امپورٹر خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹ صرف برآمدات کیلئے استعمال کا پابند
صرف برآمدات سے حاصل ہونیوالا زرمبادلہ ڈپازٹ کیا جاسکے گا،اسٹیٹ بینک
ایکسپورٹرز کے خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس حقیقی ایکسپورٹرز کو فراہم،اسٹیٹ بینک۔ فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے برآمد کنندگان کے خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس برآمدات کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ ای پی ڈی سرکلر لیٹر نمبر 11کے ذریعے زرمبادلہ کے مجاز ڈیلرز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایکسپورٹرز کے خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس سے متعلق فارن ایکس چینج مینوئل کے چیپٹر 12کے پیرا 35اور پیرا 36میں درج ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایکسپورٹرز کے خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس کی سہولت صرف حقیقی ایکسپورٹرز کو فراہم کی جائے اور ان اکاؤنٹس میں صرف برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ڈپازٹ کیا جائے۔
مجاز ڈیلرز کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے اکاؤنٹس میں جمع کی جانے والی رقوم بھی صرف برآمدات سے متعلق جائز اور قانونی مقاصد کیلیے خرچ کی جائے ۔
مرکزی بینک کے مطابق ایکسپورٹرز کے خصوصی اکاؤنٹس میں موجود رقوم کسی اور مقاصد کیلیے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ مجاز ڈیلرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایکسپورٹرز کے خصوصی اکاؤنٹس کھولنے اور جاری رکھنے سے متعلق طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور اکاؤنٹ کھولنے سے متعلق کسٹمرز کی شناخت اور چھان پھٹک کے فارن ایکس چینج تقاضوں کو لازمی پورا کیا جائے۔
مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ بالا ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے ڈیلرز کے خلاف فارن ایکس چینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے سیکشن 23 کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ ای پی ڈی سرکلر لیٹر نمبر 11کے ذریعے زرمبادلہ کے مجاز ڈیلرز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایکسپورٹرز کے خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس سے متعلق فارن ایکس چینج مینوئل کے چیپٹر 12کے پیرا 35اور پیرا 36میں درج ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایکسپورٹرز کے خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس کی سہولت صرف حقیقی ایکسپورٹرز کو فراہم کی جائے اور ان اکاؤنٹس میں صرف برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ڈپازٹ کیا جائے۔
مجاز ڈیلرز کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے اکاؤنٹس میں جمع کی جانے والی رقوم بھی صرف برآمدات سے متعلق جائز اور قانونی مقاصد کیلیے خرچ کی جائے ۔
مرکزی بینک کے مطابق ایکسپورٹرز کے خصوصی اکاؤنٹس میں موجود رقوم کسی اور مقاصد کیلیے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ مجاز ڈیلرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایکسپورٹرز کے خصوصی اکاؤنٹس کھولنے اور جاری رکھنے سے متعلق طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور اکاؤنٹ کھولنے سے متعلق کسٹمرز کی شناخت اور چھان پھٹک کے فارن ایکس چینج تقاضوں کو لازمی پورا کیا جائے۔
مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ بالا ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے ڈیلرز کے خلاف فارن ایکس چینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے سیکشن 23 کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔