کراچی میں امن و امان کی ذمے داری ایک ادارے کو دینی چاہیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ

ریٹرننگ افسران کیخلاف کوئی شکایت ملتی توکارروائی کرتے،ماتحت عدلیہ میں کرپشن پربھی نظرہے، جسٹس مشیر عالم

اچھے وکلا کا رجحان کم ہے،نااہلوں کو ہم نہیں رکھنا چاہتے،ججز کی تقرری صرف میرٹ پرہوگی، صحافیوں سے گفتگو فوٹو: فائل

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم نے کہا ہے کہ شہر میں امن وامان کی ذمے داری کسی ایک ادارے پر ہونی چاہیے، ایک سے زائد اداروں کو امن وامان کی ذمے داری سونپنے سے کوئی بھی ادارہ خود کوذمے دار نہیں سمجھتا اور خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔

ان خیالات کا اظہار انھوںنے سندھ ہائیکورٹ کے مستقل ہوجانے والے 3 ججزجسٹس عبدالرسول میمن،جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹواورجسٹس صادق حسین بھٹی کی حلف برداری کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ آنے والی حکومت کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے کسی ایک ادارے کو ذمے دار بنانے پر غور کرے گی۔ایک سوال پر فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر ریٹرننگ افسران کے خلاف کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اگر کوئی شکایت ملتی تو ریٹرننگ افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جاتی۔




ججز کی کمی سے متعلق ایک سوال پر چیف جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ اس جانب اچھے وکلا کا رجحان کم ہے، نااہلوں کو ہم نہیں رکھنا چاہتے، ایک نااہل کی بھرتی سے ادارہ برسوں تک اس کے اثرات بھگتتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ججز کی تقرری صرف میرٹ پر ہوگی۔انھوں نے کہا کہ عدلیہ سمیت تمام اداروں میں اہل افراد کا تقرر ہوناچاہیے۔

ماتحت عدلیہ سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ہماری ماتحت عدلیہ میں ہونے والی کرپشن پرنظر نہیں،اس ضمن میں ممبرانسپیکشن ٹیم کی سربراہی میں ایک علیحدہ شعبہ قائم ہے جو باقاعدہ مانیٹرنگ کرتا ہے اور موصول ہونے والی شکایتو ں پر روازانہ کی بنیاد پر کارروائی بھی کرتا ہے اوراس سلسلے میں مختلف افسران کو فارغ کیا گیاہے اور متعدد کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں ۔قبل ازیں چیف جسٹس مشیر عالم نے جسٹس عبدالرسول میمن،جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹواورجسٹس صادق حسین بھٹی سے حلف لیا ۔
Load Next Story