گلشن معمار سے مغوی ڈاکٹر بازیاب اغوا کار ہلاک
سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی کارروائی میں ڈاکٹر سلیم بازیاب، مقابلے میں ایک اغوا کار کی۔۔۔
ڈاکٹر سلیم کھوکھر کو 28 مئی کو لیاقت آباد سے اغوا کرکے ملزمان نے رہائی کے لیے5 کروڑ تاوان مانگا تھا، جس گھر میں مغوی قید تھا اسے سیل کر دیا گیا،احمد چنائے۔ فوٹو : فائل
سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے ڈبلیو سی سی) نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے سپر ہائی وے گلشن معمار میں مقابلے کے دوران مغوی ڈاکٹر کو بازیاب کرالیا۔
جبکہ پولیس مقابلے میں ایک اغوا کار ہلاک اور دیگر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے،تفصیلات کے مطابق سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس نے سہراب گوٹھ کے علاقے گلشن معمار الحبیب سوسائٹی میں ایک مکان پر چھاپہ مارکر مقابلے کے بعد مغوی ڈاکٹر سلیم کھوکھر کو بحفاظت بازیاب کرا لیا اور ایک اغواکار کو ہلاک کردیا۔
سی پی ایل سی سندھ کے چیف احمد چنائے نے بتایا کہ ڈاکٹر سلیم کھوکھر کو ملزمان نے28 مئی کی شب لیاقت آباد سے اس وقت کار سمیت اغوا کیا تھا جب وہ اپنا کلینک بند کرکے جا رہے تھے بعدازاں ان کی کار ناظم آباد سے ملی تھی، ملزمان نے مغوی ڈاکٹر کے موبائل فون سے ان کے اہلخانہ کو فون کر کے رہائی کے عوض 5 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا جس پر ڈاکٹر کے اغوا کا مقدمہ لیاقت آباد تھانے میں دفعہ 365-A کے تحت درج کر کے تفتیش اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کو منتقل کردی گئی تھی، ملزمان اہلخانہ سے تاوان کی رقم طلب کرتے رہے۔
بعدازاں انھوں نے رقم کم کرتے ہوئے3 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا،اس دوران سی پی ایل سی اور اے وی سی سی ملزمان کا سراغ لگانے میں مصروف رہی اور ہفتے کی شام ملزمان کے ٹھکانے کا پتہ چل جانے پر مشترکہ چھاپہ مار کارروائی میں ایک اغوا کار کو ہلاک کرکے کلاشنکوف برآمد کرلی جبکہ اس کے دیگر 4 ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
احمد چنائے نے بتایا کہ جس گھر میں مغوی ڈاکٹر کو قید کیا گیا تھا اسے سیل کردیا گیا ہے اورگھرکے حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ ہلاک ہونے والے ملزم کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال لے جائی گئی، لاش کو تلاش ورثا کے لیے ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
جبکہ پولیس مقابلے میں ایک اغوا کار ہلاک اور دیگر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے،تفصیلات کے مطابق سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس نے سہراب گوٹھ کے علاقے گلشن معمار الحبیب سوسائٹی میں ایک مکان پر چھاپہ مارکر مقابلے کے بعد مغوی ڈاکٹر سلیم کھوکھر کو بحفاظت بازیاب کرا لیا اور ایک اغواکار کو ہلاک کردیا۔
سی پی ایل سی سندھ کے چیف احمد چنائے نے بتایا کہ ڈاکٹر سلیم کھوکھر کو ملزمان نے28 مئی کی شب لیاقت آباد سے اس وقت کار سمیت اغوا کیا تھا جب وہ اپنا کلینک بند کرکے جا رہے تھے بعدازاں ان کی کار ناظم آباد سے ملی تھی، ملزمان نے مغوی ڈاکٹر کے موبائل فون سے ان کے اہلخانہ کو فون کر کے رہائی کے عوض 5 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا جس پر ڈاکٹر کے اغوا کا مقدمہ لیاقت آباد تھانے میں دفعہ 365-A کے تحت درج کر کے تفتیش اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کو منتقل کردی گئی تھی، ملزمان اہلخانہ سے تاوان کی رقم طلب کرتے رہے۔
بعدازاں انھوں نے رقم کم کرتے ہوئے3 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا،اس دوران سی پی ایل سی اور اے وی سی سی ملزمان کا سراغ لگانے میں مصروف رہی اور ہفتے کی شام ملزمان کے ٹھکانے کا پتہ چل جانے پر مشترکہ چھاپہ مار کارروائی میں ایک اغوا کار کو ہلاک کرکے کلاشنکوف برآمد کرلی جبکہ اس کے دیگر 4 ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
احمد چنائے نے بتایا کہ جس گھر میں مغوی ڈاکٹر کو قید کیا گیا تھا اسے سیل کردیا گیا ہے اورگھرکے حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ ہلاک ہونے والے ملزم کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال لے جائی گئی، لاش کو تلاش ورثا کے لیے ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔