گیسٹرو کی بیماری میں اضافہ مزید 200 سے زائد افراد اسپتال میں داخل

عوام پانی ابال کر استعمال کریں اور کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں, ڈاکٹرز

عوام پانی ابال کر استعمال کریں اور کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں, ڈاکٹرز فوٹو: اسراالحق۔

حافظ آباد، سکھر اور اس کے قریبی علاقوں میں گیسٹرو کی بیماری تیزی سے پھیلنے کے باعث 200 سے زائد مریض مختلف اسپتالوں میں داخل ہو گئے۔



ایکسپریس نیوز کے مطابق اندرون سندھ کے شہروں میں آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث گیسٹرو کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ نئے داخل ہونے والے مریضوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ سکھر اور اس کے قریبی علاقوں سے بھی گیسٹرو کے مریض بڑی تعداد میں اسپتال لائے جا رہے ہیں۔


دوسری جانب حافظ آباد اور گردو نواح میں موسم تبدیل ہوتے ہی گیسٹرو کے مرض میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ 78 بچوں سمیت 150 سے زائد مریض ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال پہنچ گئے جبکہ 24 بستروں پر مشتمل چلڈرن وارڈ میں بستر کم پڑ جانے کے باعث ایک بیڈ پر تین ، تین مریضوں کو لٹایا گیا ہے، گیسٹرو کے مریض بچوں میں تین جڑواں بھائی بھی شامل ہیں۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد امجد کا کہنا ہے روزانہ کی بنیاد پر گیسٹرو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ اسپتال کے میل میڈیکل وارڈ میں بھی 16 نئے مریض داخل ہوئے ہیں، ڈاکٹرز نے ہدایت کی ہے کہ عوام پانی ابال کر استعمال کریں اور کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں۔


Recommended Stories

Load Next Story