انٹرپول کے صدر مینگ ہونگ وائی ایک ہفتے سے لاپتہ
انٹرپول کے سربراہ فرانس میں اپنے ہیڈ آفس سے 25 ستمبر کو چین کے لیے روانہ ہوئے اور تاحال لاپتہ ہیں
انٹرپول کے سربراہ مینگ ہونگوی سے آخری بار 25 ستمبر کو رابطہ ہوا تھا۔ فوٹو : فائل
دورہ چین کے لیے جانے والے انٹرپول پولیس کے سربراہ مینگ ہونگ وائی 23 ستمبر سے لاپتہ ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرپول کے صدر مینگ ہونگ وائی 23 ستمبر کو فرانس کے شہر لیون میں اپنے ہیڈ آفس سے چین کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ 25 ستمبر سے اب تک اہل خانہ سمیت کسی سے بھی مینگ ہونگ وائی کا رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
انٹرپول کے صدر مینگ ہونگ وائی کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی گمشدگی سے متعلق لیون پولیس کو شکایت درج کرائی تھی۔ تاہم فرانسسی حکام کا کہنا ہے کہ سفری دستاویزات سے واضح ہوجاتا ہے کہ مینگ ہونگ وائی فرانس سے روانہ ہوگئے تھے۔
دوسری جانب ہانگ کانگ کے اخبار 'جنوبی چین مارننگ پوسٹ' نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ انٹرپول کے 64 سالہ سربراہ کو چین میں 'پوچھ گچھ' کے لیے روک لیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مقتدر حلقوں نے انہیں کس نوعیت کی انکوائری کے لیے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔
ادھر چین میں برسراقتدار جماعت کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ حکام نے انٹرپول کے سربراہ مینگ ہونگ وائی کے حکومتی تحویل میں ہونے پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کردیا ہے۔ حکومتی سطح پر تردید یا تصدیق نہیں کی جا رہی ہے۔
انٹرپول کی جانب سے بھی آج جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹرپول اپنے سربراہ کی گمشدگی سے واقف ہے۔ یہ فرانس اور چین کی حکومت کے درمیان معاملہ ہے جس میں انٹرپول کے جنرل سیکرٹری جیورگین اسٹاک کی لمحہ بہ لمحہ معاونت شامل ہے۔
چین سے تعلق رکھنے والے مینگ ہونگ وائی نے نومبر 2016 میں انٹرنیشنل پولیس ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ وہ چین کی برسر اقتدار جماعت کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما اور چین کے وزیر برائے عوامی تحفظ بھی رہے۔ وہ سیاست دان ہونے کے علاوہ ایک پولیس افسر بھی تھے جنہوں نے جرائم، انصاف اور پولیس کے شعبوں میں 40 سال گزارے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرپول کے صدر مینگ ہونگ وائی 23 ستمبر کو فرانس کے شہر لیون میں اپنے ہیڈ آفس سے چین کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ 25 ستمبر سے اب تک اہل خانہ سمیت کسی سے بھی مینگ ہونگ وائی کا رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
انٹرپول کے صدر مینگ ہونگ وائی کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی گمشدگی سے متعلق لیون پولیس کو شکایت درج کرائی تھی۔ تاہم فرانسسی حکام کا کہنا ہے کہ سفری دستاویزات سے واضح ہوجاتا ہے کہ مینگ ہونگ وائی فرانس سے روانہ ہوگئے تھے۔
دوسری جانب ہانگ کانگ کے اخبار 'جنوبی چین مارننگ پوسٹ' نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ انٹرپول کے 64 سالہ سربراہ کو چین میں 'پوچھ گچھ' کے لیے روک لیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مقتدر حلقوں نے انہیں کس نوعیت کی انکوائری کے لیے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔
ادھر چین میں برسراقتدار جماعت کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ حکام نے انٹرپول کے سربراہ مینگ ہونگ وائی کے حکومتی تحویل میں ہونے پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کردیا ہے۔ حکومتی سطح پر تردید یا تصدیق نہیں کی جا رہی ہے۔
انٹرپول کی جانب سے بھی آج جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹرپول اپنے سربراہ کی گمشدگی سے واقف ہے۔ یہ فرانس اور چین کی حکومت کے درمیان معاملہ ہے جس میں انٹرپول کے جنرل سیکرٹری جیورگین اسٹاک کی لمحہ بہ لمحہ معاونت شامل ہے۔
چین سے تعلق رکھنے والے مینگ ہونگ وائی نے نومبر 2016 میں انٹرنیشنل پولیس ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ وہ چین کی برسر اقتدار جماعت کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما اور چین کے وزیر برائے عوامی تحفظ بھی رہے۔ وہ سیاست دان ہونے کے علاوہ ایک پولیس افسر بھی تھے جنہوں نے جرائم، انصاف اور پولیس کے شعبوں میں 40 سال گزارے ہیں۔