ہماری حکومت بننے والی ہے بجلی دستیاب ہوگی خرم دستگیر
دھاندلی پرصرف پی ٹی آئی ہی نہیں ن لیگ بھی احتجاج کررہی ہے،شفقت محمود
کراچی میں سیاسی خلا تحریک انصاف نے پر کیا ہے، سعید غنی، لائیو ود طلعت میں گفتگو فوٹو : فائل
ن لیگ کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بہت ہی اہم ہے جس سے سب پریشان ہیں ۔
اگر نگراںحکومت50 ارب دینا چاہے تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ سرکلر ڈیٹ بڑا ایشو ہے جس کا حل ن لیگ کی ترجیحات میں شامل ہے جلد بجلی دستیاب ہوگی ۔چند روز تک حکومت بننے والی ہے اور ن لیگ ترجیحی بنیادوں پر لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو کم سے کم کریگی۔ تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ نگراں حکومت ن لیگ اور پی پی پی نے بنائی تھی اگر یہ اتنی ہی نااہل تھی تو پھر ان کو موقع کیوں دیا گیا یہ 2ماہ کے لیے آئے ہیں اورپتہ نہیں کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں کسی کا تبادلہ کررہے ہیں تو کسی کو نواز رہے ہیں۔
دھاندلی کا معاملہ صرف پی ٹی آئی کا نہیں ہے سندھ میں ن لیگ بھی احتجاج کررہی ہے ساری جماعتیں ہی اپنے تحفظات کا اظہارکررہی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الیکشن کسی طرح بھی ٹھیک نہیں ہوئے لوگ پہلی مرتبہ باہر کے ملکوں سے صرف ووٹ ڈالنے کے لیے آئے لیکن جب نتائج سے قبل اعتراضات آئے تو ان کے دل بجھ گئے۔ ہم سارے الیکشن کو دوبارہ کرانے کا مطالبہ نہیں کررہے ہم چاہتے ہیں کہ پتہ تو چلے کہ جہاں جہاں دھاندلی کی شکایت ہے وہاں گڑ بڑ کیا ہوئی ہے۔
معیشت کو بحال کرنا ہے 6 ہزار سے زائد فیکٹریوںمیں سے 300 رہ گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹرسعید غنی نے کہا کہ نگراں حکومت پر ہمارے بھی تحفظات ہیں 22 ارب کسی بھی حکومت کیلیے بڑی بات نہیں ہے لیکن مینج نہیں کررہے اس کی وجہ کا پتہ نہیں چل رہا ۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ اعتراضا ت دور کرے۔ کراچی میں سیاسی ویکیوم کو تحریک انصاف نے پر کیا ہے ہم کوشش کریں گے کہ سندھ کو ماڈل بناکر کچھ بہتر پرفارم کریں ۔
اگر نگراںحکومت50 ارب دینا چاہے تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ سرکلر ڈیٹ بڑا ایشو ہے جس کا حل ن لیگ کی ترجیحات میں شامل ہے جلد بجلی دستیاب ہوگی ۔چند روز تک حکومت بننے والی ہے اور ن لیگ ترجیحی بنیادوں پر لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو کم سے کم کریگی۔ تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ نگراں حکومت ن لیگ اور پی پی پی نے بنائی تھی اگر یہ اتنی ہی نااہل تھی تو پھر ان کو موقع کیوں دیا گیا یہ 2ماہ کے لیے آئے ہیں اورپتہ نہیں کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں کسی کا تبادلہ کررہے ہیں تو کسی کو نواز رہے ہیں۔
دھاندلی کا معاملہ صرف پی ٹی آئی کا نہیں ہے سندھ میں ن لیگ بھی احتجاج کررہی ہے ساری جماعتیں ہی اپنے تحفظات کا اظہارکررہی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الیکشن کسی طرح بھی ٹھیک نہیں ہوئے لوگ پہلی مرتبہ باہر کے ملکوں سے صرف ووٹ ڈالنے کے لیے آئے لیکن جب نتائج سے قبل اعتراضات آئے تو ان کے دل بجھ گئے۔ ہم سارے الیکشن کو دوبارہ کرانے کا مطالبہ نہیں کررہے ہم چاہتے ہیں کہ پتہ تو چلے کہ جہاں جہاں دھاندلی کی شکایت ہے وہاں گڑ بڑ کیا ہوئی ہے۔
معیشت کو بحال کرنا ہے 6 ہزار سے زائد فیکٹریوںمیں سے 300 رہ گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹرسعید غنی نے کہا کہ نگراں حکومت پر ہمارے بھی تحفظات ہیں 22 ارب کسی بھی حکومت کیلیے بڑی بات نہیں ہے لیکن مینج نہیں کررہے اس کی وجہ کا پتہ نہیں چل رہا ۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ اعتراضا ت دور کرے۔ کراچی میں سیاسی ویکیوم کو تحریک انصاف نے پر کیا ہے ہم کوشش کریں گے کہ سندھ کو ماڈل بناکر کچھ بہتر پرفارم کریں ۔