افغانستان میں کھیل کے دوران راکٹ پھٹنے سے 6 بچے ہلاک
افغانستان میں رواں برس کے دوران ایسے واقعات میں 300 سے زائد بچے ہلاک اور 900 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
بچے ناکارہ راکٹ سے کھیل رہی تھیں کہ راکٹ پھٹ پڑا۔ فوٹو : فائل
افغانستان میں راکٹ سے کھیلنے والی 6 بچے راکٹ پھٹنے سے ہلاک ہوگئیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے افغانستان کے صوبے لغمان کے ایک محلے میں بچے پرانے اور بوسیدہ راکٹ سے کھیل رہے تھے کہ راکٹ اچانک پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 6 بچے شدید زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
گورنر لغمان کے ترجمان نے معصوم بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے اور شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ایسے حادثے سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق راکٹ روسی ساختہ ہے اور افغان وارکے درمیان صوبے لغمان میں داغا گیا تھا لیکن پھٹ نہیں سکا تھا، افغانستان میں ایسے واقعات عام ہیں اور صرف رواں برس کے پہلے 6 مہینوں میں 3 سو 63 بچے ہلاک اور 992 زخمی ہوئے ہیں۔
اس واقعے سے جنگ زدہ افغانستان میں حفاظتی اقدامات کی قلعی کھل گئی ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں بارودی سرنگوں اور بغیر پھٹے زمین میں دھنس جانے والے راکٹ اور میزائل سے محفوظ رہنے کے لیے معلومات اور آگاہی کی کمی کے باعث عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے افغانستان کے صوبے لغمان کے ایک محلے میں بچے پرانے اور بوسیدہ راکٹ سے کھیل رہے تھے کہ راکٹ اچانک پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 6 بچے شدید زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
گورنر لغمان کے ترجمان نے معصوم بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے اور شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ایسے حادثے سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق راکٹ روسی ساختہ ہے اور افغان وارکے درمیان صوبے لغمان میں داغا گیا تھا لیکن پھٹ نہیں سکا تھا، افغانستان میں ایسے واقعات عام ہیں اور صرف رواں برس کے پہلے 6 مہینوں میں 3 سو 63 بچے ہلاک اور 992 زخمی ہوئے ہیں۔
اس واقعے سے جنگ زدہ افغانستان میں حفاظتی اقدامات کی قلعی کھل گئی ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں بارودی سرنگوں اور بغیر پھٹے زمین میں دھنس جانے والے راکٹ اور میزائل سے محفوظ رہنے کے لیے معلومات اور آگاہی کی کمی کے باعث عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔