چاول کی برآمدات میں جولائی تا 15 مئی 26 کروڑ ڈالر کمی

1.58 ارب ڈالر کا 30 لاکھ ٹن چاول ایکسپورٹ، باسمتی کی برآمد 40 فیصد گر گئی

رائس ایکسپورٹرز کو تشویش، ذخیرہ اندوزی اور پیداواری لاگت میں اضافہ روکنا ہو گا، جاوید غوری فوٹو: فائل

چاول کی برآمدات رواں مالی سال 26 کروڑ ڈالر کم رہیں۔

گزشتہ مالی سال جولائی 2011 تا 15 مئی 2012 تک 1 ارب 84 کروڈ ڈالر کا 33 لاکھ 38 ہزارٹن چاول برآمد کیا گیا تھا لیکن رواں مالی سال جولائی 2012 تا 15 مئی 2013 تک 1 ارب 58 کروڑڈالر کا 30 لاکھ ٹن چاول برآمد کیا گیا۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین جاوید علی غوری نے چاول کی برآمدات میں 2 لاکھ 52 ہزارٹن کمی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اداروں کو چاول کی برآمدات میں اضافے کے لیے چاول کی کاشت میں جدید طرزعمل کواپنانا ہوگا تاکہ چاول کے اضافی پیداواری عمل کے ذریعے چاول کی برآمدات میں اضافے کوممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چاول کی ذخیرہ اندوزی کا سدباب کیا جائے اور پیداواری لاگت میں بڑھتے ہوئے اضافے کوکم کرتے ہوئے چاول کے کاشت کاروں کے لیے آگہی پروگرام کاآغاز کیا جائے۔




انھوں نے کہا کہ پاکستانی باسمتی چاول کی برآمدات میں اضافے کے اقدامات میں بہتری پیدا کرنا ہوگی کیونکہ رواں مالی سال اب تک باسمتی چاول کی برآمدات میں تقریباً 40 فیصد کمی ہوئی ہے اور گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 23 کروڑ ڈالر مالیت کا 3 لاکھ 37 ہزار ٹن باسمتی چاول کم برآمدکیا گیا، جولائی 2011 تا 15 مئی 2012 تک 72 کروڑ ڈالر کا 8 لاکھ 34 ہزار ٹن باسمتی چاول برآمد کیا گیا تھا لیکن جولائی 2012 تا 15 مئی 2013 کے دوران 49 کروڑ ڈالر مالیت کا 4 لاکھ 97 ہزار ٹن باسمتی چاول برآمد کیا گیا۔

جاوید علی غوری نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت پاکستانی باسمتی چاول کی برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی جس کے لیے مقامی چاول کے کاشت کاروں اورکسانوں کو جدید طرز عمل اپنانے کے لیے کسان دوست پروگرام شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
Load Next Story