ٹی آئی کو پیارے ہوچکے ہیں اور دونوں ایم پی اے کے امیدوار ہیں۔ ن لیگی صوبائی امیدوار فیصل خان نیازی اور حاجی عطاء الرحمان پی ٹی آئی کے مقابلے میں کمزور امیدوار ہیں لیکن یہاں بھی مقابلہ سخت ہوگا۔ اگرچہ یہاں سے ن لیگ کے ایم این اے کی جیت کے امکانات زیادہ ہیں لیکن ایم پی ایز کے امیدواروں کیلئے خطرہ ہے۔

یہاں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں کے پاس وننگ امیدوار ہیں، دونوں طرف سیاستدان بھی اچھے ہیں، دونوں سائیڈز پر جوڑ توڑ کے ماہر بھی ہیں۔ یہاں کے سیانے کہتے ہیں کہ دونوں پارٹیوں کو برابر کا حصہ ملے گا۔ سوشل میڈیا سرویز سے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ضلع خانیوال میں مقابلہ ففٹی ففٹی رہے گا لیکن دونوں جماعتوں سے جیتنے والوں کا اصل امتحان 25 جولائی کے بعد ہوگا کیونکہ کون حکومت بنائے گا، کونسی جماعت بنائے گی؟ ابھی تک کچھ واضح نہیں۔ یہاں کے سیاسی نمائندوں کے بارے میں عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں، جس کا عروج دیکھتے ہیں اسی کے سامنے ماتھا ٹیک دیتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔