فضلہ محفوظ طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے پر اسپتالوں کو نوٹس کے اجرا کا فیصلہ

قانون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف مقدمات درج کرائے جائیں گے، ای پی اے کے ڈائریکٹرجنرل کی زیرصدارت اجلاس

حیدرآباد اور اندرون سندھ کے کسی بھی اسپتال میں ویسٹ مینجمنٹ کمیٹی ہی نہیں اور نہ ہی کسی بھی اسپتال میں فضلہ محفوظ طریقے سے جلانے کے لیے بھٹی کا انتظام ہے.

حیدرآباد اور اندرون سندھ کے سرکاری و نجی اسپتالوں کا فضلہ جلانے کے لیے بھٹی اور آپریشنز کے دوران جسم سے جدا کیے گئے انسانی اعضا کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہی کسی اسپتال میں ویسٹ مینجمنٹ کے سلسلے میں کوئی کمیٹی بنائی گئی ہے۔

جس کا انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے نوٹس لے لیا اور ایسے تمام اسپتالوں کو نوٹسز جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے طے کیا گیا ہے کہ آئندہ جو بھی اسپتال قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف مقدمات درج کر کے ای پی ٹی کو بھیجے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ای پی اے کے ڈائریکٹرجنرل سندھ کی زیرصدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اسپتالوں میں لوگ علاج کے لیے آتے ہیں لیکن نااہلی اور لاپرواہی کے باعث اسپتال ہی جراثیم و بیماری پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔




اسپتالوں کا فضلہ بلدیہ کے کچرے کے ڈھیروں میں ڈالا جا رہا ہے حیدرآباد اور اندرون سندھ کے کسی بھی اسپتال میں ویسٹ مینجمنٹ کمیٹی ہی نہیں اور نہ ہی کسی بھی اسپتال میں فضلہ محفوظ طریقے سے جلانے کے لیے بھٹی کا انتظام ہے اگر کہیں بھٹی ہے بھی تو وہ کام نہیں کرتی جبکہ کسی بھی اسپتال میں کچرا جمع کرنے کے لیے کوئی اسٹور نہیں اور نہ ہی فضلہ ٹھکانے لگانے کیلیے کسی سے کوئی معاہدہ ہے جبکہ بہت سارے نجی اسپتال تو محکمہ صحت سے رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ایسے اسپتالوں کی فہرستیں مرتب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جو ماحول دشمن اقدام پر اپنی روش تبدیل نہیں کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔
Load Next Story