نومنتخب سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کو طلب متحدہ کو حکومت میں شامل کرنے کیلیے پیپلز پارٹی کی کوششیں

اجلاس کے پہلے روز اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب عمل میں لایا جائیگا،30مئی کو قائد ایوان کا انتخاب ہوگا

ہزار خان بجارانی نئے اسپیکرہوسکتے ہیں، متحدہ سے مذاکرات تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے،صدر اور الطاف حسین کے رابطے کے بعد حتمی صورتحال واضح ہوگی،ذرائع۔ فوٹو: فائل

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے سندھ کی نومنتخب اسمبلی کا اجلاس بدھ29مئی کی صبح10بجے سندھ اسمبلی بلڈنگ میں طلب کرلیا ہے۔

اجلاس کے پہلے روزاسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمدکھوڑو نومنتخب ارکان سے حلف لیں گے بعد ازاں نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوسرے روز یعنی30مئی کو قائد ایوان (وزیر اعلیٰ سندھ) کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ دوسری جانب سندھ حکومت کے قیام کے حوالے سے پیپلز پارٹی حتمی فیصلہ نہیں کرسکی ہے، ذمے دار ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سندھ حکومت میں شمولیت سے گریز کر رہی ہے ابتدائی سطح پر پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان جاری مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں جبکہ توقع ہے کہ صدرآصف علی زرداری اور متحدہ کے قائد الطاف حسین کے درمیان براہ راست رابطے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔




پیپلزپارٹی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات حتمی شکل اختیار نہ کرنے کی وجہ سے سندھ میں وزیراعلیٰ ، اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور کابینہ کے اراکین کے ناموںکوحتمی شکل نہیں دی جاسکی ہے ، ذرائع کے مطابق اگر ایم کیو ایم سندھ حکومت کا حصہ نہ بنی تو پیپلز پارٹی حکمت عملی کے تحت نوجوان قیادت کوکابینہ میں موقع فراہم کرے گی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کیلیے قائم علی شاہ مضبوط امیدوارکے طور پرسامنے آرہے ہیں اگر وہ نامزدکیے گئے تو یہ سندھ کی تاریخ میں پہلاموقعہ ہوگا جبکسی ایک شخصیت کو تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا، توقع ہے کہ ہزار خان بجارانی کو اسپیکر سندھ اسمبلی اور نثاراحمد کھوڑوکوسینئر وزیرکی حیثیت سے ذمے داریاں سونپی جاسکتی ہیں ، پیپلز پارٹی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ3 روز میں اس ضمن میں حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا ۔
Load Next Story