اجمل بیگ کو جیل حکام نے میڈیکل کے بعد تحویل میں لیا تھا
دوران حراست بہیمانہ تشدد کیا گیا،ایم ایل او قرار عباسی نے غلط میڈیکل بنایا، ذرائع.
متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن اجمل بیگ کی نماز جنازہ کے موقع پر خو اتین احتجاج کر رہی ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس
KARACHI:
سول اسپتال میں دوران علاج دم توڑنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے یونٹ انچارج اجمل بیگ کو جیل حکام نے مکمل میڈیکل رپورٹ حاصل کرنے کے بعد جیل کسٹڈی میں لیا تھا۔
ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ اجمل بیگ ولد امتیاز بیگ کو موچکو پولیس لے کر آئی تھی جس کیخلاف اسلحہ آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج تھا جبکہ اجمل کو 18 مئی کی شب رینجرز نے ریلوے کالونی سے حراست میں لیا تھا،جیل ذرائع نے بتایا کہ21 مئی کو جس وقت اجمل بیگ کو جیل لایا گیا تھا تو اس وقت وہ شدید زخمی حالت میں تھا۔
جیل حکام نے اس کی کسٹڈی لینے سے انکار کیا تھا اورپھراسے میڈیکل کیلیے سول اسپتال لے جایا گیا، ایم ایل او قرار عباسی نے مبینہ طور پر بھاری رقم کے عوض میڈیکل رپورٹ تیار کی جس میں اسے کم زخمی ظاہر کیا گیا اور مبینہ طور پر متعدد چوٹوں کا ذکر تک نہیں کیا گیا،بعدازاں اجمل بیگ کو جیل لایا گیا جہاں حکام نے اسے جیل اسپتال میں داخل کرلیا۔
جیل ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ اجمل بیگ کے جسم پر بہیمانہ تشدد کے نشانات تھے لیکن میڈیکل رپورٹ میں یہ بات واضح نہیں تھی، اجمل کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیل لانے سے قبل دوران حراست اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جیل اسپتال میں مختلف ٹیسٹ کیے گئے تاہم اس کی حالت میں بہتری نہ آسکی پیر کو اجمل کی حالت بگڑنے پر اسے سول اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔
سول اسپتال میں دوران علاج دم توڑنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے یونٹ انچارج اجمل بیگ کو جیل حکام نے مکمل میڈیکل رپورٹ حاصل کرنے کے بعد جیل کسٹڈی میں لیا تھا۔
ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ اجمل بیگ ولد امتیاز بیگ کو موچکو پولیس لے کر آئی تھی جس کیخلاف اسلحہ آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج تھا جبکہ اجمل کو 18 مئی کی شب رینجرز نے ریلوے کالونی سے حراست میں لیا تھا،جیل ذرائع نے بتایا کہ21 مئی کو جس وقت اجمل بیگ کو جیل لایا گیا تھا تو اس وقت وہ شدید زخمی حالت میں تھا۔
جیل حکام نے اس کی کسٹڈی لینے سے انکار کیا تھا اورپھراسے میڈیکل کیلیے سول اسپتال لے جایا گیا، ایم ایل او قرار عباسی نے مبینہ طور پر بھاری رقم کے عوض میڈیکل رپورٹ تیار کی جس میں اسے کم زخمی ظاہر کیا گیا اور مبینہ طور پر متعدد چوٹوں کا ذکر تک نہیں کیا گیا،بعدازاں اجمل بیگ کو جیل لایا گیا جہاں حکام نے اسے جیل اسپتال میں داخل کرلیا۔
جیل ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ اجمل بیگ کے جسم پر بہیمانہ تشدد کے نشانات تھے لیکن میڈیکل رپورٹ میں یہ بات واضح نہیں تھی، اجمل کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیل لانے سے قبل دوران حراست اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جیل اسپتال میں مختلف ٹیسٹ کیے گئے تاہم اس کی حالت میں بہتری نہ آسکی پیر کو اجمل کی حالت بگڑنے پر اسے سول اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔