امریکا سے تمام تنازعات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں ترکی
شرط یہ ہے کہ ہمیں دھمکایا اور ڈکٹیٹ نہ کیا جائے، ترک وزیر خارجہ
ہر موضو ع پر امریکا سے بات کرنا چاہتے ہیں، ترک وزیر خارجہ (فوٹو: فائل)
ترکی کے وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو نے کہا ہے کہ ہم امریکا سے تمام تر تنازعات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انقرہ میں غیر ملکی سفیروں کو امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور ملکی حکمت عملی سے آگاہ کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ بطور نیٹو اتحادی ہم امریکا سے ہر موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں، حالیہ کشیدگی کے باوجود انقرہ واشنگٹن سے ہر معاملے پر مذاکرت کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی کا امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر تمام مسائل پر بات کرنا چاہتے ہیں لیکن شرط صرف یہ ہے کہ ہمیں دھمکایا اور ڈکٹیٹ نہ کیا جائے۔
ترک وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کو امریکا کی پالیسی سے ترکی کو ہونے والی پریشانیوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔
واضح رہے کہ ترکی اور امریکا کے درمیان اس وقت سفارتی و تجارتی کشیدگی جاری ہے، امریکا نے ترکی کی درآمدات پر ٹیکس دُگنا کردیا ہے جس کے ردعمل میں ترکی نے امریکی الیکٹرانک مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انقرہ میں غیر ملکی سفیروں کو امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور ملکی حکمت عملی سے آگاہ کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ بطور نیٹو اتحادی ہم امریکا سے ہر موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں، حالیہ کشیدگی کے باوجود انقرہ واشنگٹن سے ہر معاملے پر مذاکرت کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی کا امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر تمام مسائل پر بات کرنا چاہتے ہیں لیکن شرط صرف یہ ہے کہ ہمیں دھمکایا اور ڈکٹیٹ نہ کیا جائے۔
ترک وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کو امریکا کی پالیسی سے ترکی کو ہونے والی پریشانیوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔
واضح رہے کہ ترکی اور امریکا کے درمیان اس وقت سفارتی و تجارتی کشیدگی جاری ہے، امریکا نے ترکی کی درآمدات پر ٹیکس دُگنا کردیا ہے جس کے ردعمل میں ترکی نے امریکی الیکٹرانک مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔