تلہار پولیس کی سرپرستی میں منشیات کی کھلے عام فروخت
10 سے زائد فیکٹریاں زہریلا گٹکا بنانے میں مصروف، خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں.
10 سے زائد فیکٹریاں زہریلا گٹکا بنانے میں مصروف، خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں. فوٹو: فائل
تلہار میں ایک بار پھر گٹکے اور دیگر منشیات کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا، پولیس نے گٹکا فروشوں سے لاکھوں روپے ماہانہ بھتہ لینا شروع کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق ضلع بدین کے ڈی پی او نے ضلع بھر میں گٹکا اور دیگر منشیات کے فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی، لیکن تلہار پولیس نے اس حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے گٹکے اور منشیات کی فروخت کی کھلے عام اجازت دے دی ہے۔ تلہار پولیس گٹکا فروشوں سے ماہوار2 لاکھ روپیہ رشوت لے رہی ہے۔
دوسری جانب تلہار اور اس کے نواح میں10سے زائد گٹکے کی فیکٹریاں موجود ہیں، جہاں پر روزانہ لاکھوںروپے کا گٹکا بنتا ہے اور مختلف علاقوں میں فروخت کے لیے سپلائی کیا جاتاہے، گٹکے اور منشیات کے استعمال سے سینکڑوں لوگ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر گٹکے اور دیگر منشیات کی فروخت بند نہیں ہوئی تو خطر ناک موذی بیماریوں سے انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع بدین کے ڈی پی او نے ضلع بھر میں گٹکا اور دیگر منشیات کے فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی، لیکن تلہار پولیس نے اس حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے گٹکے اور منشیات کی فروخت کی کھلے عام اجازت دے دی ہے۔ تلہار پولیس گٹکا فروشوں سے ماہوار2 لاکھ روپیہ رشوت لے رہی ہے۔
دوسری جانب تلہار اور اس کے نواح میں10سے زائد گٹکے کی فیکٹریاں موجود ہیں، جہاں پر روزانہ لاکھوںروپے کا گٹکا بنتا ہے اور مختلف علاقوں میں فروخت کے لیے سپلائی کیا جاتاہے، گٹکے اور منشیات کے استعمال سے سینکڑوں لوگ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر گٹکے اور دیگر منشیات کی فروخت بند نہیں ہوئی تو خطر ناک موذی بیماریوں سے انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔