چیلنجز کا حل تلاش کرنے کی ضرورت

بادی النظر میں سیاسی کشمکش، حکومت سازی میں مسابقت کی متضاد اطلاعات ہیں۔


Editorial August 03, 2018
بادی النظر میں سیاسی کشمکش، حکومت سازی میں مسابقت کی متضاد اطلاعات ہیں۔ فوٹو؛ فائل

وفاق میں حکومت سازی کے لیے تحریک انصاف کی کثیر جہتی کوششوں نے سیاست کے عجب رنگ بکھیرے ہیں۔ پنجاب میں کس کی حکومت قائم ہوگی اس مسئلہ پر ن لیگ اور پی ٹی آئی میں گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جہانگیر ترین کے طیارہ کی دھوم مچی ہوئی ہے، تاہم اپوزیشن کی طرف سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ٹف ٹائم ضرور دیا جانا چاہیے مگر جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے والی کوئی دھرنا سیاست نہیں ہو گی، اس صائب اور خوش آیند احتجاجی حکمت عملی پر جمہوری روایت کے ساتھ عمل درآمد کیسے ہو گا، اس کا اندازہ آیندہ چند ہفتوں میں لگایا جا سکے گا۔

بہر کیف اعصابی جنگ، جوڑتوڑ کی جادوگری اور سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے، ایم کیو ایم کا پی ٹی آئی حکومت میں شامل ہونے کااعلان ''بگ بینگ'' ثابت ہوا ہے، پی پی منتظر تھی کہ متحدہ ان سے سندھ کے سیاق وسباق اور کراچی میں پرامن بقائے باہمی کے نئے دور کا آغاز کرے مگر متحدہ کا کہنا تھا کہ اصولی موقف اور آئین کے تقاضے پورے کرنے کے لیے پی ٹی آئی کا ساتھ دینا ناگزیر تھا، الیکٹرانک میڈیا انتہائی متحرک اور پل پل کی خبر دے رہا ہے۔ اخبارات و جرائد اپنے بیش قیمت تجزیوں سے پاکستان کے مستقبل کی سیاسی پلکیں سنوارنے میں منہمک ہیں۔

آزاد ارکان کو وزارت عظمیٰ کی حلف برداری تک محفوظ رکھا جا رہا ہے، اسد عمر کا کہنا ہے کہ جادو کی چھڑی سے سب ٹھیک نہیں ہو سکتا، معاشی بحران حل کریں گے، جب کہ ن لیگ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کشکول توڑے۔ اسلام آباد میں متحدہ اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی، اندرون سندھ جمہوری ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈے اے) نے آج سے مظاہروں کا اعلان کیا ہے، حکومت نے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ لینے کے تناظر میں امریکی ''تڑی'' کا دو ٹوک جواب دیا ہے۔

متوقع وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے یقین دلایا ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی گئی دولت کی وطن واپسی ہمارا عزم ہے، یہ بات انھوں نے برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو سے دوران گفتگو کی جنہوں نے عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی اور انتخابات میں کامیابی پر عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے نئی حکومت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، تھامس ڈریو کا کہنا تھا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد کیے گئے عمران خان کے خطاب نے برطانیہ میں نہایت مثبت اثرات چھوڑے ہیں، ایک خوش آیند اطلاع کے مطابق تحریک انصاف نے حکومت سنبھالتے ہی عوام کو فوری ریلیف دینے اور حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں سادہ اور پروقار انداز میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سربراہان مملکت کو مدعو کرنے کا فیصلہ دفتر خارجہ کریگا۔ دریں اثنا تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وفاق میں حکومت سازی کے لیے نمبر جلد پورے ہو جائیں گے، مینگل گروپ کی شمولیت سے واضح اکثریت حاصل ہو جائے گی جب کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری گزشتہ شام خصوصی طیارے کے ذریعہ کراچی سے اسلام آباد پہنچے جہاں انھوں نے اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کی۔

ادھر مسلم لیگ ن کے طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور اسپیکرکے لیے اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار لانے کی کوشش کریں گے، پی ٹی آئی کے پاس 172 ارکان پورے نہیں، ان کی سپلی آنے والی ہے تاہم ہم انھیں موقع دے رہے ہیں، ان کی حلف برداری کے بعد الٹی گنتی شروع کریں گے۔

ایم کیوایم کے اظہار الحسن نے کہا کہ ہم نے اے پی سی میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، سندھ میں اپوزیشن لیڈرکے لیے جی ڈی اے سے ہماری مشاورت ہوئی ہے، پیپلزپارٹی کو پتہ ہونا چاہیے پچھلے 5 برس ہم اپوزیشن میں رہے، ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے سربراہ اختر جان مینگل نے بدھ کو بلوچستان ہاؤس میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا، ذرایع کے مطابق پیپلز پارٹی کے وفد اور بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اخترجان مینگل کے درمیان ملاقات کے دوران حالیہ انتخابات کے بعد سامنے آنے والی صورتحال، حکومت یا اپوزیشن کاساتھ دینے سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سردار اختر مینگل نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے ، سردار اختر مینگل نے اسمبلی میں جانے کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آیند ہے۔ یاد رہے بلوچستان میں اکثریت حاصل کرنے والی عوامی بلوچستان پارٹی کے جام کمال کو بطور وزیراعلیٰ نامزد کرنے پر اختلافات سامنے آگئے ہیں، جان محمد جمالی، قدوس بزنجو اور یار محمد رند نے فیصلہ پر برہمی کا اظہار کیا ہے، تاہم اندرونی ذرایع کے مطابق عمران اس قضیہ کا جلد حل نکال لیں گے۔

بادی النظر میں سیاسی کشمکش، حکومت سازی میں مسابقت کی متضاد اطلاعات ہیں، سیاسی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی نمبرز گیم میں بازی لے جانے کی پوزیشن میں ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ جوڑتوڑ میں کشیدگی سر نہ اٹھائے، حکومت چیلنجز کا حل تلاش کرے، سارے سیاسی معاملات آئین اور جمہوری اسپرٹ کے ساتھ طے ہوجانے چاہئیں۔