نواز شریف نگراں حکومت سے ملی بھگت کا تاثر ختم کریں اسمال ٹریڈرز

نگراں حکومت کے فیصلے اختیارات سے تجاوز، نئی منتخب حکومت کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں

ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، ناامیدی کی دلدل میں نہ دھکیلا جائے، چیئرمین کراچی تاجر اتحادعتیق میر۔ فوٹو : ایکسپریس

چھوٹے تاجروں نے بھی نگراں حکومت کی جانب سے منی بجٹ کے ذریعے جی ایس ٹی کی شرح بڑھانے پر احتجاج کرتے ہوئے اس اقدام کونومنتخب حکومت کے خلاف پہلی سازش قرار دیدیا ہے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میرنے کہا ہے کہ نگراں حکومت کے مجوزہ فیصلے مستقبل میں نومنتخب حکومت کیلیے مشکلات کا باعث بن جائیں گے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل تاجروعوام کی شدید ردعمل کا باعث بن سکتے ہے، چھوٹے تاجرمحسوس کرتے ہیں کہ نگراں حکومت کے ان فیصلوں کے پسِ پُشت کوئی خفیہ ہاتھ کارفرما ہے، متنازعہ اقدامات کا مقصد عوام کو نئی حکومت سے بدظن اور مایوسی میں مبتلا کرنے کی کوشش ہے، انھوں نے کہا کہ تاجروں اور عوام کو ہولناک بدامنی، ناقابلِ برداشت مہنگائی، مایوس کُن بے روزگاری اور اذیت ناک توانائی بحران جیسے مسائل کا سامنا ہے جن کا خاتمہ آئندہ حکومت کیلیے کڑا امتحان ثابت ہوگا۔

انتخابی دعوؤں اور وعدوں نے نئی حکومت سے غیر معمولی امیدیں اور توقعات وابستہ کردی ہیں، انھوں نے کہا کہ نگراں حکومت کے فیصلے اپنے اختیارات سے تجاوز اور انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت کے وعدوں کی سراسر نفی ہیں،انھوں نے مستقبل کے متوقع وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ نگراں حکومت کے فیصلوں کی نفی کرکے اپنی پوزیشن واضح اورملی بھگت کا تاثر دور کریں، انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نومنتخب حکومت نے قوم کو مایوس کیا تو ملک بھر میں احتجاجی تحریکوں کا سلسلہ شروع ہوجائیگا، انھوں نے تاجر برادری کی جانب سے آئندہ حکومت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ تعلیم، توانائی، صحت اوراشیائے خورد و نوش کی ارزانی کیلیے تاجر برادری بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلیے تیار ہے۔




حکمرانوں کو ماضی کے برعکس بھکاری کلچر چھوڑ کر خود انحصاری پروگرام متعارف کرانا ہوگا، انھوں نے تجویز دی کہ اشیائے تعیش کی درآمدات پر فوری پابندی عائد کی جائے، ملک میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کیلیے تکنیکی سہولتوں کی فراہمی اوربرآمدی پالیسی کو پُرکشش بنایا جائے، چینی مصنوعات کی درآمدات محدود اورچین سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی جائے، انھوں نے کہا کہ عوام سے کیے گئے وعدے کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر کراچی میں قیامِ امن کیلیے ٹھوس، مضبوط اور موثر اقدامات کیے جائیں، انھوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد بھی کراچی کے حالات کسی تبدیلی کے بغیر انتخابات سے قبل کی پوزیشن پر ہیں۔

شہر کی تاجر برادری حالات سے پریشان ہوکر نا امیدی کے دلدل میں دھنس رہی ہے،بھتہ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم نے شہر کے تاجروں کو مایوسی کی آخری حد تک پہنچادیا ہے، ماضی کا تجارتی حب کراچی بھتہ نگر میں تبدیل ہوگیا ہے، انھوں نے کہا کہ تاجر برادری موجودہ حالات میں بھی ملک کے روشن مستقبل سے مایوس نہیں ہے ، حالات موافق ہوں تو بلاشبہ پاکستان سرمایہ کاروں کی جنت ہے، عوام کی قسمت بدلنے کیلیے 18 کروڑ آبادی میں ایک مہاتیر محمد تلاش کرنا ہوگا، حکومت، تاجر اور عوام ملک کیلیے مخلص اور نیک نیتی کا مظاہرہ کریں تو معاشی مسائل و مشکلات کی سیاہ رات کا خاتمہ ممکن ہے۔
Load Next Story