افغانستان ڈرون حملے میں جنگجو مارے گئے
افغانستان میں داعش جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ مستقبل میں پورے خطے کی سلامتی اور امن و امان کے لیے خطرے کی علامت ہے۔
افغانستان میں داعش جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ مستقبل میں پورے خطے کی سلامتی اور امن و امان کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ فوٹو:فائل
افغانستان میں تمام تر کوششوں اور وسائل بروئے کار لانے کے باوجود ابھی تک امن و امان کی صورت حال دگرگوں ہے' ملک بھر میں آئے دن خود کش حملوں یا افغان فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں سنائی دیتی رہتی ہیں' کبھی جنگجو خود کش حملے یا کوئی گوریلا کارروائی کر کے افغان فورسز اور اتحادی افواج کو نقصان پہنچاتے ہیں یا کبھی افغان فورسز اور اتحادی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں جنگجوؤں کی ایک تعداد ہلاک ہو جاتی ہے۔
بحیثیت مجموعی افغانستان میں امن و امان کی صورت حال کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو کہیں بھی امن دکھائی نہیں دیتا' بالخصوص شمالی صوبہ جوز جان' مشرقی صوبہ ننگرہار' جلال آباد' کابل اور اس کے مضافاتی علاقے خانہ جنگی کی لپیٹ میں چلے آ رہے ہیں۔ اس خانہ جنگی میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک ہو چکی ہے' شہری آبادی کے تحفظ کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ ماہ جولائی میں خود کش حملوں اور سرکاری فورسز کے فضائی حملوں میں 232 افغان شہری ہلاک اور313 زخمی ہوئے۔
نئی اطلاعات کے مطابق امریکی فورسز کے ڈرون حملے میں 6طالبان ہلاک ہو گئے جن میں ایک طالبان کمانڈر بھی شامل ہے' اس کے علاوہ شمالی صوبے جوز جان میں طالبان اور داعش کے درمیان لڑائی کی خبریں بھی آ رہی ہیں جس میں داعش کے 150سے زائد دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ جھڑپ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ افغانستان میں طالبان اور داعش کے درمیان شدید اختلافات ہیں اور دونوں گروپ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ افغان طالبان اور داعش کے درمیان جھڑپیں معمول بنتی چلی جا رہی ہیں۔
افغانستان میں داعش جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ مستقبل میں پورے خطے کی سلامتی اور امن و امان کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ تجزیہ نگار ایک عرصے سے اس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو افغانستان میں داعش کی سرپرستی کرتے ہوئے اسے مضبوط بنا رہی ہیں۔ ایک حلقے کا کہنا ہے کہ امریکا اور افغان حکومت ایک منصوبہ بندی کے تحت داعش کی سرپرستی کر رہے جس کا ایک مقصد پاکستان کے لیے خطرات پیدا کرنا اور اسے دباؤ میں رکھنا ہے۔
پاکستان بھی ان خطرات سے بخوبی آگاہ اور اس بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ افغان حکومت کو ہلیری کلنٹن کی اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ آستین کے وہ سانپ جو آپ اپنے ہمسائیوں کے وجود کے خاتمے کے لیے پالتے ہیں ایک دن وہ آپ کے اپنے وجود کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔
اگر امریکا اور افغان حکومت حقیقی معنوں میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان قائم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنی دوغلی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کرنا ہو گی۔ ایک جانب امریکا افغانستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرے اور دوسری جانب پاکستان پر ڈومور کے لیے دباؤ ڈالے تو اس منافقانہ پالیسی سے خطے میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔
بحیثیت مجموعی افغانستان میں امن و امان کی صورت حال کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو کہیں بھی امن دکھائی نہیں دیتا' بالخصوص شمالی صوبہ جوز جان' مشرقی صوبہ ننگرہار' جلال آباد' کابل اور اس کے مضافاتی علاقے خانہ جنگی کی لپیٹ میں چلے آ رہے ہیں۔ اس خانہ جنگی میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک ہو چکی ہے' شہری آبادی کے تحفظ کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ ماہ جولائی میں خود کش حملوں اور سرکاری فورسز کے فضائی حملوں میں 232 افغان شہری ہلاک اور313 زخمی ہوئے۔
نئی اطلاعات کے مطابق امریکی فورسز کے ڈرون حملے میں 6طالبان ہلاک ہو گئے جن میں ایک طالبان کمانڈر بھی شامل ہے' اس کے علاوہ شمالی صوبے جوز جان میں طالبان اور داعش کے درمیان لڑائی کی خبریں بھی آ رہی ہیں جس میں داعش کے 150سے زائد دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ جھڑپ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ افغانستان میں طالبان اور داعش کے درمیان شدید اختلافات ہیں اور دونوں گروپ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ افغان طالبان اور داعش کے درمیان جھڑپیں معمول بنتی چلی جا رہی ہیں۔
افغانستان میں داعش جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ مستقبل میں پورے خطے کی سلامتی اور امن و امان کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ تجزیہ نگار ایک عرصے سے اس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو افغانستان میں داعش کی سرپرستی کرتے ہوئے اسے مضبوط بنا رہی ہیں۔ ایک حلقے کا کہنا ہے کہ امریکا اور افغان حکومت ایک منصوبہ بندی کے تحت داعش کی سرپرستی کر رہے جس کا ایک مقصد پاکستان کے لیے خطرات پیدا کرنا اور اسے دباؤ میں رکھنا ہے۔
پاکستان بھی ان خطرات سے بخوبی آگاہ اور اس بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ افغان حکومت کو ہلیری کلنٹن کی اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ آستین کے وہ سانپ جو آپ اپنے ہمسائیوں کے وجود کے خاتمے کے لیے پالتے ہیں ایک دن وہ آپ کے اپنے وجود کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔
اگر امریکا اور افغان حکومت حقیقی معنوں میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان قائم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنی دوغلی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کرنا ہو گی۔ ایک جانب امریکا افغانستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرے اور دوسری جانب پاکستان پر ڈومور کے لیے دباؤ ڈالے تو اس منافقانہ پالیسی سے خطے میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔