سی این جی کے استعمال سے 20فیصد فضائی آلودگی کم ہوئی

گیس کے نئے ذخائر پر سابق حکومت نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا،نعیم قریشی

گیس کے نئے ذخائر پر سابق حکومت نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا،نعیم قریشی. فوٹو: فائل

نیشنل فورم فار انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ نے حکومت کی جانب سے ایک ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں میں سی این جی بھرنے پر پابندی کے حوالے سے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ نگراں حکومت کا یہ فیصلہ غیر آئینی، صارفین کے مفاد اور تحفظ ماحول کی کوششوں کے خلاف ہے۔

نیشنل فورم کے صدر محمد نعیم قریشی نے کہا کہ ملک میں سی این جی پر چلنے والی 35لاکھ سے زائد گاڑیوں سے ملک میں 20فیصد سے زائد فضائی آلودگی ختم ہوئی ہے اور پاکستان میں سی این جی کو 10 سال پہلے بہتر پالیسی کے ذریعے ترقی دی گئی اور اب آہستہ آہستہ اسے ختم کیا جا رہا ہے، انھوں نے کہا کہ گیس کی چوری پورے ملک میں 13 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہے اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کیلیے سابق حکومت نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا اور نہ ایل پی جی کو ترقی دی جاسکی ۔




نعیم قریشی نے نئی قیادت سے اپیل کی کہ وہ سی این جی کی ترقی کو ترجیح دیں تاکہ ملک میں فضائی آلودگی کا خاتمہ کیا جاسکے اورماحول دوست گاڑیوں کی درآمدات پر ڈیوٹی ختم کی جائے تاکہ ملک میں ٹرانسپورٹ سیکٹر سے ہونے والی آلودگی کو ختم کیا جا سکے،نعیم قریشی نے کہا کہ سی این جی کے استعمال سے 5ملین ڈالر سالانہ کے زرمبادلہ کی بچت ہو رہی ہے اور حکومت پاکستان نے 2005میں کیونوپروٹوکول کے تحت معاہدہ کیا ہے کہ ملک سے فضائی آلودگی کا خاتمہ کیا جائے گا، انھوں نے بتایا کہ فضائی آلودگی کے باعث ہر سال 30ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔
Load Next Story